30 اکتوبر تک علاقہ خالی کریں، ورنہ کارروائی کی جائے گی: صوبائی حکومت کی قلات کے رہائشیوں کو دھمکی

0

بلوچستان حکومت کا شور پارود، قلات کے 5 ہزار خاندانوں کو 30 اکتوبر تک نقل مکانی کا حکم

بلوچستان حکومت نے ضلع قلات کے پہاڑی علاقے شور پارود میں آباد تقریباً 5 ہزار خاندانوں کو 30 اکتوبر تک علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ان خاندانوں میں تقریباً 30 ہزار افراد شامل ہیں، جنہیں مخصوص کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس منتقلی کے منصوبے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری محمد حمزہ شفقات نے بتایا کہ 30 اکتوبر علاقہ خالی کرنے کی آخری تاریخ ہے اور مقررہ مدت تک نقل مکانی نہ کرنے والے خاندانوں کے خلاف انتظامی کارروائی کی جائے گی۔

حکام نے دعویٰ کیا کہ شور پارود سرکاری زمین ہے اور علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی کے پیش نظر آپریشن کیا جائے گا، جس کے باعث وہاں آباد خاندانوں کو کیمپوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صوبائی حکومت نے پاکستانی فورسز کے احکامات پر نوشکی کے متعدد علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

اسی طرح رواں سال اپریل میں پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے سوراب میں شہریوں کو نقل مکانی کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم شہریوں کے انکار پر 25 سے زائد افراد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

بلوچستان کے سیاسی و سماجی تنظیموں سمیت مقامی افراد کی جانب سے بار ہاں صوبائی حکومت کے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ عمل سامنے نہیں آسکے ہیں۔