تربت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات، پنجگور میں بازار بند؛ اورنگزیب مجید کی بازیابی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس

90

وزیر داخلہ بلوچستان اور کور کمانڈر کی تربت آمد کی اطلاعات کے بعد شہر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ مسافر گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے اور آمدورفت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید کے بھائی اورنگزیب مجید کی گمشدگی کے معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے ممکنہ کارروائیوں اور علاقے کی مجموعی سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آئی جی ایف سی ساؤتھ اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام کی شرکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اجلاس میں کور کمانڈر نے اورنگزیب مجید کی جلد اور بحفاظت بازیابی کے لیے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں۔ اس سلسلے میں سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے کی تجویز پر بھی غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب، تربت شہر کے داخلی و خارجی راستوں سمیت مختلف سڑکوں پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سرکاری ملازمین کو دفاتر میں داخلے سے بھی روک دیا گیا، جس کے باعث محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، ڈپٹی کمشنر آفس، کمشنر آفس، لوکل گورنمنٹ اور محکمہ خوراک کے ملازمین سمیت وکلا اور سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ متعدد ملازمین اور دیگر افراد اپنے دفاتر اور عدالتوں تک نہیں پہنچ سکے، جبکہ پہلے سے موجود بعض ملازمین تاحال وہاں محصور ہیں۔

یاد رہے کہ اطلاعات کے مطابق، مینا مجید کے بھائی اورنگزیب مجید کو گزشتہ بدھ کے روز مند کے علاقے بلوچ آباد سے مسلح افراد اسلحے اور گاڑی سمیت اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔

علاوہ ازیں، ہنگامی صورتِ حال کے پیشِ نظر پنجگور شہر میں بازار مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث شہر کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں اور بازار سنسان ہو گئے ہیں۔

شہر کے مختلف چوراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر فورسز کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ غیر معمولی صورتِ حال کے باعث عام شہری گھروں تک محدود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، ملازمت پیشہ افراد اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بعد دفاتر آنے جانے کے ساتھ ساتھ گھروں کو بھی جا سکتے ہیں۔ تاہم، پنجگور کی اس صورتِ حال کے حوالے سے سرکاری حکام نے کوئی واضح مؤقف پیش نہیں کیا ہے۔