بی ایل اے نے سبی جھڑپوں میں جانبحق تنظیمی کمانڈر ہارون رشید بزدار کی تفصیلات جاری کردئے

316

بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے ہارون رشید بزدار عرف واھگ بزدار (مبارک) کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل ہکل پر جاری کردی ہیں، جنہیں تنظیم نے گشتی کمانڈر اور بلوچ قومی تحریک کے دیرینہ ساتھی کے طور پر بیان کیا ہے۔

بی ایل اے کے مطابق کمانڈر ہارون بزدار ولد عبدالرشید بزدار کا تعلق چنالہ، کوہِ سلیمان، ڈیرہ غازی خان سے تھا۔

تنظیم کے مطابق انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے سائیکالوجی میں بی ایس کی تعلیم حاصل کی، وہ تین سال تک بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد “بی ایس او آزاد” اور بعد ازاں تین سال تک بلوچ نیشنل موومنٹ “بی این ایم” سیاسی طور پر وابستہ رہے۔

تنظیم کے مطابق کمانڈر ہارون بزدار نے زمانہ طالب علمی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا، جبکہ بعد میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھا، اس دوران انہوں نے ڈیرہ غازی خان اور کوہِ سلیمان کے مختلف علاقوں میں بلوچ نوجوانوں کو قومی آزادی کی جانب راغب کرنے اور ان کی سیاسی و فکری تربیت میں کردار ادا کیا۔

بی ایل اے کے مطابق ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد ہارون بزدار نے 2022 میں تنظیم کے عسکری پلیٹ فارم سے بطور شہری گوریلا جدوجہد کا آغاز کیا اور تقریباً ایک سال تک شہری محاذ پر تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا، اکتوبر 2023 میں انہیں پہاڑی محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے بولان کے محاذ پر تنظیمی سرگرمیوں اور مختلف آپریشنز میں حصہ لیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ہارون بزدار نے سیاسی اور شہری محاذ پر حاصل کیے گئے تجربات اور علمی بصیرت کو جنگی محاذ پر استعمال کیا اور آپریشن ہیروف سمیت مختلف آپریشنز میں فرنٹ لائن کمانڈر کے طور پر متحرک رہے، ان کی جنگی صلاحیتوں اور کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں گشتی کمان کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

بی ایل اے کے مطابق بطور گشتی کمانڈر ہارون بزدار نے چمالنگ، کاہان اور بولان کے محاذوں پر تنظیمی توسیع، آپریشنل منصوبہ بندی اور عسکری و گوریلا سرگرمیوں میں کردار ادا کیا، جنگی سرگرمیوں کے ساتھ وہ قلم کے ذریعے بھی بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے آگاہی پیدا کرتے رہے اور واھگ بزدار کے قلمی نام سے مختلف موضوعات پر تحریریں بھی لکھیں۔

بی ایل اے کے مطابق کمانڈر ہارون بزدار 20 ستمبر 2026 کو لہڑی، سبی کے محاذ پر ایک آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔

تنظیم نے انہیں بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں ایک باصلاحیت مزاحمت کار اور باوقار ساتھی قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔