بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شعبہ انسانی حقوق کی جانب سے جنوری تا جون 2026 کے دوران بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری کی گئی ششماہی رپورٹ میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، شہری آبادیوں پر کارروائیوں، آزادی اظہار پر قدغنیں اور قانون کے سیاسی استعمال سے متعلق متعدد واقعات اور اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 507 افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 303 افراد تاحال لاپتہ ہیں، 150 افراد مبینہ غیر قانونی حراست کے بعد رہا کیے گئے، جبکہ 22 افراد کے بارے میں رپورٹ کے مطابق صورتحال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ 32 لاپتہ افراد کی لاشیں بعد ازاں مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگیوں سے متاثر ہونے والوں میں 44 کم عمر افراد، 16 سے زائد خواتین اور 135 طلبہ، اساتذہ اور محققین شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض طلبہ کو بلوچستان کے علاوہ اسلام آباد، کراچی، لاہور اور ملتان کے تعلیمی اداروں کے کیمپسز اور ہاسٹلز سے بھی حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں کوئٹہ کو 79 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قرار دیا گیا ہے، جبکہ کیچ میں 77، پنجگور میں 65، گوادر میں 55 اور کراچی میں 33 کیسز رپورٹ کیے گئے۔
رپورٹ میں بعض ریاستی اداروں پر بھی ان واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق فرنٹیئر کور پر 180، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پر 93 اور پاکستان فوج پر 42 کیسز میں براہِ راست ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ششماہی رپورٹ میں جنوری سے جون کے دوران 150 شہریوں کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں رپورٹ کے مطابق 15 کم عمر افراد شامل ہیں۔
رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ 48 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور ان کی لاشیں مختلف ویران علاقوں میں پھینک دی گئیں۔ اس کے علاوہ 34 افراد کو ٹارگٹ کلنگ، 34 کو فوجی کارروائیوں، 20 کو جعلی پولیس مقابلوں اور 15 کو ڈرون و مارٹر حملوں میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجگور میں 33، کیچ میں 29، گوادر میں 17 اور خضدار میں 16 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ مجموعی ہلاکتوں کا بڑا حصہ مکران اور آواران کے علاقوں میں رپورٹ ہوا۔
رپورٹ میں کراچی کے طالب علم حمدان بلوچ اور کوئٹہ کے درزی اسرار بلوچ کی ہلاکتوں کو بھی حراستی تشدد اور جعلی مقابلوں کی مثالوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
بی وائی سی کی رپورٹ میں بلوچستان کی علمی اور ادبی شخصیات کے قتل کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 مئی 2026 کو براہوئی زبان کے ادیب، محقق اور متعدد کتب کے مصنف پروفیسر غمخوار حیات کو نوشکی کے قریب فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں اس سے قبل اپنی ادبی اور علمی سرگرمیاں محدود کرنے کے لیے دھمکیاں دی جاتی رہی تھیں۔
رپورٹ میں تربت کے نوجوان محقق بالاچ خالد کے قتل کو بھی اسی نوعیت کے واقعات میں شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خضدار کے علاقے سوہندہ میں ایک کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 11 نہتے کسانوں، مزدوروں اور مسافروں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں سوہندہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔
گوادر کے کنٹانی کے علاقے میں بھی رپورٹ کے مطابق 11 مئی کو مقامی مزدوروں پر فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں موچن کپر میں تیل کے ڈپوؤں کو جلائے جانے اور اس کے نتیجے میں مقامی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اسی طرح رپورٹ کے مطابق 31 مارچ کو آواران کے علاقے کولواہ میں ایک رہائشی مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے محمد عمر، ان کی اہلیہ فائزہ اور ان کی 12 سالہ بیٹی ماہ زیب جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ 13 اپریل کو بارکھان کے مختلف دیہات میں فضائی بمباری کے نتیجے میں 12 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں متعدد بچے بھی شامل تھے۔
بی وائی سی کی ششماہی رپورٹ میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں طویل کرفیو، سڑکوں کی بندش اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث شہریوں کو علاج، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ ان اقدامات کو شہری آبادیوں پر اجتماعی دباؤ کے تناظر میں دیکھتی ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور جنیوا کنونشنز کے تحت ریاستی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھاتی ہے۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی اور دیگر قوانین کو سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاجی صبغت اللہ کے خلاف مقدمے اور سزا کا حوالہ دیتے ہوئے اسے پرامن سیاسی سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا سرگرمیوں کے باعث انہیں قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں سمی دین بلوچ، فوزیہ بلوچ اور دیگر خواتین کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور لاپتہ خواتین سے متعلق بھی متعدد دعوے شامل کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، پاکستانی عدلیہ اور ریاستی اداروں سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ بنیادی حقوق، آزادی اظہار، پرامن سیاسی سرگرمیوں اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے حق سے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں رپورٹ کیے جانے والے جبری گمشدگیوں، شہری ہلاکتوں، حراستی اموات اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شفاف، آزاد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے۔


















































