ماہ رنگ بلوچ امن، مذاکرات اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں، بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ نادیہ بلوچ

31

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کبھی بھی امن، مذاکرات یا بات چیت کے عمل سے انکار نہیں کیا۔ وہ امن پر پختہ یقین رکھتی ہیں اور ہر ایسی سنجیدہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہیں جو امن، انصاف اور ہم آہنگی کی طرف لے جائے۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں ہونے یا اس سے قبل، جس کسی نے بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے رابطہ کیا، وہ ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت کے لیے تیار رہی ہیں۔ بلکہ ماہ رنگ بلوچ خود بھی لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سیاسی جدوجہد اور ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی ہمشیرہ نے کہا کہ انہوں نے مختلف مواقع پر مذاکرات کیے ہیں، جن میں ستمبر 2022 میں اُس وقت کے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ مذاکرات، 2023 میں اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت، اگرچہ وہ کامیاب نہ ہو سکی، اور اگست 2024 میں گوادر میں راجی مچی کے دوران اور اس کے بعد بلوچستان حکومت کے ساتھ مذاکرات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ماہ رنگ بلوچ پہلے بھی مذاکرات کے لیے تیار تھیں، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی بات چیت کے لیے تیار رہیں گی۔”

ان کی ہمشیرہ کے مطابق بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو جنگ اور قتل و غارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ اپنی سیاسی سوچ اور پُرامن جدوجہد سے دستبردار ہو کر ان کے لیے کٹھ پتلی یا پراکسی کا کردار ادا کریں، تاہم ماہ رنگ بلوچ نے ایسے مطالبات کو متعدد مرتبہ مسترد کیا ہے۔

انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کیا جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل میں لاپتہ افراد کے لواحقین، ان خاندانوں جن کے پیاروں کو مبینہ طور پر قتل کرکے پھینک دیا گیا، اور ان خاندانوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جن کے عزیز برسوں سے لاپتہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ مذاکراتی عمل میں صرف اپنی ذات کی نمائندگی نہیں کریں گی بلکہ ان متاثرہ خاندانوں کی نمائندہ آواز کے طور پر بھی شریک ہوں گی، اور ان کے مطالبات مذاکرات کا لازمی حصہ ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملنا چاہیے، ان کے پیاروں کے بارے میں سچ سامنے آنا چاہیے اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ نے کہا کہ امن اور مذاکرات کا مطلب متاثرین کے درد، ان کے مطالبات اور بنیادی حقوق کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ ایک بامعنی، منصفانہ اور پائیدار مذاکراتی عمل وہی ہوگا جس میں متاثرہ خاندانوں کی آواز سنی جائے اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔