بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 11 ستمبر 2026 کو مند کے علاقے کوہ ڈغار میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں اپنے تنظیمی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا اور قابض پاکستانی فوج اور اس کے سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں ہمارے سرمچاروں نے 10 ستمبر 2026 کو خاران کے علاقے یکمچ میں ٹٹگار کے مقام پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں کے مسلسل حملوں کے باعث خوفزدہ قابض فوج کا یہ قافلہ اپنی نقل و حرکت کے لیے سویلین گاڑیوں کا استعمال کر رہی تھی، اس قافلے میں شامل فوجی اہلکاروں کو منتقل کرنے والی 2 بسیں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 6 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے کہا کہ تنظیم تمام ٹرانسپورٹرز اور گاڑی مالکان کو سخت تنبیہ کرتی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو قابض فوج کی نقل و حرکت، راشن کی فراہمی یا معاونت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ قابض فوج جہاں بھی ہوگی وہ سرمچاروں کے ہدف پر ہے، لہٰذا سویلین ٹرانسپورٹرز فوج کو سہولت فراہم کرنے کی صورت میں اپنے ہر قسم کے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے بعد قابض فوج نے سرمچاروں کو گھیراؤ میں لینے کی نیت سے ہرماگے کے ریگستانی علاقے میں سرمچاروں کے خلاف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تاہم مستعد سرمچاروں نے ان پر جوابی حملہ کر کے دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بنا دیا اور فوج کو مزید نقصان اٹھا کر پسپا ہونا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ اسی روز سرمچاروں نے کیچ کے علاقے ناصرآباد سے نودز تک مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ سرمچاروں نے عام عوام کی ٹریفک کی روانی کو متاثر کیے بغیر اپنے مقررہ وقت تک ناکہ لگاکر آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی کا عمل جاری رکھا۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں تنظیمی اثر و رسوخ برقرار رکھنا اور قابض فوج و اس کے مقامی سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ سرمچاروں کے باحفاظت نکل جانے کے بعد قابض فوج کے قافلے اور کواڈ کاپٹرز ناکہ بندی کے جگہ پر پہنچے کر اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی اور عام شہریوں کو ہراساں کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی روز ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے زامران کے علاقے ڈیل کِک میں واقع قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے ہمہ جہت حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن فورسز کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ علاوہ ازیں، اسی تاریخ کو ہمارے سرمچاروں نے تمپ کے علاقے رودبن میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر پہلے گرینیڈ لانچرز سے متعدد گولے داغے جو عین اپنے اہداف پر جا گرے۔ اس کے بعد سرمچاروں نے دیگر جدید و بھاری ہتھیاروں سے کیمپ کے حفاظتی مورچوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 9 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تربت کے علاقے خیرآباد میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے وہاں سے گذرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی کو روکا۔ تاہم اسسٹنٹ کمشنر خود مذکورہ گاڑی کے بجائے عقبی گاڑی میں سوار تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سرمچاروں نے اسسٹنٹ کمشنر کے سیکیورٹی گارڈز کا تمام سرکاری اسلحہ و حربی سامان اپنے قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد قابض فوج نے فضا میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملے کی کوشش کی مگر مستعد سرمچاروں نے جوابی فائرنگ کر کے حملے کو ناکام بنا دیا اور دشمن کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ یکم ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے دشت کے علاقے میں پٹوک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کی پیکٹ چوکی پر جانے والی گشتی ٹیم کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانے پر لیا۔ فائرنگ کی زد میں آنے سے فوج کی 1 گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ گاڑی میں سوار متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مذکورہ بالا تمام کارروائیوں، ناکہ بندیوں اور قابض فوج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کی کامل ذمہ داری قبول کرتی ہے۔













































