وڈھ واقعہ جبر کا تسلسل ۔ ٹی بی پی اداریہ
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ، کلی یار محمد سونارو میں 10 ستمبر کی رات تقریباً 10 بجے پاکستانی فورسز نے شادی والے ایک گھر پر براہِ راست فائرنگ کرکے چار افراد کو قتل جبکہ خواتین سمیت متعدد افراد کو زخمی کردیا۔ جہاں خوشی والے گھر کو ماتم میں بدل دیا گیا۔ واقعے کے خلاف مقتولین کے لواحقین نے میتوں کے ہمراہ کراچی شاہراہ پر دھرنا دے کر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
یہ بلوچستان میں اپنی نوعیت کا نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی اسے کسی ایک علاقے تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ اگر صرف رواں اور گذشتہ ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو قلات، مستونگ، نوشکی، سوراب اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں پاکستانی فورسز نے عام لوگوں کو براہِ راست فائرنگ سے یا ڈرون، ہیلی کاپٹر اور جنگی طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
یہ تمام واقعات ایک وسیع تر اور مسلسل صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وڈھ میں ایک شادی والے گھر پر فائرنگ ہو یا عام آبادی کو فضائی کارروائی کےذریعے نشانہ بنایا جانا، طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے لیکن اس کے نتائج ایک جیسے ہیں، قتل، زخمی افراد، تباہ شدہ خاندان اور خوف کے سائے میں زندگی۔
یہ صورتحال بلوچ نسل کشی کے ایک طویل سلسلے کا حصہ ہے، جس کا سامنا بلوچ قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتی آرہی ہے۔ وقت کے ساتھ جبر کے طریقے ضرور تبدیل ہوئے ہیں، مگر اس کے اثرات اور نتائج میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں طاقت کے ذریعے ریاستی رِٹ برقرار رکھنے کی مسلسل کوششوں سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ ریاست اپنی موجودہ پالیسیوں اور جبر کے ذریعے اپنے موجودگی کو برقرار رکھنے کی آخری کوشش کر رہی ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ طاقت کے زور پر دبائی جانے والی آوازیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، وہ وقت کے ساتھ مزید شدت اور قوت کے ساتھ دوبارہ ابھر کر سامنے آتی ہیں۔













































