بلوچستان کے علاقے وڈھ میں کلی یار محمد سونارو، گرگناڑی میں گزشتہ شب تقریباً 10 بجے فرنٹیئر کور (ایف سی) کی فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد کے جاں بحق اور متعدد کے زخمی ہونے کے واقعے پر بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ زخمیوں میں سات سالہ بچہ شہزیب بھی شامل ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے بیان میں بلوچستان میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے خلاف سنگین اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ماورائے عدالت قتل، شہریوں کے زخمی ہونے، جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کلی یار محمد سونارو میں چار شہریوں کی ہلاکت اور سات سالہ شہزیب سمیت دیگر افراد کا زخمی ہونا فوجی کارروائیوں کی تباہ کن انسانی قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے مطابق بلوچ شہریوں کے خلاف فوجی طاقت کا بار بار استعمال، بچوں کی ہلاکت یا زخمی ہونا اور آبادیوں میں مسلسل خوف کو محض الگ تھلگ واقعات قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کا یہ مسلسل سلسلہ بلوچ آبادی کو دبانے اور اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی دانستہ اور منظم پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے ’’نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شادی کی تیاریوں میں مصروف ایک گاؤں کو سوگ کی بستی میں تبدیل کر دیا گیا۔ ان کے بیان کے مطابق رات تقریباً 10 بجے کلی یار محمد سونارو، وڈھ میں ایف سی حملے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں سات سالہ شہزیب بھی شامل ہے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ چار جانوں کے ضیاع سے خاندان تباہ اور خوشی کی تقریب سوگ میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا کی توجہ حاصل کرنے سے پہلے مزید کتنی بے گناہ جانیں ضائع ہونا ہوں گی۔
سمی دین بلوچ نے بھی واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ کلی یار محمد سونارو، وڈھ میں ایف سی کی فائرنگ سے چار شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں سات سالہ شہزیب بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات سالہ بچے کو گولی لگنا اور چار شہریوں کی ہلاکت فوجی کارروائیوں کی انسانی قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔
سمی دین بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچ عوام کے لیے اس نوعیت کا تشدد نہ نیا ہے اور نہ ہی کوئی غیر معمولی واقعہ۔ ان کے مطابق بلوچستان میں شہریوں کے قتل، جبری گمشدگیوں، گھروں پر چھاپوں، خاندانوں کو ہراساں کرنے اور نوجوانوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کتنے بلوچ شہریوں کے قتل کے بعد کسی کارروائی کو ’’سکیورٹی آپریشن‘‘ کہنا بند کیا جائے گا اور کتنے بچوں کو گولی لگنے کے بعد ان کی زندگیوں کو تحفظ کے قابل سمجھا جائے گا۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ سات سالہ شہزیب کو گولی نہیں لگنی چاہیے تھی اور چار شہریوں کو ہلاک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے بقول شہریوں کی ہلاکتیں سکیورٹی برقرار رکھنے کی قابل قبول قیمت نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ بچے بندوقوں کے سائے میں پرورش پانے پر مجبور نہیں کیے جا سکتے اور شہریوں کو قتل، جبری گمشدگی، حراست اور خوف کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
















































