بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان شولان بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی ایس او ڈاڈا ء بلوچستان، شہید نواب اکبر خان بگٹی کو ان کے بیسوئیں شہادت کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانی کو بلوچ قومی تحریک میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
شولان بلوچ نے کہا ہے اکبر خان نے اپنی شہادت سے پوری بلوچ قومی تحریک سمیت دنیا بھر میں وہ تاریخ رقم کردی جو دنیا کی تاریخ میں شائد ہی کہیں نظر آئے، انہوں نے ضعیف العمر ہونے کے باوجود مزاحمت کا راستہ چن کر قابض کو دو ٹوک الفاظ سمیت اپنی کردار سے واضح کردیا کہ وہ ہمیں قتل تو کرسکتے ہیں مگر ہم سے ہماری آزادی کا حق نہیں چین سکتے۔
تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے شہید نواب اکبر خان بگٹی کی سیاسی سفر کو سمجھنے کے لئے ان کی زِندگی اور خیالات کے بارے میں مطالعہ کرنا لازمی ہے، ان کی سیاسی جدوجہد کو مسخ کرنے کے لیے قابض نے کئی منفی افواہیں پھیلائے ہیں، ان کی سیاسی سفر قابض کی فریب و دھوکہ، اپنوں کی دغابازی سمیت کئی پیچیدگیوں پر مشتمل ہے۔
شولان بلوچ نے کہا انہوں نے کٹھ پتلی پاکستانی پارلیمانی نظام کا حصہ بن کر بلوچوں کی خودمختارانہ نمائندگی کرنے کی کوشش کی، جس کے پاداش میں انہیں ہمیشہ وزارت سے نکالا گیا یا حکومت توڑ دی گئی، ان کی یہی چیز منفرد تھی کہ ناانصافی و ظلم کے خلاف انہوں نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اس کے خلاف مزاحمت کی، چاہے وہ وزارت و پارلیمانی سیاست کی خیربادی ہو یا آخری عمر میں مزاحمتی راستہ ہو، وہ ہمیشہ قابض کے خلاف اٹھتا رہا۔
ترجمان نے کہا ہے اگر بلوچ معیار اور کوڑ آف کنڈکٹ کی پیروی کرنے پر بات ہو تو اکبر خان ہی وہ بزرگ بلوچ رہنما تھے جنہوں نے بلوچ قومی معیار کی پاسداری کرکے اپنی عمل سے شہید محراب خان کی تاریخ دہرائی۔
انکے مطابق کئی حلقے شائد ان کی پارلیمانی نظام کا حصہ ہونے کے باب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، مگر ان کی سیاسی سفر کو سمجھنا اہمیت کا حامل ہے، شائد ہی وہ دور ان کی سیاسی سفر میں سیاہ ابواب ہیں جن کا اعتراف بعد میں انہوں نے عملی طورپر کیا، ان کی آخری دور میں تاریخ رقم کرنے والی مزاحمت یہی ثابت کرتی ہے کہ ان کا کٹھ پتلی پارلیمانی نظام میں حصہ ہونا ایک ناکام تجربہ تھا۔
بی ایس او آزاد نے اپنے بیان میں کہا ہے ان کی آخری مزاحمتی دور کو صرف کچھ واقعات سے جوڑنا ان کی کردار اور عظیم قربانی سے ایک ناانصافی ہے۔ دوہزار کے بعد قومی آزادی کے حوالے سے ان کے خیالات اور سیاسی رخ مزید پختہ ہوکر ابھرے جہاں وہ قومی آزادی کی تحریک کو دوٹوک الفاظ میں حمایت کرتے تھے، اور بالاخر انہوں نے آخری فیصلہ کرکے میدان میں مزاحمت کا راستہ چن کر بلوچستان میں قابض کی تمام جڑیں ہلا کر رکھ دیے۔
شولان بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ایک علم دوست اور بلوچی زُبان سے دلی محبت کرنے والے رہنما تھے، انہیں بلوچی گیدی داستانیں نہ صرف زبانی یاد تھے بلکہ ہر مجلس میں وہ بلوچ مزاحمتی تاریخ پر گفتگو کرتے تھے، بلوچی زُبان کو محفوظ رکھنے کے لیے انہوں نے علمی مجلسوں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا تھا جہاں وہ نوجوانوں کو بلوچی مزاحمتی داستانوں اور تاریخ پر درس دیتے تھے۔ ان کے علمی بصیرت ان کے کردار و افکار سے واضح ہیں۔
بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے کہا 26 اگست 2006 بلوچ قومی تاریخ میں وہ دن ہے جہاں ڈیرہ بگٹی میں تراتانی کے سنگلاخ پہاڑوں پر بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر خان نے وہ عظیم تاریخ رقم کردی جو شائد ہی الفاظوں سے بیان ہو، ان کو قابض پاکستانی فوج نے شہید کرکے اپنی جارحانہ اور مکار چہرے کو بلوچ قوم کے سامنے ایک بار پھر واضح کردیا کہ بلوچ اور قابض کے درمیان میں رشتہ صرف قابض اور مقبوضہ کا ہے، اور اکبر خان کی مزاحمت اور شہادت نے یہی ثابت کردیا کہ قابض ایک فرد کو قتل کرسکتا ہے مگر ایک قوم کو زیر نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا ان کی شہادت نے بلوچ قوم کو ایک بار پھر بیدار کرتے ہوئے انہیں مزاحمت کا راستہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کی بیس برس گزرنے کے باوجود بھی ان کی مزاحمتی کردار آج بلوچ قوم کی یاداشتوں میں پیوست ہوکر ان کی رہنمائی کررہی ہے۔
مرکزی ترجمان نے مزید کہا ان کی مزاحمت ان لوگوں کے لیے بھی ایک سبق ہے جو آج بھی قابض پاکستانی پارلیمنٹ کا حصہ ہوکر خود کو اور بلوچ قوم کو دھوکہ دے رہیں ہیں، انہیں شہید نواب اکبر خان بگٹی کا خون کبھی بھی معاف نہیں کرے گا اسی لیے وہ اپنا قبلہ درست کرکے تاریخ سے کچھ سیکھ کر قابض کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائیں اور اپنی قومی آزادی اور بلوچ قومی ریاست کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں۔
بی ایس او ترجمان نے آخر میں کہا بلوچ مزاحمت کا چیدہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کو ان کی بیسویں شہادت کے موقعے پر خراجِ عقید پیش کرتے ہیں، بلوچ نوجوانوں سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو ان کی عظیم مزاحمتی کردار کو مطالعہ کرکے ان کی پیروی کرنا اور قومی جدوجہد کا حصہ بن کر قابض کو بلوچستان میں نیست و نابود کرنا دورِ حاضر کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔















































