bisexuality یا grooming? – سنگت ھانلی

94

bisexuality یا grooming ?

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

سفید بکریوں کا ایک ریوڑ اپنے پرسکون رہنماء بکرے کے پیچھے خوف زدہ اور بدحواس انداز میں چلا جا رہا تھا۔
چلتے چلتے پورا ریوڑ ایک مذبح خانے (slaughter house) میں داخل ہو گیا، وہاں پہنچتے ہی ایک چھوٹا سا دروازہ صرف اس سیاہ بکرے کے لیے کھولا گیا۔ ٹریٹر اس دروازے سے بحفاظت باہر نکل گیا، جبکہ اس کے پیچھے آنے والا پورا ریوڑ وہیں ذبح کر دیا گیا۔

اس بکرے کی جان اس لیے ہر بار بخش دی جاتی ہے کہ وہ ریوڑ کو مذبح خانے تک پہنچانے کا کام انجام دیتا ہے۔ اس کے بدلے اسے ایک معمولی سا انعام دیا جاتا، جس کے تاریخی حوالوں میں انیسویں صدی کے دوران سگریٹ کا ذکر ملتا ہے۔ یوں وہ نکوٹین کا عادی بکرا ہر بار ایک ریوڑ کو اس کی منزل تک پہنچاتا، اپنی جان بچا کر اپنا انعام وصول کرتا اور پھر اگلے ریوڑ کے لیے اسی عمل کو دہراتا رہتا۔

اس بکرے کو Judas Goat کہا جاتا ہے۔

ہر معاشرے میں جیوڈس گوٹس موجود ہوتے ہیں۔ بالخصوص ان معاشروں میں جو جنگ، تصادم اور مسلسل سیاسی اضطراب سے گزر رہے ہوں، دشمن ریوڑ کے اندر سے ایک ایسا فرد تلاش کرتا ہے جو باقیوں کے لیے قابلِ اعتماد ہو، مگر خود اُسی قوت کے ہاتھ میں ہو۔ بلوچ سماج میں یہ جوڈس بکرے اکثر سردار، میر، ٹکری یا ریاستی پشت پناہی میں پلنے والے ڈیتھ سکواڈز ہوتے ہیں۔

بہرال ، کسی سینسرڈ موضوع پر لکھنے سے پہلے سب سے مشکل مرحلہ اس کے لیے ریسرچ کرنا ہوتا ہے۔ میں نے اس موضوع پر تحقیق شروع کی تو نہ کوئی ایسی کتاب آسانی سے دستیاب تھی جو اسے واضح طور پر زیرِ بحث لاتی، نہ ایسا مواد جس سے اس مسئلے کو اطمینان سے سمجھا جا سکے۔ اس کے برعکس، کنسینٹڈ سیکشول وائلینس کی مثالیں میری آنکھوں کے سامنے بے شمار تھیں۔

مگر کیا اس مسئلے کو ٹیبو اور ممنوع بنا دینا اسے ختم کردیتا ہے؟ آنکھیں بند کر لینے سے صرف منظر نگاہ سے اوجھل ہوتا ہے، یا حقیقت بدل جاتی ہے؟۔ ہم کسی مسئلے کو دیکھنے سے انکار کر سکتے ہیں، مگر اسے وجود سے خارج نہیں کر سکتے۔ کیا ہم واقعی اس گمان میں رہنا چاہیں گے کہ جس چیز سے ہم جتنا بے خبر رہیں گے، اس سے اتنا ہی دور رہیں گے؟ ایسا نہیں ہوتا۔ لاعلمی تحفظ نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو سیکشول وائلینس سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس موضوع کو سمجھنا ہوگا، اس پر بات کرنی ہوگی اور اوئیرنیس پیدا کرنی ہوگی۔ اگر ہم واقعی اپنی یوتھ کو باشعور، فکری طور پر پختہ اور راج و آزادی دوست دیکھنا چاہتے ہیں تو جب ہمارا کوئی نوجوان اس کرس میں مبتلا ہو اسے رد کرنے کو حل نہیں سمجھیں گے، اسے اس کرس سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کے فکری عمل کو اپنائیں گے۔

لیکن اس بحث سے پہلے ایک بنیادی ڈسٹنکشن میں واضح کرنا چاہوں گی کہ کسی چیز کو سمجھنے کی کوشش کرنا، اسے جسٹیفائی کرنا نہیں ہوتا۔ اگر ایک شخص نے دوسرے شخص کو قتل کیا ہے اور ہم یہ جاننا چاہیں کہ وہ قتل تک کیوں اور کیسے پہنچا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس قتل کو درست قرار دے رہے ہیں؟ یا وجہ جاننے کے بعد قاتل کیلیے عمدردی و سافٹ کارنر اپنے دل میں پیدا کرلیں؟ ہرگز نہیں۔ ہم صرف اس کے محرکات اور ذہنی عمل کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی طرح، کیا میں اس موضوع کو کسی حد تک سمجھتی ہوں؟ ہاں۔ کیا میں اس سے متفق ہوں؟ بالکل نہیں۔ کیا میں اس میں مبتلا افراد کے عمل کو معصوم اور مورلی جسٹیفائیڈ کہتی ہوں؟ بالکل نہیں۔

یہاں ایک اور اکسیپشن ضروری ہے کہ ایک بالغ شخص اور ایک نا سمجھ بچے کو ایک ہی اخلاقی پیمانے پر پرکھا نہیں جا سکتا۔ جس بچے میں کسی عمل کی نوعیت، اس کے نتائج اور مینیپولیشن کو سمجھنے کی مکمل صلاحیت ہی موجود نہ ہو، اسے مجرم قرار دینا خود ایک ناانصافی ہے۔

البتہ جہاں شعور، عمر اور اختیار موجود ہو، وہاں انتخاب کی ذمہ داری بھی موجود رہتی ہے۔ جیسے ایک براہوی ضرب المثل میں کہا جاتا ہے کہ

خو ہنا با ملوکے ڈو ءِ تینے ہن حیا برے

یعنی اگر کسی شخص کے سامنے اختیار موجود بھی ہو اور اسے کسی عمل کی نوعیت کا ادراک بھی ہو، تو اپنے انتخاب کی ذمہ داری اسکے اپنے ہاتھ میں ہے۔

خیر اس موضوع کی سنگینی کا احساس مجھے تب ہوا جب ایک روز خبر آئی کہ ایک لڑکے نے اپنے ایک پڑوسی پر فائرنگ کرکے اسے قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابتدائی تاثر یہی تھا کہ دونوں کے درمیان کوئی ذاتی تنازع ہوا ہوگا اور کم عمری کے باعث لڑکے نے جذبات میں آ کر گولی چلا دی ہوگی۔ مگر یہ وضاحت میرے لیے ناقابلِ یقین تھی۔ میں اس بچے کو اچھے سے جانتی تھی، وہ ایک بلوچ کاز سے واقف، بااخلاق اور سنجیدہ لڑکا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ ایسا بچہ اچانک کسی انسان کو قتل کرنے کی کوشش تک کیسے پہنچ گیا ؟

پھر جب اس واقعے کی تہہ تک جانے کی کوشش کی تو کہانی نے ایک بالکل مختلف رخ اختیار کر لیا۔ اس سولہ سالہ لڑکے نے کافی عرصے سے اپنی رضامندی کے ساتھ ہم جنسی جسمانی تعلق رکھا ہوا تھا، وقت کے ساتھ اس تعلق میں ویڈیوز، پیسوں کے لین دین اور مختلف مطالبات شامل ہوتے گئے۔ جو چیز ابتدا میں اس کے اپنے اختیار میں دکھائی دیتی تھی، جہاں ایموشنل اٹینشن اور تحائف پہلے اسے مل رہے تھے اب رفتہ رفتہ اسی شخص نے لڑکے کو ایک ایسے دائرے میں لا کھڑا کیا جہاں اس کی پرائیویٹ زندگی دوسروں کے ہاتھ میں تھی اور واپسی کا راستہ مسلسل سکڑتا جا رہا تھا۔ ایک دن پیسوں کا مطالبہ حد سے بڑھ گیا، اور اسی مقام پر لڑکے نے اس کھیل کو کھیلنے والے شخص پر ہی فائرنگ کر دی۔

وہ شخص تو زندہ بچ گیا، مگر معاملہ وہیں ختم نہیں ہوا۔ ہسپتال سے نکلنے کے بعد اس آدمی نے وہ ویڈیو لیک کرکے لڑکے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دیا، یہاں تک کہ لڑکے نے اپنی جان لینے کی کوشش تک کی۔ اس واقعے کے بعد جب میں نے مزید کھوج کی تو ایسی حقیقت سامنے آئی جس نے اس واقعے کو محض ایک فرد کا معاملہ سمجھنے کی گنجائش بھی ختم کر دی۔ اس نیٹورک میں ملوث افراد ڈیتھ سکواڈز سے وابستہ تھے، اور انہیں حاصل impunity نے اس پورے عمل کو مزید بے خوف بنا دیا تھا۔ یہ لڑکا پہلا نہ تھا نہ ہی اس دائرے میں صرف کم عمر بچے تھے، بلکہ بالغ افراد، پڑھے لکھے، اَن پڑھ، مختلف سوشل اور فائنینشل بیک گراؤنڈ رکھنے والے کئی نوجوان اس کی گرفت میں آ چکے تھے۔ جو چیز کبھی بلوچستان کے چند مخصوص علاقوں تک محدود تھی، اب اس کے اثرات ہر طرف دکھائی دے رہے تھے۔

اب ہمیں سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اس نیٹورک میں یوتھ کو کیسے داخل کیا جاتا ہے؟ ان کی گرومنگ کس طرح شروع ہوتی ہے؟ کس طرح یہ بظاہر معمولی اور رضاکارانہ تعلق رفتہ رفتہ ڈیپینڈینسی، مینیپولیشن اور پھر کچھ کیسز میں بلیک میلنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے؟ اور آخرکار ایک نوجوان کس طرح اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں وہ خود کو مسلسل وائلیٹ ہوتے دیکھتا ہے مگر کچھ کر نہیں پاتا؟

لفظ گروومنگ اپنے بنیادی مفہوم میں کسی شخص کو کسی خاص مقصد یا صورتِ حال کے لیے آہستہ آہستہ تیار کرنے کے معنی رکھتا ہے۔ لیکن سیکشول گرومنگ کے کانٹیکسٹ میں اس کا مفہوم کہیں زیادہ سنگین ہے۔ یہاں کسی نوجوان کو براہِ راست کسی عمل پر مجبور کرنے کے بجائے، پہلے اسے ذہنی اور جذباتی طور پر اس مقام تک لایا جاتا ہے جہاں وہ غیرمہذب باتوں اور جسمانی تعلق کو قبول کرنے لگے جنہیں ابتدا میں شاید وہ قبول نہ کرتا۔

گرومنگ کسی کو براہِ راست اپنے زیرِ اثر لانے سے شروع نہیں ہوتی۔ ایک مینیپولیٹر پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کون سا نوجوان اٹینشن، مالی مدد، مینٹورشپ یا ایموشنل سپورٹ کا محتاج ہے۔ پھر اس نوجوان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے، اسے سپیشل ٹریٹمنٹ دی جاتی ہے اور اس کی بات سنی جاتی ہے۔

اس کے بعد باؤنڈریز کو دیکھا جاتا ہے۔ ابتدا میں پرائیویٹ کنورسیشنز ،، نامناسب جوکس، ذاتی سوالات یا غیر ضروری فزیکل سوالات جیسی نسبتاً چھوٹی چیزیں پوچھی جاتی ہیں۔ اگر رزسٹینس کم محسوس ہو تو باؤنڈریز آہستہ آہستہ مزید آگے بڑھائی جاتی ہیں۔ ہر نئی حد پچھلی حد کے مقابلے میں ایک قدم آگے کی طرف ہوتی ہے۔ اگر سامنے والا جوان واضح اور مضبوط رزسٹینس دکھائے تو manipulator پیچھے ہٹ جاتا ہے، کیونکہ گرومنگ کا بنیادی مقصد زبردستی کچھ کرنا نہیں بلکہ آرام سے ایکسیس حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اس کے بعد تحائف، پیسے، بلوچستان کے اکثر کیسز میں آئی فونز، اور بائکس کے ذریعے تعلق میں ایک طرح کی بے تکلفی پیدا کی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہی فیورز نفسیاتی طور پر ایک احسان میں تبدیل ہوتے ہیں۔ پھر یہی جملہ استعمال کیا جاتا ہے کہ “میں نے تمہارے لیے اتنا کچھ کیا ہے۔” یوں نوجوان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب اسے بھی اس تعلق کے بدلے کچھ دینا چاہیے۔

اس پورے عمل میں isolation شاید سب سے اہم مراحل میں سے ایک ہے۔ مینیپولیٹر کوشش کرتا ہے کہ تعلق مخفی رہے اور نوجوان اپنے دوستوں اور خاندان سے اس بارے میں بات نہ کرے۔ اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ “وہ تمہیں نہیں سمجھتے”، “وہ تمہارا بھلا نہیں چاہتے”

اگر نوجوان پہلے ہی childhood trauma, family conflict یا کسی abusive ماحول کا زکر اپنے مینیپولیٹر سے کرچکا ہو تو وہ انہی شکایات کو اس کے خلاف استعمال کریگا، تاکہ وہ اپنے support system سے مزید بدظن ہو جائے۔ اسی لیے کسی نوجوان کا اپنے دوستوں یا خاندان سے جڑے رہنا ایک حفاظتی فیکٹر بن سکتا ہے۔

اس کے بعد نارملاہزیشن آتی ہے۔ جو چیز ابتدا میں غیر مناسب محسوس ہوتی تھی، اسے بار بار جوکس، یا “سب لوگ ایسا کرتے ہیں” جیسے جملوں کے ذریعے عام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ سیکسوفون کا الارم کم ہونے لگتا ہے اور نوجوان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے پیچھے ہٹ سکتا ہے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔

اس دائرے میں پھنسے وکٹم کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ کسی بھی مرحلے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنے خاندان یا محفوظ مددگار تک یہ بات پہنچائی جائے اور محض خوف کی وجہ سے مینیپولیٹر کے ڈیزائرز پورے کرتے رہنے سے انکار کیا جائے۔ بلیک میلنگ کی طاقت صرف اور صرف اس خوف اور گلٹ سے ہوتی ہے جو وکٹم کے دل میں پیدا کی گئی تھی۔

یہ ایک منظم استحصالی نظام ہے جس میں جیوڈس گوٹس ایک بکرے کو زبح خانے تک پہنچانے کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے شکار کی طرف جاتے ہیں۔ یعنی جب ایک جوان اس سرکل کا عادی ہوجائے اور پوری طرح ڈسٹریکٹ ہوچکا ہو تو مینیپولیٹر اپنے لیے دوسرا وکٹم تلاش کرلیتا ہے۔ حالانکہ خود بھی وہ اسی ریاستی نظام کا ایک استعمال شدہ پرزہ ہوتا ہے لیکن جس دن جیوڈس گوٹ کی طرح وہ بکرے لانا بند کریگا اسی دن اُس کے خود کے خون کو سلاٹر ہاؤس کی زینت بنادیا جائیگا۔

رومی شاعر جووینال نے Bread and Circuses کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ایک سیاسی رویے کی نشاندہی کی جس میں حکمران عوام کو سیاسی اختیار، شعور اور فیصلہ سازی دینے کے بجائے خوراک، تماشے اور تفریح فراہم کرکے ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک نوجوان اپنے اردگرد ہونے والی جنگ، استحصال اور سیاسی جبر سے لاتعلق ہونے لگتا ہے۔

اسی خیال کی ایک زیادہ خوب صورت تصویر ہومر کی Odyssey میں Lotus Eaters کے جزیرے میں ملتی ہے۔

ہومر کی Odyssey قدیم یونان کی ایک رزمیہ نظم ہے جس میں اوڈیسیئس کی ٹرائے کی جنگ کے بعد اپنے گھر واپس لوٹنے کی طویل داستان بیان ہوتی ہے۔ اس سفر میں وہ ایک ایسے جزیرے پر پہنچتا ہے جہاں کے لوگ Lotus کھاتے ہیں اور پھر اپنے گھر، اپنے ماضی اور واپس جانے کی خواہش تک بھول جاتے ہیں۔ اوڈیسیئس کے ساتھی بھی جب Lotus کھاتے ہیں تو انہیں واپسی کی کوئی فکر نہیں رہتی, انہیں وہیں رہنا اچھا لگتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں distraction اپنی آخری شکل میں ہوتا ہے، نوجوان کو مزاحمت سے روکنے کے لیے اسے اتنی لذت، نشے اور فرار میں مبتلا کردیا جاتا ہے کہ اسے اپنے مقصد کی طرف واپس لوٹنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

ایک اور دنیا ہے جو ہکسلے کے ناول Brave New World میں دکھائی گئی ہے جہاں معاشرتی استحکام مسلسل تفریح، منشیات، بے قابو جنسی آزادی اور ہر قسم کی ناگواری سے فرار کے ذریعے قائم رکھا جاتا ہے۔ اس خیال کو ایک جملے میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ۔۔۔ کسی آبادی کو فتح کرنے کی ضرورت نہیں، اگر اسے مسلسل مصروف، ڈیزائر اور ذات میں مگن رکھا جا سکے۔ یہ جملہ میرے نذدیک ایک دل چیر دینے والی حقیقت ہے۔ ایک طرف ہمارے ایسے نوجوان ہیں جو، ہر آسائش اور زندگی کی ہر سہولت کو ٹھکرا کر اپنی سرزمین اور اپنے مقصد کے لیے ہر طرح کے مصائب سہتے ہیں، اور دوسری طرف وہ نوجوان ہیں جو اسی جملے کی عین تصویر بن چکے ہیں۔۔۔ جنہیں کسی نے زنجیروں میں نہیں جکڑا، کسی نے جنگ کے میدان سے واپس نہیں دھکیلا، لیکن انہیں نشے، غیراخلاقی حرکتوں، لسٹ اور بے فکری میں اس قدر الجھا دیا گیا کہ انہیں اپنے گرد برپا جنگ دکھائی ہی نہیں دیتی۔ ایک ہی نسل کے یہ دو رخ کسی بھی صاحبِ شعور انسان کے لیے دل چیر دینے والا تضاد ہیں۔

ایک انقلابی، آزادی کے جہدکار اور سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان بننے کے لیے ہمیں ہر اُس رویے، ہر اُس ہیرا پھیری اور ہر اُس لت سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا جو ہماری ارادے کی قوت، ہماری بصیرت اور ہمارے مقصد کو ہم سے چھین سکتی ہے۔ آج کے نوجوان کو کسی ایسے جال میں پھنسنے سے پہلے اس منظم استحصال کو سمجھنا ہوگا۔ اسے اپنی تاریخ کی طرف دیکھنا ہوگا، اپنے وطن کے گلاب جیسے بچوں پر برسنے والی بمباری دیکھنی ہوگی، اپنی زمین پر قبضہ گیر کے قدموں کے نشان دیکھنے ہوں گے، اور پھر وہ آخری گولی بھی دیکھنی ہوگی جو اس کے محافظ نے اپنے لیے ایک طرف رکھ چھوڑی ہے، اس سب کو دیکھنے، سمجھنے اور اپنی تاریخ سے آنکھیں ملانے کے بعد بھی اگر کسی کا ضمیر اسے اپنی ذات کو اس استحصالی جال کے حوالے کرنے کی اجازت دے، تو پھر بےشک اسے اپنے انتخاب سے فرار کا حق حاصل نہیں۔

شاعر کہتا ہے کہ

اِن پدی اڑسینگ اڑے نی
لرزِرہ نا نک خلینگُس

پارہ نا خنک پیہُن اِنگا
کَسکُنس یا کہ کہنگُس ~


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔