کوئٹہ: جبری لاپتہ بلوچ خواتین و بچوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ، وی بی ایم پی کا احتجاج جاری

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6334ویں روز بھی جاری رہا۔

احتجاجی کیمپ کے دوران کامریڈ عطاءاللہ بلوچ، فیض امیر سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس موقع پر شرکاء نے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مستقل طور پر ختم کیا جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ 19 اگست کو گشکوری ٹاؤن، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کی گئی بلوچ خواتین اور بچوں سمیت دیگر لاپتہ افراد کی فوری اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب نہ کیا گیا تو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اس کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی جبری گمشدگی ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔ ریاستی ادارے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں کے سامنے پیش کریں اور ان کے اہلِ خانہ کو بے یقینی اور اذیت سے نجات دلائیں۔