جب لاشیں بولتی ہیں اور دنیا خاموش رہتی ہے – زِرغَم بلوچ

20

جب لاشیں بولتی ہیں اور دنیا خاموش رہتی ہے

تحریر: زِرغَم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سوراب گِدّر گوندان کی زمین پر گزشتہ روز جو قیامت گزری، اسے محض ایک خبر کہہ کر آگے بڑھ جانا انسانیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ گزشتہ 12 اگست  2026 کی شب  پاکستانی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 27 سے زائد شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں دو سال کے معصوم بچے بھی تھے اور تقریباً 70 سالہ بزرگ بھی۔ کسی کے ہاتھ میں بندوق نہیں تھی، اور نہ کسی کے ہاتھ میں کوئی جھنڈا ۔ وہ عام لوگ تھے، بچے تھے، مائیں تھیں، باپ تھے اور وہ بزرگ تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسی مٹی میں گزاری۔
یہ صرف چند گھروں کے چراغ بجھنے کا واقعہ نہیں، یہ ایک پورے معاشرے کے سینے پر لگا ہوا زخم ہے۔
دو سال کے بچے سے کیا خطرہ تھا؟
ستر سال کے بزرگ نے کس جنگ میں حصہ لیا تھا؟
اور ان گھروں میں پلنے والے بچوں کا جرم کیا تھا؟
یہ سوال آج صرف سوراب نہیں، پوری دنیا سے پوچھا جا رہا ہے۔

مگر حیرت ہے کہ جہاں دنیا کے طاقتور ایوان معمولی واقعات پر بھی بیانات جاری کرتے ہیں، وہاں سوراب گدر کے ملبے تلے دبے معصوموں کے لیے عالمی میڈیا کی آواز مدھم ہے۔ انسانی حقوق کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے ادارے خاموش ہیں۔ وہ ادارے جو دنیا کے  مختلف خطوں میں انسانی جان کے تحفظ کا علم اٹھائے پھرتے ہیں، بلوچستان کے ان دور افتادہ گھروں سے اٹھنے والی چیخوں تک پہنچنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

کیا انسانی حقوق بھی طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ ہوتے ہیں؟

اگر ایک معصوم بچے کا خون دنیا کے کسی اور خطے میں انسانیت کا مسئلہ ہے تو بلوچستان میں بہنے والا خون بھی انسانیت ہی کا خون ہے۔

یہ خاموشی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید دنیا کے نقشے پر کچھ انسانوں کی جانیں زیادہ قیمتی اور کچھ کی آوازیں زیادہ کمزور سمجھی جاتی ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خاموش مٹی بھی ایک دن گواہی دیتی ہے۔

سوراب گِدر کے ملبے سے صرف لاشیں نہیں اٹھیں وہاں سے کئی سوال اٹھے ہیں۔ ایسے سوال جنہیں نہ سرحد روک سکتی ہے، نہ طاقت، نہ خاموشی۔

آج ضرورت صرف تعزیتی الفاظ کی نہیں۔ ضرورت ہے کہ ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہوں، حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

اور بلوچستان کے لوگوں کے لیے یہ سانحہ ایک اور تلخ حقیقت سامنے لاتا ہے. جب دنیا خاموش ہو جائے تو اپنی آواز کو اور بلند کرنا پڑتا ہے۔

ہماری آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر ہماری یادداشت نہیں۔
ہمیں خاموش کیا جا سکتا ہے، مگر ہمارے سوال ختم نہیں کیے جا سکتے۔
لاشیں دفن کی جا سکتی ہیں، مگر ان کا خون تاریخ سے مٹایا نہیں جا سکتا۔

سوراب گِدر آج ایک سوال بن کر کھڑا ہے:

اگر دو سال کے بچے کی موت بھی دنیا کے ضمیر کو نہیں جگا سکتی، تو پھر انسانیت کے لفظ کا مطلب کیا رہ جاتا ہے؟

یہ صرف سوراب گِدد کے شہداء کا نوحہ نہیں یہ عالمی ضمیر کے سامنے ایک فردِ جرم ہے۔

اور تاریخ گواہ ہے، جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو خاموش مٹی بھی انقلاب کی زبان بولنے لگتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔