کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6328ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران جمعہ خان نیچاری نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے وی بی ایم پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی اہلیہ، بیٹی اور بھانجی کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھائی اور ان کے خاندان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام دوستوں کی جانب سے بھرپور آواز بلند کیے جانے کے باعث ان کے خاندان کی جبری لاپتہ خواتین بازیاب ہوئیں۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس بھی گھر سے کسی شخص کو جبری طور پر لاپتہ کیا جائے، اس خاندان کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ قانونی اور پرامن مزاحمت کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جس بھی خاندان کا کوئی فرد جبری طور پر لاپتہ ہے، وہ فوری طور پر وی بی ایم پی سے رابطہ کرکے اپنے لاپتہ پیارے کے مکمل کوائف اور دستیاب ثبوت تنظیم کو فراہم کرے، تاکہ وی بی ایم پی یہ کیس لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن، حکومت اور انصاف کی فراہمی کے لیے قائم دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کرکے قانونی کارروائی کا مطالبہ کر سکے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام لاپتہ افراد کے لواحقین ثبوت کے ساتھ خود سامنے آئیں اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی پرامن، قانونی اور جمہوری جدوجہد میں بھرپور شرکت کریں۔