جنگ کی خوبصورتی
تحریر: لکو بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
جنگ کی خوبصورتی کا اپنا ایک الگ ہی مطلب ہوتا ہے۔ عام زندگی میں شاید جنگ کا نام سنتے ہی ذہن میں خوف، گولیوں کی آواز، دھواں اور موت کے مناظر آتے ہیں، لیکن اُن لوگوں سے پوچھو جو کسی مقصد، اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے لوگوں کے لیے مشکل راستوں پر ساتھ چلتے ہیں، تو وہ جنگ کی ایک دوسری تصویر دکھائیں گے۔
پہاڑوں میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتا ہے تو وہ بات بھی عام بات نہیں رہتی۔ وہاں ہر لفظ میں ایک الگ احساس ہوتا ہے۔ کبھی کوئی اپنی ماں کی بات کرتا ہے، کبھی اپنے گھر کی، کبھی بچپن کی یادیں سناتا ہے اور کبھی اپنے اُس خواب کا ذکر کرتا ہے جس کے لیے وہ یہ سب راستے اختیار کر رہا ہوتا ہے۔
سب سے خوبصورت چیز اُن دوستوں کا ساتھ ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔ اُن کی محبت صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا حوصلہ بن جاتی ہے۔ کبھی کوئی تھک جائے تو دوسرا اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ ابھی راستہ باقی ہے، چلتے رہو۔ کبھی کوئی اداس ہو تو باقی دوست اُس کی خاموشی کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔
کبھی اُن کے لیے کھانا بھی ایک خاص احساس بن جاتا ہے۔ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان اپنی ماں کے ہاتھ کا کھانا کھا رہا ہو۔ کیونکہ محبت صرف ماں کے ہاتھ میں نہیں ہوتی، محبت اُس ہاتھ میں بھی ہوتی ہے جو اپنے حصے کا نوالہ دوست کے ساتھ بانٹ دے۔
پھر اچانک دور کہیں گولی کی آواز سنائی دیتی ہے۔
وہ ایک لمحہ سب کو خاموش کر دیتا ہے۔ لیکن جب وہ آواز ختم ہو جاتی ہے اور دوست دوبارہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں تو کسی کے چہرے پر ہنسی آ جاتی ہے۔ وہ ہنسی شاید دنیا کے لیے عام ہنسی ہو، مگر اُن لوگوں کے لیے اُس ہنسی کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ اُنہوں نے خوف کے بیچ بھی زندگی کو محسوس کرنا سیکھ لیا ہوتا ہے۔
یہی تو جنگ کی ایک عجیب حقیقت ہے؛ موت کے سائے میں بھی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحے بہت خوبصورت لگنے لگتے ہیں۔
جب رات ہوتی ہے تو سب ایک جگہ بیٹھ جاتے ہیں۔ آسمان پر ستارے ہوتے ہیں، پہاڑ خاموش ہوتے ہیں اور ہر شخص اپنی کہانی سنانے لگتا ہے۔ کوئی اپنے گھر کی بات کرتا ہے، کوئی اپنی ماں کو یاد کرتا ہے، کوئی اپنے بچپن کی شرارتیں سناتا ہے اور کوئی اپنی محبت کی داستان۔
وہ لمبی راتیں شاید زندگی کی سب سے قیمتی یادیں بن جاتی ہیں۔
اگر کوئی دوست اپنی زمین یا اپنے مقصد کے لیے جان دے دے تو باقی دوست صرف روتے نہیں۔ اُن کے دل میں دکھ ضرور ہوتا ہے، مگر اُس کے ساتھ ایک عجیب سا فخر بھی ہوتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ہمارا دوست اپنے یقین کے ساتھ کھڑا رہا۔ پھر دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ ہماری باری کب آئے گی؟ کب ہم اُس کے پاس جائیں گے؟ کب ہم بھی اُس کے ساتھ بیٹھ کر وہی پرانی باتیں کریں گے؟
لیکن شاید اصل خوشی یہ ہوتی ہے کہ دوست کی قربانی کو صرف موت نہ سمجھا جائے بلکہ اُس کی زندگی، اُس کی محبت اور اُس کے خواب کو یاد رکھا جائے۔
آزادی کی بات ہوتی ہے تو ہر شخص کے دل میں اپنے لوگوں کا تصور آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید آج ہم مشکل راستوں پر ہیں، مگر ایک دن ہماری قوم اپنے سر کو فخر سے بلند کرے گی اور آنے والی نسلیں کہیں گی کہ ہمارے لوگوں نے اپنے خوابوں کے لیے قربانیاں دی تھیں۔
یہ سوچ انسان کو دوبارہ حوصلہ دیتی ہے۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی دوست آگ کے قریب بیٹھ کر کھانا بناتا ہے۔ دھوئیں میں اُس کے چہرے پر تھکن بھی ہوتی ہے اور سکون بھی۔ وہ معمولی سا کھانا تیار کرتا ہے، مگر اُس وقت وہ کھانا کسی بڑے دسترخوان سے زیادہ قیمتی محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ اُس میں اُس دوست کی محنت، محبت اور اپنائیت شامل ہوتی ہے۔
ایسے لمحوں میں دل کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری ماں میرے لیے محبت سے کھانا بنا رہی ہو۔
شاید یہی جنگ کی وہ خوبصورتی ہے جسے باہر بیٹھا ہوا انسان آسانی سے نہیں سمجھ سکتا۔
جنگ کی خوبصورتی گولی کی آواز میں نہیں، بلکہ اُس گولی کے بعد زندہ بچ جانے والے لمحے میں ہے۔
جنگ کی خوبصورتی موت میں نہیں، بلکہ زندگی کی قدر سمجھنے میں ہے۔
جنگ کی خوبصورتی نفرت میں نہیں، بلکہ اُن دوستوں کی محبت میں ہے جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑتے۔
جنگ کی خوبصورتی پہاڑوں کی خاموشی میں ہے، رات کے ستاروں میں ہے، دوستوں کی ہنسی میں ہے، ماں کی یاد میں ہے اور اُس امید میں ہے جو انسان کو مشکل ترین راستے پر بھی آگے بڑھاتی رہتی ہے۔
کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ آخر یہ دوست اتنے قریب کیسے ہو گئے؟
شاید اس لیے کہ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ صرف خوشیاں نہیں دیکھیں، بلکہ خوف بھی دیکھا، تھکن بھی دیکھی، خاموشی بھی دیکھی اور آنکھوں میں چھپے آنسو بھی دیکھے۔ جو لوگ ایک دوسرے کی کمزوریاں دیکھ کر بھی ساتھ کھڑے رہیں، اُن کی دوستی عام دوستی نہیں رہتی، وہ ایک ایسی محبت بن جاتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اور جب برسوں بعد کوئی اُن راتوں کو یاد کرے گا تو شاید اُسے سب سے زیادہ گولیوں کی آواز یاد نہیں آئے گی۔
اُسے یاد آئے گی دوستوں کی ہنسی۔
اُسے یاد آئے گا پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر ایک ساتھ کھانا۔
اُسے یاد آئے گی وہ رات جب سب نے اپنی اپنی کہانیاں سنائی تھیں۔
اُسے یاد آئے گا وہ دوست جو سب سے زیادہ ہنستا تھا۔
اُسے یاد آئے گا وہ دوست جو خاموش رہتا تھا مگر سب کا خیال رکھتا تھا۔
اُسے اپنی ماں یاد آئے گی، جس کے ہاتھ کا کھانا دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز تھا۔
اور شاید اُس وقت اُسے سمجھ آئے گا کہ جنگ کی اصل خوبصورتی جنگ نہیں تھی؛ اصل خوبصورتی وہ انسان تھے جو اُن مشکل حالات میں بھی محبت کرنا، دوست کا ہاتھ تھامنا، ہنسنا، یاد کرنا اور امید رکھنا نہیں بھولے تھے۔
پہاڑ شاید خاموش رہیں گے، راستے شاید بدل جائیں گے، بہت سے چہرے شاید وقت کے ساتھ یادوں میں تبدیل ہو جائیں گے، مگر اُن دوستوں کی ہنسی، اُن راتوں کی باتیں، ماں کے ہاتھ کے کھانے کی خوشبو اور ایک دوسرے کے لیے دل میں رکھی ہوئی محبت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
کیونکہ کچھ لمحے زندگی میں صرف گزرنے کے لیے نہیں آتے،
وہ انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے گھر بنا لیتے ہیں۔
اور شاید اُن ہی لمحوں کا نام ہے—
جنگ کی خوبصورتی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔











































