گدر، سوراب میں عام بلوچ آبادی پر لڑاکا طیاروں سے بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ بی ایس سی

24

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل وفاق و پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں گدر، سوراب میں عام بلوچ آبادی پر لڑاکا طیاروں سے بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 12 اگست کی صبح سوراب کے علاقے گدر میں ریاستی لڑاکا طیاروں نے عام بلوچ آبادی پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 27 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ شہدا میں کئی خواتین، شیرخوار بچے اور ضعیف العمر افراد بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ 78 سالوں سے بلوچ قوم پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، ان کی ایک طویل داستان ہے، جہاں بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کو آئینی اور قانونی عمل قرار دیا جا رہا ہے، اور اب بلوچ قوم پر ظلم اور بربریت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ریاست اپنے لڑاکا طیاروں سے بلوچ قوم پر بمباری کر رہی ہے۔ بلوچستان میں لاقانونیت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ریاست اپنے ہی شہریوں پر فضائی حملے کر رہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ظلم کے سامنے خاموشی اعترافِ جرم اور ظلم و بربریت میں شراکت کا کھلے عام اعتراف ہے۔ بلوچستان میں عام بلوچ عوام کے خون کو اتنا سستا کر دیا گیا ہے کہ ایک ہی واقعے میں دسیوں بلوچ شہریوں کی شہادت پر حکامِ بالا اور حکومتِ بلوچستان سمیت نام نہاد سرداروں اور پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے لب کشائی تک کو گوارا نہیں سمجھا جاتا۔ غزہ میں جو ظلم و بربریت کی داستان اسرائیل نے رقم کی، آج وہی صورتِ حال بلوچستان میں بھی جاری ہے۔

اپنے بیان کے آخر میں ترجمان نے کہا کہ جہاں دیگر پاکستانی یومِ آزادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں، وہیں بلوچ قوم پر لڑاکا طیاروں سے فضائی حملے کیے جا رہے ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی اس واقعے کی مذمت کرنے کو تیار نہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل وفاق و پنجاب گدر، سوراب کے واقعے کو بلوچ نسل کشی کے تسلسل کی ایک کڑی سمجھتی ہے اور دیگر مہذب اقوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائیں، اس دلسوز واقعے کی آزادانہ تحقیقات کریں اور دیگر عالمی اقوام سمیت اس خطے میں بلوچ نسل کشی کے خلاف منظم اور مؤثر کردار ادا کریں۔