ایک ماں کا درد، جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے
تحریر: لکمیر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج میں ایک ایسے پیارے نوجوان کی بات کر رہا ہوں جس کا تعلق پنجگور سے تھا۔ ایک سال پہلے وہ لاپتا ہو گیا۔ اس دن کے بعد اس کی ماں کی زندگی صرف انتظار بن کر رہ گئی۔ ہر صبح دروازے کی طرف دیکھتی، ہر شام یہی امید کرتی کہ شاید آج اس کا بیٹا واپس آ جائے، شاید آج وہ دروازہ کھلے اور وہ اسے گلے لگا لے۔
وہ اکثر دل ہی دل میں اپنے بیٹے سے کہتی تھی: “شہزاد! تم تو میری ہر بات مان لیتے تھے، پھر اس بار اتنی دیر کیوں لگا دی؟ اگر دیر سے بھی آئے ہو تو کوئی بات نہیں، بس ایک بار مجھ سے بات تو کرو۔ خاموش کیوں ہو؟ میری طرف دیکھو، کچھ تو کہو۔”
لیکن جب شہزاد واپس آیا تو اس کی خاموشی نے ہر آواز کو خاموش کر دیا۔ وہ زندہ نہیں، بلکہ ایک لاش کی صورت میں گھر لوٹا۔ اس ماں نے شاید سوچا ہوگا کہ میرا بیٹا آئے گا تو اس کی شادی کروں گی، اس کے گھر میں خوشیاں بساؤں گی، اس کی زندگی آباد دیکھوں گی۔ مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اس کے خواب ایک جنازے کے ساتھ دفن ہو جائیں گے۔
شہزاد کی بہن بھی اپنے بھائی کی واپسی کے خواب دیکھتی تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ بھائی آئے گا تو سب سے پہلے اسے گلے لگاؤں گی، اس سے بہت سی باتیں کروں گی، اس کے ساتھ ہنسوں گی۔ مگر اس کے حصے میں صرف خاموشی، آنسو اور جدائی آئی۔
ایک ماں کے لیے اپنے جوان بیٹے کی لاش کو دیکھنا دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ ایسا درد نہ وقت کم کر سکتا ہے اور نہ الفاظ بیان کر سکتے ہیں۔ یہ صرف وہی ماں جانتی ہے جس کی گود اُجڑ جاتی ہے۔
یہ تحریر کسی ایک خاندان کے دکھ تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس ماں کے درد کی ترجمانی ہے جو اپنے بیٹے کی راہ تکتی ہے۔ ہر انسانی جان قیمتی ہے، اور ہر ماں کے آنسو احترام کے مستحق ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں خاندانوں کے دکھ اور انسانی جان کی حرمت کو سنجیدگی سے سمجھنا ضروری ہے۔
آخر میں شاید ہمارے پاس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے، اپنے رویوں اور اپنے ضمیر کا گہرائی سے جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ایسا معاشرہ کیسے بنایا جائے جہاں کسی ماں کی زندگی انتظار اور ماتم میں نہ گزرے، جہاں ہر گھر میں امید زندہ رہے، اور جہاں ہر انسان کی جان اور عزت محفوظ ہو۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































