ستلج فلم اور حقیقتِ بلوچستان – سنگت شے بلوچ

153

ستلج فلم اور حقیقتِ بلوچستان

تحریر: سنگت شے بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ فلم “ستلج” محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک سچی کہانی پر مبنی حقیقت ہے۔ یہ فلم پنجاب پر بھارت کے ڈھائے ہوئے ظلم، جبری گمشدگیوں اور ناحق قتل پر مبنی ہے۔ اگر ہم کئی دہائیاں پیچھے چلے جائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پنجاب پر بھی بھارت کی طرف سے بے پناہ ظلم ہوتا تھا۔ اس فلم میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب کے لوگ خود اپنی نوکری کے لیے اپنے ہی لوگوں کا قتل کیا کرتے تھے۔ پولیس اپنے پروموشن کے لیے بنا کچھ سمجھے، بنا کچھ سوچے، اپنے ہی لوگوں کا قتلِ عام کرتی تھی۔

مزید یہ کہ اس ڈھائی گھنٹے کی فلم میں بطور آئینہ یہ دکھایا گیا ہے کہ اپنے حقوق مانگنے پر لوگ اپنی جانیں گنوا دیتے تھے۔ اگر کوئی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا تو اس کی آواز ہمیشہ کے لیے دبا دی جاتی۔ اگر کوئی اس ظلم و جبر پر کچھ لکھتا تو اس کی قلم کی سیاہی اسی کے لیے موت کا ذریعہ بنتی۔ یہ قتل و غارت صرف مردوں تک محدود نہ تھی بلکہ اس جبر کا شکار بچے، بوڑھے، جوان اور حتیٰ کہ عورتیں بھی ہوتی تھیں۔

چلتے چلتے میری نگاہوں کے سامنے اس فلم کا ایک اہم منظر آیا جس میں ایک کردار تھا۔ اس شخص نے اس بے پناہ قتل و غارت، جبری گمشدگیوں اور قانون کی خلاف ورزی کی خبر اقوامِ متحدہ تک پہنچا دی۔ اب یہ خبر صرف بھارت اور پنجاب تک ہی محدود نہ رہی بلکہ پوری دنیا میں پھیل گئی تھی۔ پوری دنیا بھارت کے اس عمل پر انگلی اٹھا رہی تھی۔ اس منظر کو غور سے دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہر زوال کے بعد عروج ہوتا ہے، ہر رات کے بعد صبح ضرور ہوتی ہے۔

پھر وہ شخص پوری دنیا میں معروف ہو جاتا ہے، باہر کے لوگ اسے اپنے پاس بلاتے ہیں، مگر وہ اپنی لڑائی اپنی ہی زمین پر رہ کر لڑنا چاہتا ہے۔ آخرکار بھارتی پولیس تنگ آ کر مظلوموں کی اس آواز کو لاپتہ کر دیتی ہے، لیکن اس شخص کی گمشدگی کی خبر خاموش نہیں ہوتی۔

خیر، یہ فلم اسی طرح جاری رہتی ہے۔ اب آتے ہیں اپنے مدعے کی طرف، جو ہے حقیقتِ بلوچستان۔ جب جب میں اس فلم کو دیکھتا رہا، اس پورے ڈھائی گھنٹے کے دوران میں جسمانی طور پر تو فلم کے ساتھ تھا، لیکن ذہنی طور پر بلوچستان کے ان پہاڑوں میں تھا جن کی کشش انگریزوں کو برطانیہ سے کھینچ کر لائی تھی۔

اگر ہم آج بلوچستان پر نظر ڈالیں تو صدیوں پرانی کہانی پر مبنی یہ فلم ہمیں آج بھی بلوچستان میں براہِ راست نظر آتی ہے۔ اس فلم میں صرف کرداروں کی ثقافت اور زبان مختلف تھی، ورنہ کہانی ایک ہی ہے۔ بلوچستان میں بھی لوگوں کے ساتھ وہی رویہ رکھا جاتا ہے جو اپنے حقوق مانگتے ہیں۔

اور رہی بات قانون کی، تو اس فلم والا قانون ہی آج کی حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ بلوچستان میں جاری اس ظلم و ستم، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے پیچھے محض ضمیر فروشوں کا ہاتھ ہے جو اپنے پروموشن کے لیے اپنے ہی بھائیوں کو ناحق قتل کر دیتے ہیں۔ وہ پوری فلم مجھے آج حقیقت دکھائی دیتی ہے۔

اسی طرح اس ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز، اس جبر کی خبر کو اقوامِ متحدہ تک پہنچانے والی بہادر لیڈر “ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ” ہیں، جو آج بھی بے گناہ سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

یہ رات محض ابدی نہیں رہے گی، اسے فانی ہونا ہوگا، کیونکہ ہر رات کے بعد صبح ضرور ہوتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔