طالب علم آصف بلوچ کو 13 جولائی 2026 کو کوئٹہ کے سمنگلی روڈ پر واقع ایمن سٹی کے علاقے سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتا کر دیا۔
آج خضدار میں ان کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ آصف بلوچ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آصف پر کسی جرم کا الزام تھا تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا اور اہلِ خانہ کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق عدالت میں پیش کیے بغیر جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا قانونی تقاضوں اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اہلِ خانہ نے اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آصف بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کا فوری نوٹس لیں، مؤثر مداخلت کریں، اور ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کے لیے متعلقہ حکام پر دباؤ ڈالیں۔

















































