بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مزید چار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں خضدار اور کوئٹہ سے چار نوجوانوں کو پاکستانی فورسز کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، محمد ندیم ولد رحمت اللہ، عمر 20 سال، سکنہ نال، ضلع خضدار، کو 13 جولائی 2026 کو صبح 10 بجے نال، خضدار سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
دوسری جانب، 13 جولائی 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے کوئٹہ کے ایمان سٹی، سمنگلی روڈ کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران تین بلوچ نوجوانوں کو محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔
لاپتہ کیے جانے والوں میں سلمان بلوچ ولد محمد انور، عمر 27 سال، سکنہ پنجگور؛ زبیر ولد اسماعیل، عمر 28 سال؛ اور نبیل بلوچ ولد نظر، عمر 24 سال، سکنہ پنجگور، شامل ہیں۔ تینوں نوجوان طالب علم بتائے جاتے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق، مذکورہ افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے ان کی موجودگی اور قانونی حیثیت سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

















































