بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب ضلع ہرنائی کے پہاڑی علاقے شعبان سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ چاروں کو مسلح افراد نے اغوا کے بعد گولیاں مار کر قتل کیا۔
پولیس نے نعشوں کو تحویل میں لے کر کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کر دیا جہاں ان کی شناخت ایئرپورٹ سکیورٹی فورسز کے انسپکٹر زبیر احمد شاہوانی، کوئٹہ کے علاقے شیخ ماندہ کے رہائشی سی ٹی ڈی کے سابق اہل کار سید خلیل الرحمان، زیارت کے رہائشی فوج کے ریٹائرڈ حوالدار محمد صادق پانیزئی اور زیارت پولیس کے کانسٹیبل فرید اللہ کاکڑ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق انسپکٹر زبیر احمد شاہوانی کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن کے رہائشی تھے اور ان کے اغوا کا مقدمہ ان کے والد نے جناح ٹاؤن پولیس سٹیشن میں 24 جون کو درج کروایا تھا اور کہا تھا کہ ’ان کے بیٹے اسلام آباد ایئرپورٹ پر تعینات تھے اور ایک ماہ کی چھٹی لے کر کوئٹہ آئے تھے۔ وہ 21 جون کی سہ پہر اپنے ایک دوست سید خلیل الرحمان کے ساتھ گھر سے نکلے اور تب سے ہی لاپتا ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’دونوں کو 21 جون کو اغوا کر کے اس پہاڑی علاقے میں منتقل کیا گیا تھا جب کہ پولیس کانسٹیبل فریداللہ کاکڑ زیارت کے رہائشی تھے اور پولیس سٹیشن مانگی میں تعینات تھے جنہیں پولیس سٹیشن سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا جبکہ محمد صادق پانیزئی کا تعلق بھی زیارت سے بتایا جاتا ہے اور انہیں بھی نامعلوم افراد نے ہی اغوا کیا تھا۔



















































