بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاکہ آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنماؤں کی ضمانت سے متعلق دائر تین درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کیا، جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف دائر سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بی وائی سی رہنماوں کے کیسز میں اے ٹی سی کورٹ نے پہلے ہی فیس لیس ٹرائیل کے زریعے انصاف کو ہر صورت مسخ کیا ۔ ضمانتوں کے ایپلیکشن جھٹلائے، بغیر کوئی ثبوت ایک کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ دیگر کئی مقدمات فیس لیس کورٹ کی زریعے زیر سماعت ہے۔اب یہ انصاف کے حق سے جھٹلائے گیے کیسز ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عدالتی کارروائیاں آئین، قانون اور انصاف کے اصولوں کے مطابق مکمل غیر جانبداری کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔ ہم ہائی کورٹ سے متوقع ہے کہ وہ جلد ہی عمر قید کے اس غیر قانونی فیصلے کو منسوخ کر کے انصاف کو قائم کریں گی، اور سپرئم کورٹ سے یہی توقع کرتے ہیں وہ ضمانتوں کے آئینی حق کا احترام کرتے ہوئے جلد رہنماؤں کی زیر سماعت ضمانت کی اپیلیں منظور کریں گی۔
مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ہر فورم پر اپنی جمہوری و آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہمارے جدوجہد کا مقصد انصاف کو بطور مادی شے ڈھونڈنا نہیں بلکہ اپنے عمل کے زریعے ہر اس ادارے کو عیاں بھی کرنا ہے جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ آج عدالتی غیر منصفانہ فیصلے صرف اس لیے نہیں کہ وہ بی وائی سی سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ وہ عام عوام کے لیے بھی غیر منصف ہے، یہ انصاف سے نفی کرتے کرتے اب خود انصاف کے طلبگار ہوچکے ہیں، نا یہاں آئین کے ساتھ انصاف ہو پارہا ہے نا میرٹ کے ساتھ۔
آخر میں کہاکہ بی وائی سی اپنے جمہوری جدوجہد کو انصاف کے حصول تک برقرار رکھنے کا عزم کر چکی ہے، اور ہم عدالتوں میں بیٹھے ججوں کو بھی یہی کہتے ہے کہ بی وائی کی جدوجہد نسلوں کے لیے ہے۔ ان رہنماؤں کو سزا دیکر آپ اپنے نسلوں کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ انصاف کے حصول میں آپ صحیح فیصلہ کرکے نسلوں کے اس جدوجہد کر توا نا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

















































