بلوچستان میں سابقہ افغان فوجی اہلکاروں کی بلوچ نسل کشی میں براہ راست شمولیت اک تشویشناک امر ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

60

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ہدہ جیل سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ اور افغان اقوام کے تعلقات محض دو ہمسایہ خطوں کے درمیان تعلقات نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی، تہذیبی اور انسانی رشتے کی داستان ہیں۔ دونوں اقوام نے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرکت کی ہے، ایک دوسرے کے مہمان بنے ہیں، ایک دوسرے کی سرزمینوں پر پناہ پائی ہے، اور تاریخ کے کٹھن ترین ادوار میں بھی باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ اس پورے تاریخی سفر میں بلوچ اور افغان عوام نے کبھی کسی سامراجی طاقت یا بیرونی قوت کے مفادات کے تحت ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ اور افغان تعلقات باہمی اعتماد، عزت اور مشترکہ تاریخی تجربات کی بنیاد پر استوار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ لیکن آج ایک نہایت تشویشناک اور افسوسناک صورتِ حال جنم لے رہی ہے، جو نہ صرف بلوچ عوام کے لیے باعثِ تشویش ہے بلکہ بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان موجود تاریخی رشتے کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ایسی اطلاعات آرہے ہیں کہ سابق افغان فوج سے وابستہ بعض افراد پاکستانی ریاستی فورسز کے ساتھ مختلف فوجی جارحیت اور بربریت میں شریک ہیں۔ یہ عمل بلوچ عوام میں شدید نفرت، غم اور تشویش پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے متعدد علاقوں کے مقامی لوگوں نے پاکستانی فوجی بربریت میں ایسے افراد کو دیکھا ہے جو سابق افغان فوج سے تعلق رکھتے تھے اور اب پاکستانی فورسز کے ساتھ سرگرم ہیں۔ زہری سمیت بعض علاقوں میں ہونے والی فوجی بربریت میں بھی سابق افغان فوج کے اہلکار باقاعدہ شامل تھے۔ اسی طرح مستونگ کے عام عوام شکایت کر رہے ہیں کہ افغان فوج کے سابق اہلکاروں نے پاکستانی فوج کی آشیرباد سے ایک اسکول پر قبضہ کیا ہے اور وہاں اپنا کیمپ قائم کیا ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ نے کہا ہے کہ میں افغانستان کے سابقہ حکومت کے تمام قیادت کی توجہ اس حساس مسئلے کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہوں۔ تاریخ بعض اوقات ایسی آزمائشیں لے کر آتی ہے جہاں خاموشی بھی ایک موقف بن جاتی ہے۔ آج افغان قیادت کے سامنے بھی ایک ایسا ہی لمحہ موجود ہے۔ آج اگر آپ کے لوگ جو معمولی مفادات، مراعات یا پناہ کے عوض بلوچ عوام کے خلاف ہونے والی ظلم و جبر میں شریک ہو رہے ہیں تو یہ صرف بلوچوں کے خلاف ایک عمل نہیں بلکہ افغان قوم کی تاریخی روایات اور وقار کے بھی منافی ہے۔

مزید کہا ہے کہ افغان عوام خود جنگ، جبر، بے دخلی اور خونریزی کی طویل تاریخ سے گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنی سرزمین پر طاقتور قوتوں کی مداخلت اور تباہ کاریوں کے نتائج بھگتے ہیں۔ اسی لیے افغان قوم سے زیادہ کوئی اور یہ نہیں سمجھ سکتا کہ جب کسی ماں سے اس کا بیٹا چھین لیا جائے، جب کسی بچے کا مستقبل بارود کے دھوئیں میں گم ہو جائے، اور جب کسی قوم کے اجتماعی وجود کو خوف اور تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جائے تو اس کے زخم کتنے گہرے ہوتے ہیں۔

تاریخ صرف یہ یاد نہیں رکھتی کہ کون طاقتور تھا اور کون کمزور؛ تاریخ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ ظلم کے وقت کون خاموش رہا اور کون اس کے خلاف کھڑا ہوا۔ اگر چند افراد وقتی مفادات کے لیے بلوچ عوام کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ چند سکوں، چند مراعات یا عارضی تحفظ کے بدلے حاصل ہونے والے فائدے ہمیشہ کے لیے بدنامی کا سبب بن سکتے ہیں۔ آنے والی نسلیں یہ سوال کریں گی کہ جب ایک قوم اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی تھی تو آپ کس کے ساتھ کھڑے تھے؟

انہوں نے کہاکہ میں افغان قیادت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے، اس حوالے سے تحقیقات کرے اور ایسے عناصر کو بلوچ عوام کی نسل کشی میں شریک ہونے سے روکے۔ بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان موجود تاریخی رشتہ باہمی احترام، بھائی چارے اور مشترکہ جدوجہد کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس رشتے کو کسی ریاستی منصوبے، کسی وقتی مفاد یا کسی عارضی سیاسی بندوبست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

آخر میں کہا ہے کہ بلوچ اور افغان عوام کی تاریخ بھائی چارے، قربانی اور باہمی احترام کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ پر ایسا کوئی سیاہ دھبہ نہیں لگنا چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ افغان قیادت اپنے اخلاقی، قومی اور تاریخی کردار کا مظاہرہ کرے اور اپنے لوگوں کو بلوچ عوام کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائیوں میں استعمال ہونے سے روکے، تاکہ دونوں اقوام کے درمیان صدیوں پر محیط اعتماد اور احترام کا رشتہ محفوظ رہ سکے۔