ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور کتابیں
تحریر: محمد عامر حسینی
دی بلوچستان پوسٹ
گزشتہ دو برس سے پاکستان کی ریاستی مشینری، حکومتی ترجمان، عسکری اداروں کے ترجمان، ریاست نواز ٹی وی ٹاک شوز اور سوشل میڈیا مہمات میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ایک خاص تصویر مسلسل پیش کی جا رہی ہے۔ انہیں کبھی “ریاست دشمن”، کبھی “انتہا پسندوں کی سہولت کار”، کبھی “غیر ملکی ایجنٹ” اور کبھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے نے بھی قانونی زبان میں انہیں ایک ایسے مجرم کے طور پر پیش کیا ہے جسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ایک بیانیہ ہے، اور ریاستی ادارے اس کی پشت پر کھڑے ہیں۔
لیکن تاریخ کا ایک دلچسپ اصول ہے۔ انسان کی اصل شناخت ہمیشہ اس کے مخالفین کے بیانات سے نہیں بنتی، بلکہ اس کی اپنی زندگی، اس کے الفاظ، اس کے رویوں اور اس کے مطالعے سے بھی بنتی ہے۔
اب ذرا ایک لمحے کے لیے اس شور سے ہٹ کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی اپنی تحریری گفتگو اور جیل میں ان کی پڑھی جانے والی کتابوں کی فہرست پر نظر ڈالیں آپ کو وہاں کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جو نفرت کے نعروں میں گم ہو۔ وہاں ایک ایسی نوجوان عورت دکھائی دیتی ہے جو تنہائی کی قید میں بھی دنیا کی قومی آزادی کی تحریکوں، نوآبادیاتی تاریخ، انسانی حقوق، ذرائع ابلاغ، عالمی سیاست اور مزاحمتی فلسفے کا مطالعہ کر رہی ہے۔
وہ Long Walk to Freedom پڑھتی ہے، جہاں قید آزادی کی قیمت بن جاتی ہے۔ وہ Living My Life پڑھتی ہے، جہاں عورت کی آزادی اور سماجی انصاف ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ وہ Manufacturing Consent پڑھتی ہے تاکہ میڈیا اور طاقت کے تعلق کو سمجھے۔ وہ Resistance and Decolonization پڑھتی ہے تاکہ قومی آزادی کی فکری روایت سے رشتہ قائم کرے۔ وہ Interview with History، World Order اور Prisoners of Geography بھی پڑھتی ہے تاکہ دنیا کو صرف اپنے دکھ کے آئینے میں نہیں بلکہ عالمی سیاست کے بڑے نقشے میں دیکھ سکے۔
اس کے ساتھ وہ بلوچستان کی اپنی تاریخ اور اپنے سماج پر لکھی گئی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتی ہے۔ گویا اس کا ذہن صرف احتجاج نہیں کر رہا، بلکہ مسلسل سیکھ رہا ہے، سوال اٹھا رہا ہے اور اپنے تجربے کو تاریخ کے طویل سلسلے میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ منظر برصغیر کی قومی آزادی کی تاریخ سے اجنبی نہیں۔
مہاتما گاندھی نے جیل کو اپنی اخلاقی اور سیاسی تربیت کا مقام بنایا۔ جواہر لعل نہرو نے قید میں وہ کتابیں لکھیں جو بعد میں قوموں کی فکری میراث بنیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اسیری کو علم اور تہذیب کے مکالمے میں بدل دیا۔ بھگت سنگھ نے پھانسی سے چند لمحے پہلے تک کتاب ہاتھ سے نہیں چھوڑی۔ ان سب کی سیاست ایک جیسی نہیں تھی، لیکن ایک چیز مشترک تھی: وہ جانتے تھے کہ قید صرف جسم کو محدود کرتی ہے، ذہن کو نہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی کتابوں کی فہرست پڑھ کر بھی یہی احساس پیدا ہوتا ہے۔ اختلاف ہر شخص کا حق ہے۔ ان کے سیاسی نظریات سے اتفاق یا اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس فہرست کو پڑھنے کے بعد انہیں صرف نعروں یا سرکاری لیبلوں کے ذریعے سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔
یہ فہرست ایک ایسے سیاسی ذہن کی خبر دیتی ہے جو اپنے زمانے کے بنیادی سوالوں سے مکالمہ کر رہا ہے۔ جو تنہائی کو مطالعے میں، دکھ کو شعور میں اور جیل کو ایک فکری درس گاہ میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی لیے کسی بھی رہنما کا معیار صرف اس کے حامیوں کے نعروں یا مخالفین کے الزامات سے نہیں جانچا جاتا۔ اس کا ایک معیار یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ تنہائی میں کس کے ساتھ گفتگو کرتا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے معاملے میں اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔ وہ جیل کی کوٹھڑی میں اپنی قوم کے ساتھ ہی نہیں، گاندھی، نہرو، بھگت سنگھ، منڈیلا، ایما گولڈمین، امیلکار کیبرال، چومسکی اور دنیا کی بہت سی آزادی کی تحریکوں کے تجربات کے ساتھ بھی خاموش مکالمہ کر رہی ہیں اور تاریخ ہمیں بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ بعض اوقات قومیں اپنے رہنماؤں کو عدالتوں کے فیصلوں سے نہیں، ان کی کتابوں کی الماریوں سے زیادہ اچھی طرح پہچانتی ہیں
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔
















































