ریاست کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے متاثرین کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ ملالہ یوسفزئی

177

نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما اور انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔

اپنے بیان میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین اور بچیاں برسوں سے اس تکلیف کا سامنا کر رہی ہیں کہ ان کے مرد رشتہ دار گرفتار یا جبری گمشدگی کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو بھی وہی زندگی ملنی چاہیے جس کے وہ حق دار ہیں، جہاں بیٹیاں تعلیم حاصل کر سکیں اور والد شام کو بحفاظت اپنے گھروں کو واپس آئیں۔

ملالہ نے پاکستان میں ان خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جو ان کے بقول اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر ہراسانی، بدسلوکی اور قید کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں آصفہ جہانگیر، فریدہ شہید، خاور ممتاز، حنا جیلانی، فاطمہ جناح، ایمان مزاری اور آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جیسی خواتین نے بھی اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی قیمت ادا کی ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے بجائے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت ان افراد کو نشانہ بنا رہی ہے جو مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھ گرفتار دیگر کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سال 2025 میں حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ جون 2026 میں کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2024 کے ایک مقدمے میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔

اس فیصلے پر انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔