بلوچ لبریشن آرمی کی چھ مہینوں کی کاروائیاں، 369 حملوں میں 884 ہلاکتیں

1

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا چینل ‘ہکّل’ نے تنظیم کے چھ مہینوں کی کاروائیوں پر مشتمل انفوگرافکس اور تحریری رپورٹ شائع کی ہے۔ چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 369 عسکری حملوں میں دشمن فوج، خفیہ اداروں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے 884 کارندوں کو ہلاک کیا۔ بی ایل اے

ہکل پر شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے لے کر پہاڑی سلسلوں اور شہری مراکز تک قابض پاکستانی فوج کو شدید اور مربوط حملوں میں پسپائی اور شکست سے دوچار کیا۔ ایک منظم عسکری حکمت عملی اور جامع تنظیمی پالیسی کے تحت بی ایل اے کی کارروائیوں کا نہ صرف دائرہ کار وسیع کیا گیا بلکہ ان کی شدت اور ہلاکت خیزی میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ تنظیم کے سرمچاروں نے کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کی مضبوط چھاؤنیوں اور عسکری کیمپوں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر زمین بوس کردیا، جبکہ بلوچ نسل کشی میں براہِ راست ملوث دشمن کے خفیہ اداروں کے نیٹ ورک پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ان کے اہلکاروں کو دفاتر کے اندر گھس کر منطقی انجام تک پہنچایا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران بی ایل اے کے سرمچاروں نے دشمن کے جدید اور مضبوط سیکیورٹی حصاروں کو مؤثر طریقے سے عبور کیا اور ان کے درجنوں عسکری اہلکاروں کو ہلاک کر کے ان کی فیلڈ موومنٹ اور نقل و حرکت کو مزید محدود کردیا۔ دوسری جانب، متبادل جنگی حکمت عملی کے تحت مرکزی شاہراہوں پر ”معاشی ناکہ بندی” کی پالیسی نافذ کی گئی، جس کے ذریعے قابض ریاست اور بلوچ وسائل کے بے دردی سے استحصال میں شریک استحصالی کمپنیوں کی سپلائی لائنز کو نشانہ بنا کر انہیں بھاری معاشی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران بلوچ لبریشن آرمی نے مجموعی طور پر 369 عسکری حملوں میں دشمن فوج، خفیہ اداروں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے 884 کارندوں کو ہلاک کیا، جن میں دشمن کی معاونت کرنے والے 43 آلہ کار بھی شامل ہیں۔ ان تمام کارروائیوں کے نتیجے میں قابض فوج کے 248 سے زائد اہلکار اور گماشتے شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

“ان آپریشنز کے دوران سرمچاروں نے قابض فوج اور اسکے ذیلی عسکری اداروں سے مختلف نوعیت کے 277 جدید ترین ہتھیار اور بھاری مقدار میں جنگی ساز وسامان ضبط کیا۔ مزید برآں، دشمن کے 71 اسٹریٹجک مقامات پر مکمل کنٹرول حاصل کیا گیا، جن میں قابض فوج کے باقاعدہ کیمپ، پولیس و لیویز کے تھانے، حفاظتی چوکیاں، ڈیتھ اسکواڈز کے خفیہ ٹھکانے اور مواصلاتی رابطے توڑ کر بیک وقت چودہ شہروں پر عارضی کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے۔ معاشی ناکہ بندی کے تسلسل میں مرکزی تجارتی شاہراہوں پر 122 سے زائد مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کرکے دشمن کی عسکری رسد کو روکا گیا اور 23 اہم پلوں کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جبکہ 16 مقامات پر کامیاب چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے قابض فوج کے اہلکاروں سمیت 125 آلہ کاروں کو باقاعدہ حراست میں لیا گیا۔”

مزید کہا گیا کہ ان چھ مہینوں کے دوران مختلف نوعیت کے 125 بارودی اور مائن دھماکوں میں دشمن کی دفاعی گاڑیوں اور کاروانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں دشمن فوج اور ریاستی معاشی نیٹ ورک سے منسلک 305 گاڑیاں، 22 جدید کواڈ کاپٹر، 10 ہائی ٹیک سرویلنس کیمرے، 15 ٹرانسمیشن لائنیں اور نگرانی کے ٹاورز تباہ کیئے گئے، جبکہ دشمن کی مادی سپلائی کو مفلوج کرنے کے لیے 25 ریلوے ٹریکس سمیت 2 ٹرینوں کو بھی مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے فدائی یونٹ ”مجید بریگیڈ” نے 15 مختلف مقامات پر انتہائی اعلیٰ سطح کے فدائی آپریشنز سرانجام دیئے، جن میں مجموعی طور پر 52 فدائین نے وطن کی آزادی کے مقصد پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی، دیگر خصوصی دستوں میں سے ہراول دستے ‘فتح اسکواڈ’ نے 12، ‘اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ’ (ایس ٹی او ایس) نے 15، ‘قہر’ ونگ نے 4 اور سمندری حدود کے محافظ دستے ‘حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس’ (ایچ ایم ڈی ایف) نے 1 آپریشن سرانجام دیا، جبکہ 19 انتہائی حساس اور خصوصی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ نے بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا۔

انفوگرافک، ہکل میڈیا