اپنا زاویہ، اپنا نظر – زورین بلوچ

34

اپنا زاویہ، اپنا نظر

تحریر: زورین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مائنڈ سیٹ کیا ہے؟
مائنڈ سیٹ آپ کے سوچنے کا انداز، کائنات اور کائنات سے منسلک چیزوں کو دیکھنے کا آپ کا زاویۂ نظر اور ذہنی رجحان ہے۔ زاویۂ نظر سے ہی آپ ہر چیز کو دیکھتے ہیں اور حالات کو بھی سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہو۔

عام طور پر مائنڈ سیٹ دو طرح کے ہوتے ہیں:

1۔ فکسڈ مائنڈ سیٹ (Fixed Mindset):
اس سوچ کے مالک یہی سوچتے اور یہی سمجھتے ہیں کہ انسان کے اندر کی قوت، صلاحیت اور قوتِ استطاعت وراثتی یا پیدائشی ہوتے ہیں اور انھیں نہ بدلا جا سکتا نہ ہی اضافہ کیا جا سکتا۔ مطلب اگر میں کسی ہنر میں ماہر نہیں ہوں تو میں کبھی ماہر نہیں بن سکتا۔ ایسے انسان اکثر ناکامی کے ڈر سے کچھ نہ کرتے ہوئے کچھ بھی نہیں کر پاتے، مشکلات اور چیلنجز سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کبھی اپنی ذہنیت بدل نہیں سکتے یا بدلنا نہیں چاہتے۔ پھر ان کا زاویۂ نظر ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔ زاویۂ نظر کی تبدیلی سے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔

2۔ گروتھ مائنڈ سیٹ (Growth Mindset):
یہ وہ انسان ہوتے ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی انسان کی صلاحیت نہ وراثتی ہے نہ ہی پیدائشی، بلکہ انسان اپنی محنت، لگن، سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے کے مسلسل عمل اور مستقل مزاجی سے وہ سب کچھ سیکھ سکتا ہے جو وہ سیکھنا چاہتا ہے، بشرطیکہ محنت اور ایمانداری کا صرف آغاز نہ ہو بلکہ انتہا تک جاری رہے۔ تبدیلی کا راستہ اپنی ہی اندر سے گزرتا ہے، نہ کہ باہر سے۔ تبدیلی ایک دم اور اچانک کوئی قدرتی اور آفاقی معجزہ نہیں ہوتا۔ تبدیلی وہ عمل ہے جو زندگی بھر جاری و ساری ہو تو ہی ممکن ہوگی۔

لیکن فکسڈ مائنڈ سیٹ والے لوگ ہمیشہ خود کو ایک ہی زاویۂ نظر، ایک ہی محدود و مخصوص سوچ کے دائرے میں محدود رکھتے ہیں۔ جب ان کو کوئی کام کرنا ہو یا کچھ سیکھنا ہو، وہ سوچتے ہیں “ہم سے نہیں ہو پائے گا” کیونکہ ہمارا صلاحیت کے مطابق یا لیول کے مطابق نہیں ہے۔ یہی سوچ انہیں ہمیشہ کچھ کرنے سے روکتی ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے ہمیشہ صلاحیت کے حساب سے کم سمجھتے ہیں۔ وہ رسک لینے کو تیار نہیں ہوتے، ناکامی کو دیکھنے کو تیار نہیں اور کچھ نیا سیکھنے کو تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو ٹیلنٹ ہے بس وہی کرو اور زندگی بھر اسی چیز کو دہراتے ہیں۔

اور کچھ لوگوں کا اگر ناکام ہونا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ ان میں صلاحیت کی کمی ہے یا صلاحیت ہی نہیں ہے بلکہ وہ صرف غلط ماحول اور غلط جگہوں میں ہوتے ہیں۔ وہ مخلص اور ایماندار ہو سکتے ہیں۔ وہ محنتی ہو سکتے ہیں۔ وہ باصلاحیت ہو سکتے ہیں۔ وہ نظم و ضبط کے پابند ہو سکتے ہیں۔ اور اس کے باوجود وہ خود کو کسی الجھن اور تذبذب میں پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ایسا اس لیے نہیں کہ ان میں صلاحیت کی کمی ہے، بلکہ اس لیے کہ ان کا ماحول اور جگہ ان کی صلاحیتوں کو مسدود کر رہا ہوتا ہے، جس سے وہ اپنے آپ کو ذہنی طور پر کم صلاحیت اور ناکارہ سمجھنے لگتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ کچھ کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔

فلسطینی ادیب و مفکر ادھم شرقاوی کے مطابق: “میرے پاس ناکامی کے قصے نہیں، میرے پاس تجربات ہیں۔ انسان ہمیشہ اپنی ہی لغزشوں سے راہ پاتا ہے۔ میرے پاس دشمن نہیں ہیں، بلکہ سبق ہیں جو انسانوں کی صورت میں ملے، سبق جنہوں نے مجھے سکھایا کہ ان جیسے کرداروں سے کیسے دور رہا جائے۔ میرے پاس زخم نہیں ہیں، میرے پاس نشان ہیں، یہ نشان خوبصورت یادگاریں ہیں، جو مجھے ہر لمحہ یہ یاد دلاتی ہیں کہ میں زندگی کی کڑی آزمائشوں سے کامیابی کے ساتھ گزر آیا ہوں۔ مجھے مظلوم کی طرح جینا پسند نہیں، کیوں کہ مظلوم ہمیشہ شکوے کرتے ہیں، نوحے گاتے ہیں۔ مجھے فاتح کی طرح جینا پسند ہے۔ فاتح اعتماد کی روشنی سے اپنے راستے کو روشن کرتا ہے، جو ماضی کی دھند میں کم جھانکتا ہے اور مستقبل کی تابانیوں پر نظریں جمائے رکھتا ہے۔”

کوئی بھی خیال، تصور، کام اور منصوبہ بندی ہمیشہ انسان کے زاویۂ نظر سے شروع ہو کر انسانی مزاج اور رویوں میں جذب ہوتی ہے اور پھر رویوں سے جنم پاکر عمل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ جب انسانی زاویۂ نظر سطحی چیزوں، معمولی الجھنوں، معمولی مسائل و کیفیتوں اور غیر ضروری ترجیحات پر زیادہ ارتکاز و توجہ مرکوز کرے، تو پھر اس کی رویوں اور مزاج سے جنم لینے والی عمل سے لیکر حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی ہی سطحی و معمولی اور الجھنوں کے شکار نوعیت کی ہوں گی۔

وقت کی رفتار کے ساتھ ذہنی و فکری تبدیلی کامیابی اور ترقی کی ضامن ہوتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔