کوئٹہ بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شقی جے صبغت اللہ کو ایف سی اہلکار کے قتل کے مقدمے میں دو بار عمر قید کی سزا سنا دی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق یہ مقدمہ گوادر میں منعقد ہونے والے “راجی مچی” اجتماع کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق تھا، جس میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار شبیر بلوچ ہلاک ہوگئے تھے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب فیصلے بند کمروں میں کیے جائیں، جہاں نہ جج موجود ہوں، نہ ملزمان اور نہ ہی ان کے وکلا، تو پھر قانون، انصاف اور آئین کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک جمہوریت اور عدلیہ کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
پشتون قوم پرست رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو عمر قید کی سزا دینا پرامن سیاسی حل کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے، انہوں نے اس فیصلے کو ایک ایسی پالیسی کا حصہ قرار دیا جو امن کے بجائے تصادم کو ترجیح دیتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فیصلے کو انصاف کے تقاضوں اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے متاثرین کی حمایت کرنے والوں کو سزائیں دینا ایک افسوسناک عمل ہے۔
نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے رہنما اور وزیر استان سے سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہونے والا ٹرائل شفاف نہیں تھا اور عمر قید کی سزائیں ایک سنگین ناانصافی اور پرامن سیاسی جدوجہد پر حملہ ہیں، جبر کے ذریعے اختلاف رائے کو دبانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر نے بھی فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو ایف سی اہلکار کے قتل سے جوڑنے کے لیے کوئی واضح بنیاد موجود نہیں تھی، تاہم انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
پی ٹی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن زبیر شاہ آغا نے کہا کہ ایف سی اہلکار کی ہلاکت ایک ٹریفک حادثے میں ہوئی تھی، تاہم اس واقعے کو قتل کا مقدمہ بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گواہوں اور شواہد کے بغیر عمر قید کی سزا سنانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔


















































