راجی مچی گوادر مقدمے میں پرامن سیاسی رہنماؤں کو انسداد دہشت گردی عدالت سے عمر قید کی سزا دینا عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ این ڈی پی

22

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن سیاسی و انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے بلوچ رہنماؤں کو دہشتگردی کے مقدمات میں الجھا کر عمر قید کی سزائیں سنانا انصاف کا قتل ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی جبری گمشدگی، ماورائے آئین قتل اور وسائل کی لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ ایک پرامن احتجاج کو تشدد کا نام دے کر پوری قیادت کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینا ریاست کی بوکھلاہٹ اور بلوچ عوام کی آواز کو دبانے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزائیں سنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچ عوام کے بنیادی سوالوں کا جواب قانون، انصاف اور عدالت کے بجائے طاقت، تشدد اور جبری طور پر قید و بند سے دینا چاہتی ہے۔ جبری گمشدگی، ماورائے آئین قتل، وسائل کی لوٹ مار پر آواز اٹھانا جرم نہیں ہے۔ پرامن احتجاج کو دہشتگردی کا لیبل لگا کر سیاسی قیادت کو ختم کرنا ریاست کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کے مترادف ہے ۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ یہ سزائیں نہ صرف ملزمان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق پامالی ہیں بلکہ بلوچ عوام کے لیے ایک پیغام ہے کہ پرامن سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ سیاسی مقدمات انصاف کا عمل نہیں بلکہ بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہیں ۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام رہنماؤں کی رہائی تک جدوجہد جاری رہے گی اور مطلق العنان حکمرانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں بندوق کی نوک پر امن مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

آخر میں کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ سیاسی مقدمات فوراً ختم کیے جائیں ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ اور سمیت تمام گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے اور بلوچ عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ عدالتوں کا کام انتقام لینا نہیں بلکہ انصاف دینا ہوتا ہے۔ آج کا فیصلہ عدالتی تاریخ میں ایک بدنما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آج اگر عدالتوں نے آئین کی حفاظت نہ کی، تو کل تاریخ ان سے سوال کرے گی۔ لہذا واضح کرتے ہیں کہ ہم بلوچ سیاسی رہنماؤں کو تنہا نہیں چھوڈیں گے کیونکہ ظالم و مظلوم کے تعین کا فیصلہ تاریخ کرے گی ۔