طویل سرحدی بندش نے پاک افغان تجارت کو مفلوج کر دیا، تاجروں کو اربوں کا نقصان، برآمدات میں تیزی سے کمی اور ٹرانسپورٹ نظام درہم برہم ہوا ہے۔
پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی گزرگاہوں اور سرحدوں کی بندش سے پاکستان کے تاجروں کو گذشتہ آٹھ مہینوں میں 278 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی طرح افغانستان کے صنعت کاروں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور گذشتہ آٹھ مہینوں میں چیمبر کے مطابق افغانستان کو تجارت کی مد میں تقریباً 140 ارب پاکستانی روپے جتنا کا نقصان ہوا ہے۔
حالیہ دنوں میں جاری پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق افغانستان سے بارڈر سکیورٹی مینجمنٹ کے مسائل کی وجہ سے پاکستان کی سالانہ برآمدات 2025 میں 4.5 فیصد سے کم ہو کر 1.5 فیصد رہ گئی ہیں۔
اسی سروے کے مطابق افغانستان اس سے پہلے پاکستان کے پہلے 10 ممالک میں شامل تھا جہاں پاکستان کی برآمدات زیادہ ہوتی تھیں، لیکن اب وہ اس فہرست سے نکل گیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین سرحدی کشیدگی کی وجہ سے گذشتہ سال 13 اکتوبر کو طورخم، چمن سمیت تمام بارڈرز بند کر دیے گئے تھے اور اب صرف پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان جانے کی اجازت ہے۔
اس بندش سے دونوں ممالک کے مختلف شعبے متاثر ہو رہے ہیں، جن میں سرِ فہرست معاشی شعبہ ہے، اور دو طرفہ تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں میڈیکل ٹورزم بھی متاثر ہوا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین سالانہ تجارت کا حجم پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق تقریباً ایک ارب ڈالر ہے، تاہم سرحدوں کی بندش سے تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔














































