بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف غیر شفاف عدالتی طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ این ڈی پی

14

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بیان میں کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنان سمیت دیگر سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف ایسے عدالتی و قانونی طریقۂ کار استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں شفافیت، کھلی سماعت اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کو مخدوش کیے جا رہے ھیں جس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ آئین نہ صرف بنیادی طور پر شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار عدالتی کارروائی کا حق فراہم کرتی ہے بلکہ کسی بھی ایسے لاقانونیت یا بد انتظامی معاملاتِ پر پابندی عائد کرتے ہیں جو قانونی شفافیت یا بنیادی حقوق کو متنازعہ بنا دیں-

انہوں نے کہاکہ غیر شفاف عدالتی کارروائیوں کا کوئی بھی تصور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ھیں- عدالتی نظام کی ساکھ اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب ہر شہری کو کھلے، آزاد اور غیر جانبدار عدالتی عمل تک مکمل رسائی حاصل ہو جبکہ سیاسی ہم آہنگی صرف اسی صورت میں فروغ پا سکتے ہیں جب انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ قانونی کارروائیوں میں شفافیت، آئینی ضمانتوں اور منصفانہ ٹرائل کے مسلمہ اصولوں کو مقدم رکھا جائے۔ انصاف کی فراہمی صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔ کوئی بھی ایسا طریقۂ کار جو عدالتی عمل کو عوامی جانچ پڑتال، قانونی شفافیت اور بنیادی آئینی ضمانتوں سے دور لے جائے، مستقبل میں شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جمہوری معاشروں کی مضبوطی کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور بنیادی شہری آزادیوں کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ اختلافِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور پرامن جمہوری اظہار کو قانونی اور آئینی دائرے میں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ریاستی ادارے اس بنیادی حقوق کو بلوچ سیاسی کارکنان کے لیے ممنوعہ سمجھتے ہیں۔

ترجمان نے کہاکہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس غیر منصفانہ نظام کو عالمی انسانی حقوق کے منشور کے متصادم سمجھتا ہے جس پر ریاست نے اپنے دستخط سبط کرکے اقوام عالم کو باور کرایا تھا کہ انسانی زندگی کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہمی میں شفافیت لایا جائے گا۔۔ ایسے اقدامات، اگر معمول بنائے گئے، تو یہ نہ صرف سیاسی اختلاف کو پر تشدد بنانے کے مترادف ہوں گے بلکہ مستقبل میں ہر شہری کے قانونی تحفظ کے لیے بھی خطرہ پیدا کریں گے۔ریاستی اداروں سمیت کوئی بھی فرد یا گروہ آئینی و قانون سے بالاتر نہیں اور قانون کی بالادستی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شہری کو کھلے، شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ عدالتی عمل تک رسائی حاصل ہو۔ انصاف کے بنیادی اصولوں میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری قدغن یا ابہام نہ صرف متعلقہ افراد کے حقوق بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

مزید کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ سیاسی کارکنان سمیت دیگر تمام سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری مقدمات کھلے، شفاف اور آئینی تقاضوں کے مطابق چلائے جائیں، اور ایسے تمام غیر شفاف قانونی طریقۂ کار فوری طور پر ختم کیے جائیں جو منصفانہ ٹرائل کے حق کو متاثر کرتے ہوں کیونکہ سیاسی اختلافِ رائے اور پرامن سیاسی جدوجہد ھر شہری کا بنیادی حق ہے۔ آئینی تقاضا یہ ہے کہ تمام شہریوں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی فکر سے ہو، کو ایک جیسے عدالتی معیار اور بنیادی حقوق حاصل ہوں۔