پروفیسر غمخوار حیات کا بہیمانہ قتل قومی سانحہ ہے۔ این ڈی پی

6

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر غمخوار حیات کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی جان کا ضیاع نہیں بلکہ بلوچستان کی علمی، فکری اور تہذیبی فضا پر براہِ راست حملہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اساتذہ، ادیب اور دانشور معاشرے کو شعور دینے کی آخری امید سمجھے جاتے ہیں، ان کا اس طرح نشانہ بنایا جانا پورے ریاستی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہاکہ پروفیسر غمخوار حیات ایک استاد ہی نہیں بلکہ براہوی زبان و ادب کی ایک معتبر اور توانا آواز تھے۔ ماضی کی طرح ٹاگٹ کلنگ کے زریعے انکا قتل اس بات کی علامت ہے کہ بلوچستان میں علمی آوازیں بھی اب محفوظ نہیں رہیں، اور خوف و جبر کا دائرہ سماجی زندگی کے ہر شعبے تک پھیل چکا ہے۔

مزید کہاکہ جبری گمشدگیوں کے علاوہ بھی بلوچستان میں مسلسل ٹارگٹ کلنگ، جبری حراسانیاں اور غیر واضح مسلح کارروائیاں ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہی ہیں جہاں انسانی زندگی کی حرمت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور ایک مسلسل بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ کسی بھی مہذب ریاست میں ایسے واقعات کی گنجائش نہیں ہو سکتی جہاں لاشیں گرنے کے بعد انصاف کے دروازے غیر واضح ہو
جائیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعے کی ذمہ داری صرف کسی ایک فرد یا گروہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک بڑے سیاسی اور انتظامی بحران کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقت، قانون اور جوابدہی کے درمیان توازن بگڑ چکا ہے۔ ایسے حالات میں خاموشی جرم کے مترادف ہے، اور مسلسل بے عملی معاشرے کو مزید گہرے عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس پورے تسلسل کو انسانی، سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر ناقابلِ قبول سمجھتی ہے اور اس امر پر زور دیتی ہے کہ بلوچستان میں علم، فکر اور اختلاف رائے کو تحفظ دینا بنیادی حقوق میں شامل ہے۔