کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری، ایک شخص جبری لاپتہ، ایک بازیاب

21

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ تنظیم کے رہنما نیاز محمد کی سربراہی میں 6196ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے جبری گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی عدم بازیابی متاثرہ خاندانوں کے لیے مسلسل ذہنی اذیت اور بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کرکے ان کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔

جبکہ تمپ اور سوراب سے ایک جبری گمشدگی اور ایک بازیابی کا کیس سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تمپ کے علاقے آسیا آباد سے 26 سالہ کمبر حمزہ ولد ماسٹر حمزہ کو 12 جون 2026 کی علی الصبح تقریباً 3:30 بجے ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب سوراب کے علاقے حاجیکا سے 12 روز بعد ایک شہری عبیداللہ ولد محمد یعقوب کو بازیاب کرایا گیا۔ انہیں 1 جون 2026 کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا اور 12 جون 2026 کو وہ بازیاب ہو کر اپنے آبائی علاقے حاجیکا، سوراب میں واپس پہنچے۔