سائیں بلال: پروانہ اور چراغ ۔ سفرخان بلوچ (آسگال)

53

سائیں بلال: پروانہ اور چراغ
تحریر: سفرخان بلوچ (آسگال)
دی بلوچستان پوسٹ

رات کے اس پہر میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھ رہی ہیں، وقت گزر رہا ہے، رات اپنی گہرائی میں اترتی جا رہی ہے، مگر میرے اندر وقت جیسے کسی ایک لمحے پر رک گیا ہے۔ باہر شاید ہر چیز معمول کے مطابق ہے، مگر میرے اندر ایک غیر معمولی کیفیت برپا ہے۔ ایسی کیفیت جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ کبھی کبھی انسان کے اندر سوال پیدا نہیں ہوتے، بلکہ سوال اس کے اندر اترتے ہیں۔ وہ خاموشی سے آتے ہیں، دل و دماغ کے کسی گوشے میں جگہ بناتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پورے وجود پر قابض ہو جاتے ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ کسی اور بات میں خود کو مصروف کر لے، کسی اور موضوع پر سوچے، کسی اور سمت چلا جائے، مگر سوال اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

آج رات میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ میں جواب تلاش نہیں کر رہا، شاید اس لیے کہ مجھے معلوم ہے کہ بعض سوالات کے جواب اتنے آسان نہیں ہوتے۔ میں صرف ان سوالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میرے اندر مسلسل جنم لے رہے ہیں۔ انسان کی زندگی عجیب ہے۔ ہم روزانہ سینکڑوں لوگوں سے ملتے ہیں، ہزاروں باتیں سنتے ہیں، بے شمار واقعات دیکھتے ہیں، مگر ان میں سے صرف چند چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمارے اندر گھر بنا لیتی ہیں۔ کچھ منظر ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں سے زیادہ ذہن میں محفوظ ہوتے ہیں۔ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے۔ میرے لیے بھی ایک ایسا ہی لمحہ ایک مختصر سی ویڈیو سے شروع ہوا۔ بظاہر وہ چند لمحوں کی ایک عام ویڈیو تھی۔ شاید بہت سے لوگ اسے دیکھ کر آگے بڑھ گئے ہوں گے۔ شاید بہت سے لوگوں نے اس پر توجہ بھی نہ دی ہو۔ مگر میرے لیے وہ چند لمحے ایک ایسے سوال میں تبدیل ہو گئے جس سے میں آج تک باہر نہیں نکل سکا۔
اس ویڈیو میں ایک نوجوان رات کے کسی پہر ایک سفید رنگ کی گاڑی میں بیٹھا تھا۔ میں اس کی گفتگو پر غور نہیں کر رہا تھا۔ میں اس کے الفاظ نہیں سن رہا تھا۔ میں اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے سکون کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں موجود اطمینان کو دیکھ رہا تھا۔ اور یہی چیز میرے لیے حیرت کا باعث بنی۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ وہ کوئی عام گاڑی نہیں تھی۔ وہ بارود سے بھری ہوئی تھی۔ اگلے دن وہی گاڑی ایک دھماکے میں تبدیل ہونے والی تھی۔ شاید اگلے دن اسی دھماکے کے ساتھ اس نوجوان کی زندگی بھی ختم ہونے والی تھی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے میرے سوالات کا آغاز ہوتا ہے۔

آخر ایک انسان اپنی موت کے اتنا قریب بیٹھ کر اتنا پرسکون کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سوال سننے میں شاید بہت سادہ لگتا ہو، مگر جتنا میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں اتنا ہی یہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔ کیونکہ میں انسان کو جانتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ انسان کتنا کمزور ہے۔ میں جانتا ہوں کہ انسان کو معمولی سی بیماری خوفزدہ کر دیتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ایک چھوٹا سا خدشہ اس کی نیند اڑا دیتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آنے والے کل کی فکر اسے رات بھر جگا سکتی ہے۔ تو پھر وہ کون سی کیفیت ہے جو ایک نوجوان کو اپنی آخری رات میں بھی سکون عطا کر دیتی ہے؟ یہ سوال صرف اس نوجوان کے متعلق نہیں ہے۔ یہ سوال انسان کے متعلق ہے۔ یہ سوال یقین کے متعلق ہے۔ یہ سوال خوف کے متعلق ہے۔ یہ سوال زندگی اور موت کے درمیان موجود اس باریک لکیر کے متعلق ہے جسے ہر انسان جانتا تو ہے مگر سمجھ نہیں پاتا۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ کیا یہ زندگی ہے؟ کیا یہ خوشی ہے؟ کیا یہ کامیابی ہے؟ یا یہ بقا ہے؟ شاید ان سب کے پیچھے ایک ہی چیز موجود ہے اور وہ ہے زندہ رہنے کی خواہش۔ انسان بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ وہ بیمار ہوتا ہے تو علاج کرواتا ہے۔ وہ بھوکا ہوتا ہے تو کھانا تلاش کرتا ہے۔ وہ خطرہ محسوس کرتا ہے تو خود کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا پوری زندگی کسی نہ کسی صورت اپنے وجود کی حفاظت میں گزرتی ہے۔ پھر کچھ لوگ ایسے کیوں ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں؟ یہ سوال مجھے مسلسل پریشان کرتا ہے۔ کیونکہ اگر زندگی انسان کی سب سے بڑی خواہش ہے تو پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں انسان اپنی زندگی سے زیادہ کسی اور چیز کو اہم سمجھنے لگتا ہے؟ وہ کون سا یقین ہے جو وجود سے بڑا ہو جاتا ہے؟ وہ کون سی محبت ہے جو زندگی سے زیادہ قیمتی محسوس ہونے لگتی ہے؟ وہ کون سی ذمہ داری ہے جس کے سامنے موت بھی معمولی دکھائی دینے لگتی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو اس رات میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ میں ان سے بھاگنا بھی نہیں چاہتا۔ شاید اس لیے کہ بعض سوالات انسان کو تکلیف تو دیتے ہیں مگر ساتھ ہی اسے اپنے آپ کے قریب بھی لے آتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ بعض سوالات کا مقصد جواب حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ اور شاید اس لیے بھی کہ انسان کی اصل شناخت اس کے جوابات سے زیادہ اس کے سوالات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آج رات میں انہی سوالات کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ میرے سامنے کوئی فلسفہ نہیں۔ میرے پاس کوئی حتمی نتیجہ نہیں۔ میرے پاس صرف ایک منظر ہے۔ ایک نوجوان۔ رات کا ایک پہر۔ بارود سے بھری ایک گاڑی۔ اور ایک ایسا سکون جس نے میرے اندر ایک طویل بے چینی کو جنم دے دیا ہے۔ شاید یہی بے چینی اس تحریر کا اصل سبب ہے۔ شاید یہی بے چینی آنے والے صفحات میں مجھے ان سوالات کے مزید قریب لے جائے گی جن کے جواب میں تلاش کر رہا ہوں۔ اور شاید آخر تک پہنچ کر بھی میرے پاس جواب نہ ہو۔ مگر بعض اوقات سوال کے ساتھ زندہ رہنا، جواب پا لینے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔

میں جب اس نوجوان کے متعلق سوچتا ہوں تو اس سے پہلے میرا ذہن خود انسان کی طرف چلا جاتا ہے۔ آخر انسان ہے کیا؟ چند سانسوں کا نام؟ چند خواہشوں کا مجموعہ؟ یا پھر خوف اور امید کے درمیان معلق ایک ایسی مخلوق جو ساری زندگی کسی نہ کسی چیز کے انتظار میں گزار دیتی ہے؟ میں جتنا انسان کے بارے میں سوچتا ہوں اتنا ہی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی دو بنیادی احساسات کے گرد گھومتی ہے: امید اور خوف۔ امید اسے آگے بڑھاتی ہے۔ خوف اسے بچا کر رکھتا ہے۔ امید نہ ہو تو زندگی رک جاتی ہے اور خوف نہ ہو تو زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ شاید اسی لیے خوف انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔ ایک بچہ جب پہلی مرتبہ آگ کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو اسے خطرے کا شعور نہیں ہوتا، مگر جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے، خوف اس کی شخصیت کا حصہ بنتا جاتا ہے۔ وہ بلندی سے ڈرنا سیکھتا ہے، اندھیرے سے ڈرنا سیکھتا ہے، نقصان سے ڈرنا سیکھتا ہے، جدائی سے ڈرنا سیکھتا ہے اور آخرکار موت سے ڈرنا سیکھتا ہے۔ اور شاید یہ تمام خوف دراصل ایک ہی خوف کی مختلف شکلیں ہیں۔ وجود کے ختم ہو جانے کا خوف۔ انسان اس خوف کو مختلف نام دیتا رہتا ہے، مگر جب ان سب ناموں کو ہٹا دیا جائے تو ان کے پیچھے ایک ہی حقیقت کھڑی نظر آتی ہے: میں ختم نہیں ہونا چاہتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انسان معمولی بیماری پر بھی پریشان ہو جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کی معمولی سی تشویش اسے کئی راتوں تک جاگنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایک حادثے کی خبر اسے لرزا دیتی ہے۔ کسی عزیز کی موت اسے اپنی موت یاد دلا دیتی ہے۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ انسان جتنا بھی مضبوط دکھائی دے، اپنے وجود سے محبت کرتا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے۔ وہ کل کو دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے ادھورے خواب پورے کرنا چاہتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے درمیان رہنا چاہتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ اس لیے موت کا خیال ہی اس کے اندر ایک عجیب سی بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر جب زندگی اور موت کا حقیقی سامنا آتا ہے تو ان کے لہجے بدل جاتے ہیں۔ کیونکہ موت ایک تصور کے طور پر بہت آسان لگتی ہے۔ ہم روز اس کے بارے میں سنتے ہیں۔ اس کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ مگر جب انسان کو محسوس ہو کہ اب یہ تصور نہیں بلکہ حقیقت بننے جا رہی ہے، تب اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ تب انسان اپنے اندر جھانکنے لگتا ہے۔ تب وہ اپنے گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتا ہے۔ تب اسے اپنے لوگ یاد آتے ہیں۔ تب اسے اپنے خواب یاد آتے ہیں۔ تب اسے وہ تمام چیزیں یاد آتی ہیں جنہیں وہ معمولی سمجھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس نوجوان کے سکون کو سمجھ نہیں پاتا۔ کیونکہ میں انسان کو جانتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ہم کتنی آسانی سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ ایک امتحان کی رات ہمیں نیند نہیں آتی۔ ایک جدائی ہمیں توڑ دیتی ہے۔ ایک غیر یقینی مستقبل ہمیں خوفزدہ کر دیتا ہے۔ تو پھر ایک ایسا انسان جو جانتا ہے کہ آنے والا دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو، وہ کیسے اتنا پرسکون ہو سکتا ہے؟ یہ سوال جتنا سادہ دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی گہرا ہے۔ کیونکہ یہاں صرف موت کا سوال نہیں۔ یہاں خوف کے خاتمے کا سوال ہے۔ اور میرے نزدیک خوف کا خاتمہ شاید موت سے بھی زیادہ پراسرار چیز ہے۔ کیونکہ انسان موت کا سامنا تو کر سکتا ہے، مگر خوف کے بغیر موت کا سامنا کرنا ایک بالکل مختلف بات ہے۔

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاید خوف صرف جسم کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ شاید خوف روح کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ شاید انسان صرف اس لیے نہیں ڈرتا کہ اس کا جسم ختم ہو جائے گا، بلکہ اس لیے بھی ڈرتا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہوتا اس کے بعد کیا ہوگا؟ غیر یقینی صورتحال ہمیشہ خوف پیدا کرتی ہے۔ اور موت سے زیادہ غیر یقینی چیز شاید کوئی نہیں۔ لیکن پھر میں دوبارہ اسی نوجوان کی طرف لوٹتا ہوں۔ اس کے چہرے پر موجود سکون مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید اس کے لیے موت غیر یقینی نہیں تھی۔ شاید اس کے اندر کوئی ایسا یقین موجود تھا جس نے اس غیر یقینی کو ختم کر دیا تھا۔ شاید اس نے اپنے اندر وہ سوال حل کر لیا تھا جو میرے اندر ابھی تک حل نہیں ہوا۔ اور یہی چیز مجھے حیران کرتی ہے۔ کیونکہ میں اس کے فیصلے پر گفتگو نہیں کر رہا۔ میں اس کے عمل کا تجزیہ نہیں کر رہا۔ میں صرف اس کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں جس نے اسے اتنا مطمئن بنا دیا۔ وہ کیفیت کیا تھی؟ کیا وہ عقیدہ تھا؟ کیا وہ یقین تھا؟ کیا وہ محبت تھی؟ یا وہ ذمہ داری تھی؟ یاکہ قومی نظریہ کی پختگی؟شاید یہ سب چیزیں مل کر ایک ایسی حالت پیدا کرتی ہیں جہاں انسان اپنی ذات سے بڑا ہو جاتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں خوف کمزور پڑنے لگتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسے لوگ خوف محسوس نہیں کرتے ہوں گے۔ وہ بھی انسان ہوتے ہیں۔ ان کے بھی دل دھڑکتے ہوں گے۔ انہیں بھی اپنے عزیز یاد آتے ہوں گے۔ انہیں بھی زندگی سے محبت ہوتی ہوگی۔ مگر شاید فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک کوئی اور چیز خوف سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہے۔ اور جب کوئی چیز خوف سے بڑی ہو جائے تو خوف اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بعض لوگ اپنے آخری لمحات میں بھی مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے چہرے پر گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ ان کی آواز میں لرزش نہیں ہوتی۔ ان کی آنکھوں میں انتشار نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اپنی منزل کا فیصلہ بہت پہلے کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کی جنگ آخری لمحے میں نہیں چل رہی ہوتی۔ وہ جنگ تو وہ اپنے اندر بہت پہلے لڑ چکے ہوتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے آخری لمحہ ان کے لیے فیصلہ نہیں بلکہ اس فیصلے کی تکمیل بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آ کر میرے سوال مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر خوف پر یقین غالب آ سکتا ہے تو پھر یقین کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اگر انسان اپنے وجود سے بڑھ کر کسی چیز سے محبت کر سکتا ہے تو پھر وہ محبت کتنی گہری ہوتی ہوگی؟ اور اگر ایک مقصد انسان کو اپنی موت کے سامنے بھی پرسکون رکھ سکتا ہے تو پھر وہ مقصد انسان کے دل میں کس مقام پر ہوتا ہوگا؟ یہی سوال مجھے آگے بڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اور یہی سوال مجھے  پھربلال سائیں کی طرف لے جاتے ہیں۔

بعض اوقات پوری زندگی کے سوالات کسی کتاب سے پیدا نہیں ہوتے۔ کوئی فلسفہ انہیں جنم نہیں دیتا۔ کوئی طویل گفتگو ان کی بنیاد نہیں بنتی۔ کبھی کبھی صرف ایک منظر کافی ہوتا ہے۔ چند سیکنڈز کا ایک منظر۔ ایک ایسا منظر جو آنکھوں سے گزر جاتا ہے مگر ذہن میں رہ جاتا ہے۔ میرے لیے بھی شاید یہی ہوا تھا۔ میں نے اس ویڈیو کو دیکھا اور بظاہر اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ دنیا میں روز ہزاروں ویڈیوز بنتی ہیں، لاکھوں لوگ انہیں دیکھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ مگر بعض اوقات کوئی ایک منظر انسان کے اندر ایسے اتر جاتا ہے جیسے وہ کسی یاد کی صورت نہیں بلکہ کسی سوال کی صورت آیا ہو۔ اس ویڈیو میں ایک نوجوان تھا۔ رات کا وقت تھا۔ ایک سفید رنگ کی گاڑی تھی۔ اور وہ گاڑی بارود سے بھری ہوئی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ اس وقت موسم کیسا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ اس رات آسمان پر چاند تھا یا نہیں۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس نوجوان کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔ مگر میں ایک چیز جانتا ہوں۔ وہ پرسکون تھا۔ اور شاید یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے اس منظر کے ساتھ باندھ دیا۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اس رات اس کے اردگرد کتنی خاموشی ہوگی۔ رات کے آخری پہر کی خاموشی ویسے بھی عجیب ہوتی ہے۔ دن کے شور ختم ہو جاتے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں واپس جا چکے ہوتے ہیں۔ راستے سنسان ہو جاتے ہیں۔ اور انسان پہلی مرتبہ اپنے آپ کو سننے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے رات انسان کے سب سے سچے خیالات کی ساتھی ہوتی ہے۔ دن میں ہم دوسروں سے بات کرتے ہیں۔ رات میں ہم اپنے آپ سے بات کرتے ہیں۔ اور میں سوچتا ہوں کہ اس رات وہ نوجوان اپنے آپ سے کیا باتیں کر رہا ہوگا؟ کیا وہ اپنے بچپن کے بارے میں سوچ رہا ہوگا؟ کیا اسے اپنی ماں یاد آئی ہوگی؟ کیا اسے اپنے دوست یاد آئے ہوں گے؟ کیا اسے اپنی زندگی کے وہ لمحے یاد آئے ہوں گے ؟ یا پھر وہ ان تمام چیزوں سے بہت آگے نکل چکا تھا؟ یہ سوال میرے ذہن میں بار بار آتا ہے۔ کیونکہ میں خود کو اس کی جگہ رکھ کر سوچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر میں جانتا ہوں کہ کل میری زندگی کا آخری دن ہو تو کیا میں اتنا پرسکون رہ سکتا ہوں؟ اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے سامنے موجود راستہ واپس نہیں آئے گا تو کیا میں اسی طرح خاموش بیٹھ سکتا ہوں؟ اگر مجھے یقین ہو کہ آنے والی صبح میرے لیے آخری صبح ہو سکتی ہے تو کیا میں اس سکون کو برقرار رکھ سکتا ہوں؟ اور ہر بار میرا جواب خاموشی ہوتا ہے۔ کیونکہ میں اس کیفیت کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ میں صرف اس کے بارے میں سوچ سکتا ہوں۔ پھر میں اس منظر کو دوبارہ ذہن میں لاتا ہوں۔ ایک نوجوان۔ بارود سے بھری گاڑی۔ رات کا آخری پہر۔ اور ایک عجیب سا اطمینان۔ یہاں میرا سوال اس کے عمل کے متعلق نہیں ہے۔ میرا سوال اس کی نفسیات کے متعلق بھی نہیں ہے۔ میرا سوال اس کیفیت کے متعلق ہے جو ایک انسان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے۔ کیونکہ انسان عام طور پر انجام کے قریب آ کر زیادہ بے چین ہو جاتا ہے۔ امتحان قریب ہو تو پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ سفر قریب ہو تو تیاری بڑھ جاتی ہے۔ کسی اہم فیصلے کا وقت آئے تو اضطراب بڑھ جاتا ہے۔ مگر یہاں معاملہ بالکل الٹ نظر آتا ہے۔ جتنا اختتام قریب ہے اتنا ہی سکون نمایاں ہے۔ اور یہی چیز مجھے حیران کرتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ شاید انسان کی سب سے بڑی جنگ دوسروں کے ساتھ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے اندر لڑتا ہے۔ اور شاید کچھ لوگ اپنی بڑی جنگیں دنیا کے سامنے آنے سے پہلے ہی جیت چکے ہوتے ہیں۔ شاید وہ نوجوان بھی اپنی اصل جنگ اس رات نہیں لڑ رہا تھا۔ شاید وہ جنگ بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ شاید وہ اپنے خوف سے بہت پہلے لڑ چکا تھا۔ شاید وہ اپنے سوالوں سے بہت پہلے گزر چکا تھا۔ شاید وہ اپنے فیصلے تک بہت پہلے پہنچ چکا تھا۔ اور اسی لیے اس رات اس کے اندر کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ کیونکہ انسان جب کسی فیصلے کو پوری طرح قبول کر لیتا ہے تو پھر اس کے اندر موجود شور آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ بے چینی اکثر غیر یقینی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان دو راستوں کے درمیان کھڑا ہو تو پریشان ہوتا ہے۔ جب فیصلہ باقی ہو تو پریشان ہوتا ہے۔ جب منزل واضح نہ ہو تو پریشان ہوتا ہے۔ مگر جب فیصلہ مکمل ہو جائے تو ایک عجیب سا سکون پیدا ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ شاید اس نوجوان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ شاید اس کے اندر فیصلہ باقی نہیں تھا۔ شاید اس کے اندر سوال باقی نہیں تھے۔ اور شاید اسی لیے وہ سکون موجود تھا جو میرے لیے ایک معمہ بن گیا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو اپنی زندگی کا مقصد طے کر لیتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ مسلسل سوال کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ مسلسل سفر کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں پہلی قسم میں شامل ہوں۔ اسی لیے شاید میں اس نوجوان کو دیکھ کر حیران ہوں۔ کیونکہ میں سوالوں میں کھڑا ہوں اور وہ شاید جواب تک پہنچ چکا تھا۔ میں ابھی بھی سوچ رہا ہوں کہ انسان کیوں جیتا ہے۔ اور شاید وہ یہ طے کر چکا تھا کہ وہ کس لیے جیتا ہے۔ میں ابھی بھی خوف اور یقین کے درمیان کھڑا ہوں۔ اور شاید وہ یقین کے اس مقام تک پہنچ چکا تھا جہاں خوف کی آواز بہت مدھم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میرے ذہن میں ایک اور نام ابھرتا ہے۔ بلال سائیں۔ کیونکہ جب میں اس نوجوان کے سکون کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بار بار وہ لوگ یاد آتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا اختتام آنے سے پہلے ہی قبول کر لیا تھا۔ وہ لوگ جو زندگی سے محبت کرتے تھے مگر اپنے مقصد سے اس سے بھی زیادہ محبت کرتے تھے۔ وہ لوگ جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنستے تھے، ان کے ساتھ سفر کرتے تھے، ان کے ساتھ تکلیف برداشت کرتے تھے، مگر ان سب کے باوجود اپنے انجام سے نظریں نہیں چراتے تھے۔ اور بلال سائیں بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔

جب میں سکون کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں بار بار ایک نام آتا ہے۔ بلال سائیں۔ بعض لوگ کتابوں کی طرح ہوتے ہیں۔ آپ انہیں جتنا پڑھتے ہیں اتنا ہی محسوس کرتے ہیں کہ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک حصہ آپ کے سامنے ہوتا ہے اور ایک حصہ ہمیشہ پردے کے پیچھے رہتا ہے۔ بلال سائیں بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ میں جب ان کے بارے میں سننے والوں کی باتیں سنتا ہوں تو مجھے سب سے پہلے ان کی بہادری نہیں، ان کی مہربانی نظر آتی ہے۔ ان کے ساتھی جب ان کا ذکر کرتے ہیں تو اکثر ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے۔ یہ کیفیت صرف اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی ایسے شخص کو یاد کر رہا ہو جس نے اس کے دل میں جگہ بنائی ہو۔ کیونکہ خوف انسان کو متاثر کر سکتا ہے۔ طاقت انسان کو حیران کر سکتی ہے۔ مگر محبت انسان کو یادگار بنا دیتی ہے۔ اور بلال سائیں کے بارے میں جتنا سنا ہے، اس میں سب سے نمایاں چیز یہی محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ طاقت سے نہیں بلکہ محبت سے بنائی تھی۔ یہ بات مجھے ہمیشہ حیران کرتی ہے۔ کیونکہ عام طور پر جب ہم ایسے لوگوں کا تصور کرتے ہیں جو سخت حالات میں زندگی گزارتے ہیں تو ہمارے ذہن میں سخت مزاج شخصیت کا خاکہ بنتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلسل مشکلات انسان کو سخت کر دیتی ہیں۔ مسلسل خطرات اسے بے حس بنا دیتے ہیں۔ مسلسل جدوجہد اسے کھردرا بنا دیتی ہے۔ مگر بعض لوگ اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ جتنی زیادہ سختی ان کی زندگی میں آتی ہے اتنی ہی زیادہ نرمی ان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ جتنا زیادہ درد وہ خود برداشت کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ دوسروں کے درد کو سمجھنے لگتے ہیں۔ بلال سائیں بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل تھے۔ ان کے ساتھیوں کی باتوں سے یہی محسوس ہوتا ہے۔ وہ جب ان کے متعلق گفتگو کرتے ہیں تو صرف ایک رفیق کا ذکر نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے انسان کا ذکر کرتے ہیں جس نے اپنے اردگرد موجود لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کسی انسان کی اصل پہچان کیا ہوتی ہے؟ کیا اس کے بڑے کارنامے؟ کیا اس کی شہرت؟ کیا اس کی کامیابیاں؟ یا وہ تاثرات جو وہ اپنے بعد چھوڑ جاتا ہے؟ اگر آخری بات درست ہے تو پھر بلال سائیں کے متعلق سننے والوں کی گفتگو خود ان کی شخصیت کی گواہی دیتی ہے۔ کیونکہ وقت گزرنے کے باوجود لوگ ان کی مہربانی کو یاد کرتے ہیں۔ ان کے نرم لہجے کو یاد کرتے ہیں۔ ان کے رویے کو یاد کرتے ہیں۔ اور شاید یہی کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ لوگ اس کے جانے کے بعد بھی اس کے اخلاق کا ذکر کریں۔ مگر میرے لیے بلال سائیں کی زندگی کا سب سے حیران کن پہلو کچھ اور ہے۔ وہ یہ احساس ہے کہ انہوں نے اپنے سفر کے اختتام کو بہت پہلے قبول کر لیا تھا۔

یہ جملہ بظاہر بہت سادہ لگتا ہے مگر جتنا اس پر غور کیا جائے اتنا ہی اس کی گہرائی سامنے آتی ہے۔ کیونکہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کا آغاز تو کرتے ہیں مگر اس کے اختتام کے بارے میں سوچنا پسند نہیں کرتے۔ ہم مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں۔ ہم آنے والے سالوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ ہم اپنے کل کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گویا ہم سب زندگی کے آغاز کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جبکہ اختتام سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے راستے کا انتخاب کرتے وقت اس کے انجام کو بھی قبول کر لیتے ہیں۔ یہ قبولیت مجھے ہمیشہ حیران کرتی ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان کو خطرات کا اندازہ ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان خطرات کو اپنے فیصلے کا حصہ بنا لیا ہے۔ وہ ان سے بھاگ نہیں رہا۔ وہ انہیں نظر انداز نہیں کر رہا۔ وہ انہیں جانتے ہوئے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں میرے سوالات دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ آخر انسان ایسا کیسے کرتا ہے؟ وہ کون سا یقین ہے جو اسے یہ طاقت دیتا ہے؟ وہ کون سی سوچ ہے جو اسے اپنے انجام کے ساتھ صلح کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟
میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے بلال سائیں سے منسوب ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک محاذ پر وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ان کے ساتھیوں نے انہیں بہت سمجھایا۔ انہیں کہا گیا کہ آپ کو بہتر علاج کی ضرورت ہے۔ آپ کو کچھ عرصے کے لیے کسی محفوظ مقام پر جانا چاہیے۔ آپ کی صحت اس بات کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ ایک فطری بات تھی۔ کوئی بھی اپنے زخمی ساتھی کے لیے یہی چاہے گا۔ اور شاید کوئی بھی انسان ایسی صورت حال میں یہی فیصلہ کرے گا۔ مگر بلال سائیں نے انکار کر دیا۔ ان کے انکار کی وجہ بھی عجیب تھی اور شاید خوبصورت بھی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں کو یہاں چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں؟ مجھے معلوم نہیں میں کتنے عرصے تک ان سے دور رہوں گا۔ یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ میں جب اس جملے پر غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس میں صرف وفاداری نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ پوشیدہ ہے۔ کیونکہ عام طور پر انسان تکلیف کے وقت اپنی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ جب جسم زخمی ہو تو انسان اپنے زخم کے بارے میں سوچتا ہے۔ جب درد ہو تو انسان اپنے درد کے بارے میں سوچتا ہے۔ جب خطرہ ہو تو انسان اپنی حفاظت کے بارے میں سوچتا ہے۔ مگر یہاں ایک زخمی انسان اپنے زخم سے زیادہ اپنے ساتھیوں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یہ کیفیت عام نہیں ہوتی۔ یہ کیفیت شاید اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی ذات سے آگے نکل جاتا ہے۔ انسان کو انسان سے جوڑنے والی چیز نظریات سے پہلے محبت ہی ہوتی ہے۔ اور محبت کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ انسان اپنے آرام پر دوسروں کو ترجیح دینے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے بلال سائیں کا ذکر آتے ہی میرے ذہن میں بہادری سے زیادہ رفاقت کا تصور ابھرتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ جڑا رہا۔ جو ان کے درمیان جیا۔ جو ان کے درمیان زخمی ہوا۔ اور جو ان سے دور ہونے کے تصور کو بھی آسانی سے قبول نہ کر سکا۔ میں نہیں جانتا کہ ان کے اندر کیا چلتا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ ان کے دل میں کون سے خیالات تھے۔ مگر میں اتنا ضرور محسوس کرتا ہوں کہ ان کی زندگی میں کوئی ایسا یقین ضرور موجود تھا جس نے خوف سے زیادہ گہری جڑیں پکڑ لی تھیں۔ بعض لوگ اپنی زندگی کو صرف جیتے نہیں۔ وہ اسے ایک مقصد کے ساتھ بسر کرتے ہیں۔ اور جب مقصد انسان کے وجود سے بڑا ہو جائے تو پھر زندگی اور موت کے پیمانے بھی بدلنے لگتے ہیں۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں میرے سوالات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب سوال صرف ایک نوجوان کے سکون کا نہیں رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا یقین ہے جو انسان کو اپنی ذات سے آگے لے جاتا ہے۔ وہ کون سا جذبہ ہے جو خوف کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ کون سی محبت ہے جو انسان کو اپنے آرام، اپنے زخم اور حتیٰ کہ اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز محسوس ہونے لگتی ہے۔

میں جب اپنے تمام سوالات کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب مختلف راستوں سے چل کر ایک ہی مقام پر پہنچتے ہیں۔ گویا میرے اندر اٹھنے والے تمام سوالات کی جڑ ایک ہی ہے۔ وہ سوال یہ نہیں کہ ایک انسان کیا کرتا ہے۔ وہ سوال یہ بھی نہیں کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو انسان کو اپنے وجود سے بڑا بنا دیتی ہے؟ کیونکہ جتنا میں سوچتا ہوں اتنا ہی محسوس کرتا ہوں کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں ہے۔ اگر انسان صرف جسم ہوتا تو شاید دنیا کے تمام فیصلے آسان ہوتے۔ پھر ہر شخص ہمیشہ محفوظ راستہ چنتا۔ ہر شخص ہمیشہ اپنی جان کو ترجیح دیتا۔ ہر شخص ہمیشہ اپنی راحت کے بارے میں سوچتا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا کی تاریخ ایسے لوگوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے اپنے آرام سے زیادہ کسی اور چیز کو اہم سمجھا۔ کسی نے اپنے خاندان سے بڑھ کر کسی مقصد کو چنا۔ کسی نے اپنی خواہشات سے بڑھ کر اپنی ذمہ داری کو چنا۔ کسی نے اپنی زندگی سے بڑھ کر اپنے یقین کو چنا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں آ کر انسان کا معاملہ صرف جسمانی وجود کا نہیں رہتا۔ وہ کسی اور سطح پر پہنچ جاتا ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ محبت کیا ہے؟ کیونکہ شاید میرے بہت سے سوالات کا تعلق محبت سے بھی ہے۔ عام طور پر جب محبت کا ذکر ہوتا ہے تو انسان کے ذہن میں رشتے آتے ہیں۔ لوگ آتے ہیں۔ یادیں آتی ہیں۔ مگر شاید محبت کی ایک اور شکل بھی ہوتی ہے۔ وہ محبت جو کسی مقصد سے ہوتی ہے۔ وہ محبت جو کسی یقین سے ہوتی ہے۔ وہ محبت جو کسی ذمہ داری سے ہوتی ہے۔ اور شاید یہی محبت انسان کو وہاں تک لے جاتی ہے جہاں عام حساب کتاب ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ محبت کی سب سے عجیب خصوصیت یہ ہے کہ وہ نفع و نقصان کے پیمانے بدل دیتی ہے۔ جو چیز دوسرے لوگوں کو نقصان محسوس ہوتی ہے، محبت کرنے والے کے لیے قربانی بن جاتی ہے۔ جو چیز دوسرے لوگوں کو تکلیف محسوس ہوتی ہے، محبت کرنے والے کے لیے ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اور جو چیز دوسرے لوگوں کو اختتام محسوس ہوتی ہے، محبت کرنے والے کے لیے تکمیل بن جاتی ہے۔ شاید اسی لیے میں بار بار اس سوال کی طرف لوٹتا ہوں کہ آخر کوئی انسان ایک ایسے عمل سے محبت کیسے کر سکتا ہے جس کے نتائج وہ خود دیکھ بھی نہیں سکتا؟ میں اس سوال پر جتنا غور کرتا ہوں اتنا ہی محسوس کرتا ہوں کہ شاید انسان کی زندگی کا بڑا حصہ اسی اصول پر قائم ہے۔ ایک کسان زمین میں بیج بوتا ہے۔ کبھی کبھی اسے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس فصل کی مکمل بہار دیکھ پائے گا یا نہیں۔ مگر وہ پھر بھی بیج بوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ بعض کام نتائج دیکھنے کے لیے نہیں کیے جاتے۔ بعض کام صرف اس لیے کیے جاتے ہیں کہ انسان انہیں درست سمجھتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں یقین جنم لیتا ہے۔ یقین شاید یہی ہے کہ انسان اپنے حصے کا کام مکمل کرے، چاہے اس کے بعد کی کہانی وہ خود نہ دیکھ سکے۔

میں کبھی کبھی محسوس کرتا ہوں کہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ نتیجہ بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ کامیابی بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ انجام بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر زندگی ہمیشہ ایسا موقع نہیں دیتی۔ بعض اوقات انسان صرف بنیاد رکھتا ہے۔ عمارت کوئی اور مکمل کرتا ہے۔ بعض اوقات انسان صرف ایک دروازہ کھولتا ہے۔ اس دروازے سے گزرنے والے لوگ کوئی اور ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انسان صرف ایک چراغ جلاتا ہے۔ اس روشنی میں سفر کرنے والے لوگ کوئی اور ہوتے ہیں۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ذمہ داری کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ ذمہ داری ہمیشہ مکمل کہانی کا نام نہیں ہوتی۔ ذمہ داری صرف اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کا نام ہوتی ہے۔ میں جب بلال سائیں کے متعلق سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا ہے۔ شاید ان کے نزدیک بھی معاملہ یہی تھا۔ شاید وہ پوری کہانی کے مالک نہیں تھے۔ شاید وہ صرف اپنے حصے کے کردار کے ذمہ دار تھے۔ اور جب انسان اپنے کردار کو سمجھ لیتا ہے تو پھر اس کے اندر موجود بہت سی بے چینیاں ختم ہونے لگتی ہیں۔ کیونکہ بے چینی اکثر وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں انسان اپنے اختیار اور اپنی خواہش کے درمیان فرق بھول جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہر نتیجے کو اپنے مطابق دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہر انجام پر اپنا اختیار چاہتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اختیار کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس کے بعد صرف بھروسہ باقی رہ جاتا ہے۔ اور شاید یہی بھروسہ یقین کی پہلی شکل ہے۔ میں جب اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں بار بار ایک ہی تصور آتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو اپنی ذمہ داری کو اپنی ذات سے زیادہ اہم سمجھنے لگا تھا۔ ایک ایسا انسان جو اپنے حصے کے سفر کو مکمل کرنے نکل چکا تھا۔ ایک ایسا انسان جو شاید جانتا تھا کہ اس کے بعد کی کہانی وہ خود نہیں دیکھ سکے گا۔ مگر اس کے باوجود وہ آگے بڑھ رہا تھا۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ اس کے نزدیک مقصد، مشاہدے سے زیادہ اہم ہو چکا تھا۔ شاید اس لیے کہ اس کے نزدیک سچائی، ذاتی بقا سے بڑی ہو چکی تھی۔ اور شاید اس لیے کہ اس نے اپنی زندگی کو کسی ایسے یقین کے سپرد کر دیا تھا جو خوف سے زیادہ طاقتور تھا۔ میں یہ سب لکھتے ہوئے بھی اس سوال کا حتمی جواب نہیں دے سکتا۔ شاید میں کبھی نہ دے سکوں۔ کیونکہ بعض کیفیات کو صرف سمجھا جا سکتا ہے، مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ایک بات میں ضرور محسوس کرتا ہوں۔ انسان جب صرف اپنے لیے جیتا ہے تو اس کی دنیا اس کی ذات تک محدود رہتی ہے۔ مگر جب وہ کسی بڑے یقین، کسی بڑی محبت یا کسی بڑی ذمہ داری کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو اس کی زندگی کا پیمانہ بدل جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی ذات سے آگے دیکھنے لگتا ہے۔ پھر وہ اپنے آرام سے آگے سوچنے لگتا ہے۔ پھر وہ اپنے خوف سے آگے بڑھنے لگتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انسان اپنی زندگی کا مطلب تلاش کر لیتا ہے۔ ممکن ہے کہ میرے سوالوں کا جواب بھی کہیں اسی مقام پر موجود ہو۔ ممکن ہے کہ اس سکون کا راز بھی یہی ہو۔ ممکن ہے کہ بلال سائیں کی ثابت قدمی کا سرچشمہ بھی یہی ہو۔ اور ممکن ہے کہ انسان کے تمام بڑے فیصلوں کے پیچھے بھی آخرکار یہی تین چیزیں کھڑی ہوں: یقین۔ محبت۔ اور ذمہ داری۔ شاید یہی تینوں مل کر انسان کو وہاں تک لے جاتی ہیں جہاں خوف اپنی آخری حد تک پہنچ کر خاموش ہو جاتا ہے۔

اب جب میں اس تحریر کے آخری صفحات تک پہنچ چکا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں نے جتنے سوال لکھے ہیں، شاید ان سے زیادہ سوال ابھی بھی میرے اندر موجود ہیں۔ شروع میں مجھے لگتا تھا کہ شاید لکھتے لکھتے میں کسی نتیجے تک پہنچ جاؤں گا۔ شاید اس نوجوان کے سکون کی کوئی وجہ سمجھ آ جائے گی۔ شاید بلال سائیں کی زندگی کا کوئی ایسا پہلو سامنے آ جائے گا جو میرے تمام سوالوں کو ایک جواب میں سمو دے گا۔ مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ بعض سوالات جواب حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔ بعض سوالات انسان کو اپنے اندر سفر کروانے کے لیے ہوتے ہیں۔ اور شاید میرا سفر بھی یہی تھا۔

میں اس تحریر کے آغاز میں ایک ویڈیو کے سامنے کھڑا تھا۔ ایک نوجوان۔ ایک سفید گاڑی۔ بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی۔ رات کا ایک پہر۔ اور ایک ایسا سکون جسے میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اب اس تحریر کے اختتام پر بھی میں اسی منظر کے سامنے کھڑا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس منظر کے اردگرد بہت سے اور سوال جمع ہو چکے ہیں۔ اب میرے سامنے صرف وہ نوجوان نہیں۔ میرے سامنے انسان بھی ہے۔ اس کا خوف بھی ہے۔ اس کی محبت بھی ہے۔ اس کا یقین بھی ہے۔ اس کی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اور اس کے وجود کی وہ تمام پرتیں بھی ہیں جنہیں شاید ہم روزمرہ زندگی میں دیکھ نہیں پاتے۔

میں نے اس پوری تحریر میں بار بار ایک ہی سوال مختلف انداز میں پوچھا ہے۔ آخر کوئی انسان کیسے، کیوں اور کس لیے ایک ایسے عمل سے محبت کر سکتا ہے جس کے نتائج وہ خود اپنی آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھ سکے گا؟ میں آج بھی اس سوال کا مکمل جواب نہیں جانتا۔ شاید میں کبھی نہ جان سکوں۔ کیونکہ کچھ جوابات صرف الفاظ میں نہیں ہوتے۔ کچھ جوابات صرف تجربات میں ہوتے ہیں۔ کچھ جوابات صرف ان لوگوں کے پاس ہوتے ہیں جو ان راستوں پر چلتے ہیں جنہیں دور سے دیکھنے والے صرف حیرت کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ مگر اس سفر کے دوران میں ایک بات ضرور سمجھ پایا ہوں۔ انسان کی زندگی صرف اس کے جسم کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی تمام کہانیاں ایک جیسی ہوتیں۔ پھر ہر شخص صرف اپنی حفاظت کے بارے میں سوچتا۔ پھر ہر شخص صرف اپنے فائدے کا حساب لگاتا۔ پھر ہر شخص صرف اپنی بقا کو مقصد بناتا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ انسان کے اندر کچھ اور بھی موجود ہے۔ کوئی ایسی چیز جو کبھی محبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کبھی یقین کی صورت۔ کبھی ذمہ داری کی صورت۔ اور کبھی ایک ایسے سکون کی صورت جسے دیکھ کر دوسرے لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔ شاید اسی چیز نے اس کو اس رات پرسکون رکھا تھا۔ شاید اسی چیز نے بلال سائیں کو اپنے ساتھیوں سے جدا ہونے پر آمادہ نہیں ہونے دیا تھا۔ شاید اسی چیز نے انہیں اپنے انجام کے ساتھ بہت پہلے صلح کر لینا سکھا دیا تھا۔ اور شاید اسی چیز کو سمجھنے کی کوشش میں میں یہ ساری تحریر لکھتا رہا ہوں۔ لیکن پھر بھی، جب میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں تو میرے ذہن میں کوئی فلسفیانہ جملہ نہیں آتا۔ کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ کوئی آخری جواب نہیں ملتا۔ صرف ایک منظر ابھرتا ہے۔ رات کا ایک پہر۔ خاموشی۔ ایک سفید رنگ کی گاڑی۔ بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی۔ اور اس کے اندر بیٹھا ایک نوجوان۔ میں اس کے چہرے کو دیکھتا ہوں۔ اس کے سکون کو دیکھتا ہوں۔ اور پھر اپنے آپ سے وہی سوال کرتا ہوں جس سے یہ پوری تحریر شروع ہوئی تھی۔ آخر وہ اس رات کیا سوچ رہا تھا؟ اس کے دل میں کیا چل رہا تھا؟ اس کے اندر ایسا کون سا یقین موجود تھا جس نے خوف کو خاموش کر دیا تھا؟ وہ کون سی محبت تھی جس نے اسے اپنے وجود سے آگے دیکھنا سکھا دیا تھا؟ اور وہ کون سی سچائی تھی جس تک پہنچ کر انسان اپنی زندگی اور اپنی موت دونوں کو ایک ہی سکون کے ساتھ قبول کر لیتا ہے؟ شاید اس سوال کا جواب صرف اسی کے پاس تھا۔ اور شاید بعض اوقات یہی کافی ہوتا ہے کہ انسان سوال کو زندہ رکھے۔ کیونکہ بعض سوالات کا حسن ان کے جواب میں نہیں، ان کی بقا میں ہوتا ہے۔ اور آج رات، اس پہر، میں ابھی تک اسی سوال کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ خاموش۔ متحیر۔ اور جواب سے زیادہ اس سوال کی گہرائی کے بارے میں سوچتا ہوا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔