گذشتہ سال جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے ایک نوجوان کی لاش برآمد کرلی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی، جسے اسپتال منتقل کرنے کے بعد اس کی شناخت یونین کونسل جمک گورکوپ کے رہائشی فقیر علی ولد علی بخش کے طور پر کی گئی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق فقیر علی کو گزشتہ سال آبسر کے علاقے شاہ آباد سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جس کے بعد سے وہ منظرِ عام پر نہیں آسکے تھے۔
پاکستانی فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والے فقیر علی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے فقیر علی کی جبری گمشدگی کے حوالے سے متعدد بار سابق ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے ملاقاتیں بھی کی تھیں، تاہم انہیں مسلسل یقین دہانیاں کرائی جاتی رہیں۔
واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے متعدد مواقع پر لاپتہ افراد کے لواحقین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف دھرنے اور احتجاج کا راستہ نہ اپنائیں تو ان کے پیاروں کی بازیابی ممکن بنائی جائے گی، تاہم آج فقیر علی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
بلوچستان میں اس سے قبل بھی زیر حراست افراد کے تشدد کے بعد قتل اور ان کی لاشیں پھینکے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم پاکستانی سیکیورٹی حکام ان واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔



















































