بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ، تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں آج 6182ویں روز میں داخل ہوگیا۔
اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خاتمے سمیت تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
جبری لاپتہ غلام فاروق سرپرہ، صغیر احمد، اقرار احمد، سہیل اور فصیح کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے حکمرانوں، عدالتی اداروں اور انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار فورمز سے مسلسل رجوع کر رہے ہیں، جبکہ ساتھ ہی اپنا پرامن اور جمہوری احتجاج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم اس کے باوجود انہیں ملکی قوانین کے مطابق انصاف نہیں مل رہا، جس کے باعث ان کے خاندان شدید ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں۔
اس موقع پر چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کئی برسوں سے انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن تاحال انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ انصاف میں تاخیر بھی ایک ظلم کے مترادف ہے، انہوں نے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور غلام فاروق سرپرہ، صغیر احمد، اقرار احمد، سہیل اور فصیح سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن افراد پر کسی نوعیت کا الزام موجود ہے انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے، تاکہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو طویل عرصے سے جاری کرب، بے یقینی اور اذیت سے نجات مل سکے۔



















































