بلوچ قومی جنگ میں بلوچ و اسلامی روایت
تحریر: ڈاکٹر امیر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
وکٹر فرینکل نے کہا تھا” کہ تم سے ہر چیز چھینی جاسکتی ہے۔ تمہارا مال تمہاری جان ۔تمہاری آزادی ہر قسم کی مصیبت تم پر نازل ہو سکتی ہے۔ صرف ایک آزادی تم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ وہ یہ کہ تم نے اس مصیبت میں کیسے کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ہر حال میں تمہارا ہی ہو گا”
پہلا قدم ، پہلا فیصلہ ، اور پہلا رسک ہر کوئی نہیں اٹھا سکتا، اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ عالم میں ایسے لوگ ہمیشہ کم رہے ہیں۔ خصوصاً جب ایک عورت پہلا قدم اٹھاتی ہے تو وہ صرف مزاحمت نہیں کرتی، بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے، نو آبادکار کی نام نہاد روایت، خاموشی اور اطاعت کو چیلنج کرتی ہے۔ اسی لیے جدوجہد کرنے والی عورت ہمیشہ ہر تحریک کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔
پہلا قدم اٹھانا سب سے مشکل اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ سماج اسے آسانی سے قبول نہیں کرتا، گھر اور خاندان کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نام نہاد روایتوں سے بغاوت کرنی پڑتی ہے، اور کردار کشی، تنہائی اور خوف کو جھیلنا پڑتا ہے۔ اسی لیے یہ قدم محض حوصلے کا نہیں بلکہ شعور، استقلال اور خود پر یقین کا تقاضا کرتا ہے۔
بلوچ قومی آزادی کی مسلح محاز پر شہناز بلوچ کی شمولیت و جہدوجہد اور اپنی صلاحیت و صفات کی بنیاد پر بی ایل اے کی ایک اہم عہدہ پر پہنچنا اور اپنی کندھوں پر ایک طاقتور تنظیم کی قیادت کا زمہداری اٹھانا یہ صرف محض ایک فیصلہ نہیں ، ہمت نہیں ، علامت نہیں ، بلکہ تاریخی موڑ پر ایک عہد ، ایک تاریخ ہے ، آج ناپاک دشمن اور اس کے پالتو ایجنٹ جس حد تک جس سطح تک شہناز بلوچ کی عظمت و ہمت اور شخصیت کو متنازع کرنے کی کوشش پر سیخ پاء ہوکر مختلف حربے استعمال کرکے منفی ردعمل کا اظہار کررہے ہیں یہ اس حقیقت کی ثبوت ہے کہ شہناز اب صرف ایک کمانڈ نہیں ، بلکہ دشمن کے خلاف اور تحریک کے لیے ایک تواناء طاقت اور ایک واضح سمت ہے وہی سمت جس کو نو آبادیاتی نظام زہر آلود اور گند آلود کرچکا تھا۔
آج باقی دشمن ریاست کی منفی و من گھڑت پروپگنڈہ ایک طرف رکھ کر شہناز بلوچ کی پورے فیملی کو ریاست اور اس کے دلال جس طریقے ہراس کرتے آرہے ہیں اس سے صیح اندازہ کیا جارہا ہے ریاست کس قدر بارود سے زیادہ کرداروں سے خوف زدہ ہے کیونکہ شہناذ اب وہ کردار ہے جو آنے والی نسلوں کی صرف رہنماء اصول نہیں بلکہ بلکہ بلوچ سماج اور بلوچ قومی جنگ ایک جدید انقلاب کی تخلیق ہے۔
آج پنجاپی زدہ بلوچ ، پنڈی و لاہوری میڈ مسلمان اسلامی روایت اور بلوچ روایت کو بری طرح دانستہ مسخ کرکے عورت کی وہ مسخ شدہ روپ بیان کررہے جہاں صرف اور پنجابی چوہدریوں اور پنجاپی جنرلوں کی ذاتی و خاندانی مفادات کے ساتھ ناپاک اور غیر فطری ریاست پاکستان کو فاہدہ ہو۔
کیا وہ صدیوں پہلے بلوچ روایت کو بھول چکے جہاں بی بی بانڑی اور بی بی گل جنگ میں بطور کمانڈر کمان کرتے تھے؟ کیا وہ چودہ سال قبل اسلامی روایت کو بھول چکے جہاں عزہ بنت عامر، رملہ بنت طلیحہ، رعلہ، امامہ، زینب، لبنیٰ بنت حازم، سلمیٰ بنت زارع، مزروعہ بنت عملوق، کعوب بنت مالک، سعیدہ بنت عاصم الخولانی، سلمیٰ بنت ہاشم، نعم بنت فیاض اور سلمیٰ بنت لوی ،یہ سب اسلامی تاریخ کی وہ صحابی و مسلمان خواتین ہیں جنہوں نے جنگ، دفاع اور مزاحمت میں نبی کریم صہ کے ساتھ مل کر جنگی کردار ادا کیا۔
اسلامی تاریخ کی عورت صرف پردوں کے پیچھے بیٹھی ہوئی کردار نہیں تھی؛ وہ قلعوں کے دفاع میں بھی کھڑی تھی، زخمیوں کے درمیان بھی، اور میدانِ جنگ کی صفِ اول میں بھی؟ پاکستان کی وجود و تخلیق خود ہی مقدس اسلامی روایت کے سراسر منافی ہے اور جس طرح پنجاپی قوم اور پنجابی فوج اپنی ذاتی مفادات اور ذاتی عیش و عشرت کی خاطر ۷۷ سالوں سے مقدس اسلام کے نام کو بے رحمی سے استعمال کررہے ہیں وہ پورے تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتا ہے اور اس طرح جس طرح بلوچ قومی تہذیب و تاریخ ، کلچر و شناخت اور حقیقی راویت کو پنجابی قبضہ گیر مسخ اور گند آلود کرچکی ہے اور کسی قابض نے ایس انہیں کیا ہے۔
ضرورت آج اس امر کی ہے قومی آزادی کی جنگ کے ساتھ ساتھ، ہمیں من الحثیت قوم اپنی قومی تاریخ ، قومی تہذیب ، قومی وقار و کلچر اور روایت کو پھر زندہ کرنا ہوگا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































