بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل گجرات کے طلبہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ رات جامعہ گجرات کے بوائز ہاسٹل میں بلوچ طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے سنگین واقعے سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یکم اور 2 جون کو ہاسٹل انتظامیہ نے ہاسٹل میں مقیم بلوچ طلبہ کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا۔ اس دوران طلبہ کو بدسلوکی، جسمانی تشدد، ذہنی اذیت، دھمکیوں اور غیر ضروری ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں، انتظامیہ نے بعض طلبہ کو مختلف گروہوں سے منسلک کرنے کی کوشش بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ اکثر متاثرہ طلبہ کے امتحانات جاری ہیں، لیکن ہاسٹل انتظامیہ نے ان کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہوئے ان کا قیمتی وقت ضائع کیا۔ انتظامیہ نے بعض طلبہ سے ان کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے، جس کے باعث وہ اپنے امتحانات کی تیاری کے لیے دستیاب تعلیمی مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
مزید یہ کہ ہاسٹل انتظامیہ نے طلبہ پر مختلف منشیات اور ممنوعہ اشیاء رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ انتظامیہ نے تقریباً 15 بلوچ طلبہ کے موبائل فونز کی ان کی رازداری (Privacy) کا خیال رکھے بغیر مکمل تلاشی لی، حالانکہ ان کے خلاف کسی بھی غیر اخلاقی یا غیر قانونی سرگرمی کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ طلبہ کے ساتھ ناروا سلوک اور غیر ضروری تشدد کیا گیا، جبکہ انتظامیہ اب تک ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یونیورسٹی آف گجرات کے بوائز ہاسٹل کی انتظامیہ کی جانب سے بلوچ طلبہ کو جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کیے جانے اور ان کے ساتھ توہین آمیز زبان استعمال کیے جانے کے خلاف بلوچ طلبہ نے ہاسٹل کے مرکزی دروازے کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔
احتجاجی طلبہ نے کہاکہ اگرچہ ہمارے کے امتحانات جاری ہیں، اس کے باوجود انہوں نے شدید گرمی اور مچھروں سے بھری طویل رات احتجاج میں گزاری۔ احتجاج کے دوران بعض طلبہ اپنی پڑھائی میں مصروف رہے جبکہ دیگر نے بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں رات بسر کی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہاسٹل انتظامیہ نے تاحال طلبہ کے تحفظات اور مطالبات پر کوئی باضابطہ جواب یا مثبت ردِعمل نہیں دیا۔


















































