جنگ اور بلوچ مائیں
تحریر: کاکا انور بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
قابض پاکستان نے بلوچ قوم اور بلوچستان پر جبر و ستم کی وہ داستان رقم کی ہے جو آنے والے کئی نسلوں تک ہماری قومی یاداشت میں نقش ہوگی۔ آج بلوچستان کا ہر گھر درد کی ایک داستان ہے۔ ہر ماں کے دل میں ایک قبر آباد ہے، ہر بہن کی آنکھ میں انتظار کا صحرا ہے، اور ہر نوجوان کے سینے میں قومی غلامی کے خلاف کی ایک سلگتی ہوئی آگ موجود ہے۔
اگر ایک قوم کی عزت پامال کی جائے، اس کے وسائل لوٹے جائیں، اس کی سرزمین پر اسی کے لوگوں کو بے اختیار کر دیا جائے، اس کے نوجوان لاپتہ کیے جائیں، اور اس کی ماؤں اور بہنوں کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جائے، تو اس قوم کی ماؤں اور بہنوں کے پاس جنگ کے علاوہ اور کیا آپشن باقی رہ جاتی ہے۔
جب بلوچ ماؤں نے اپنے لاپتہ بیٹوں کے لیے آواز بلند کی، انصاف مانگا، اپنے زخم دنیا کو دکھائے، تو ان کے حصے میں انصاف نہیں آیا۔ ان کے حصے میں جیلیں آئیں، دھمکیاں آئیں، جبری گمشدگیاں آئیں، اور ایسے درد آئے جنہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جن کے پیارے نامعلوم ہاتھوں میں چھین لیے گئے، اور ان کے گھروں میں آج تک صرف خاموشی، انتظار اور اذیت باقی ہے۔
ایسے حالات میں بلوچ عورت کا اپنے وجود، اپنی سرزمین، اپنے ساحل، اپنی شناخت اور اپنے قومی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھاکر پہاڑوں کا رخ کرنا ایک فطری اور اصولی عمل ہے۔ آج بلوچ عورت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنگ کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
ستر برسوں کی قومی غلامی اور مسلسل ظلم نے بلوچ عوام کے دلوں میں ایک ایسی آگ پیدا کر دی ہے جو اب ہر نسل میں منتقل ہو رہی ہے۔ ایک ماں جب اپنے لختِ جگر کو قربانی، جدوجہد اور مزاحمت کے راستے پر روانہ کرتی ہے، یا خود ہتھیار اٹھاکر پہاڑوں پر جاتی ہے یا جیکٹ پہن کر فدائی کرتی ہے تو وہ یہ سب شوق میں نہیں کرتی۔ وہ یہ قومی غلامی کی لعنت کے خلاف اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی امید میں کرتی ہے۔
وہ مائیں جو اپنے بچوں کو قربان کرتی ہے، یا خود کو قومی جہد کے لیے وقف کرتی ہے وہ صرف ایک فرد کی قربانی نہیں دیتیں، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کو خوف، غلامی اور جبر سے آزاد کرنے کے لئے ایک امید پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بلوچ معاشرے میں قربانی کو دکھ نہیں، بلکہ عزت، استقامت اور مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
کل اس قومی جنگ میں چند لوگ تھے، آج انہی قربانیوں کے بدولت ہزاروں آوازیں بن چکے ہیں۔ کل ایک اسلم تھا، آج ہزاروں اسلم اس سوچ کی علامت بن چکے ہیں۔ کل ایک شاری بلوچ تھی، آج ہزاروں بلوچ بیٹیاں اپنے وجود، شناخت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے مسلح جدوجہد میں شامل ہوکر جنگ کررہے ہیں۔ یہ صرف چند نام نہیں رہے، بلکہ بلوچ قوم کے درد، قربانی اور مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔
آج حتم ناز جیسی بزرگ مائیں، جو عمر کے آخری حصے میں بھی اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہیں، خاموش رہنے کے بجائے دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھاکر پہاڑوں پر جاتی ہے۔ یہ وہ بلوچ مائیں ہیں جو اپنے بچوں کو خوف میں جیتے نہیں دیکھنا چاہتیں، وہ عزت، شناخت اور بہتر مستقبل کا خواب اپنی آخری سانس تک زندہ رکھتی ہیں۔
شاری بلوچ جیسی مائیں اور بیٹیاں، جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو درد اور اذیت کے ساتھ جدا کرتی ہیں، دراصل ایک ایسے مستقبل کی امید میں یہ قربانیاں برداشت کرتی ہیں جہاں بلوچ نسل خوف، جبر اور غلامی سے آزاد زندگی گزار سکے۔ ان کے قربانی پوری قوم کے اجتماعی حوصلہ اور امید کی تصویر بن چکے ہیں۔
یہ وہ کیفیت ہے جہاں معصوم بچوں سے لے کر بزرگوں تک، سب اپنے مستقبل، اپنی شناخت اور اپنی سرزمین کے تحفظ کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھنے لگتے ہیں۔ بلوچ مظلوم ضرور رہا ہے، مگر اس نے ظلم کے سامنے سر جھکانا قبول نہیں کیا، بلوچ عورتوں نے تاریخ کے ہر دور میں بیرونی قبضہ گیروں کے خلاف ہتھیار اٹھاکر جنگ کی ہے اور آج بھی بلوچ عورت قبضہ گیر کے خلاف جنگ کررہی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اور جبر ہمیشہ عارضی رہے ہیں، جبکہ حق، انصاف اور عوام کی آواز ہمیشہ زندہ رہی ہے۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر دلوں میں جلنے والی آزادی، عزت اور شناخت کی آگ کو کبھی ختم نہیں کر سکتی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































