شہناز طغرائے امتیاز
تحریر: زورین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج بلوچستان کے ان سنگلاخ اور قدیم دفاعی حصوں سے بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں پہلی دفعہ ایک خاتون جنگی کمانڈر شہناز دفاعی محاذ پر موجود ایک عہد ، ایک تاریخ ، اور ایک فسانہ بنتی جارہی ہے ،وہ پہاڑ جنہیں دشمن ‘دشوار گزار’ کہتا ہے اور ہم اپنا ‘مسکن’ مانتے ہیں۔ یہ اس لیئے تاکہ تاریخ کے ان مسخ شدہ صفحات درست ہو، جنہیں قابض نے اپنے جھوٹے پروپیگنڈے سے آلودہ کر رکھا ہے۔ دشمن نے دہائیوں سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ بلوچ مزاحمت ایک پسماندہ اور محدود سوچ کی حامل ہے، کہ یہاں عورت محض ایک خاموش تماشائی یا نوحہ گر ہے۔ لیکن آج شہناز کی محاذ پر موجودگی اس غاصبانہ نظام کی نظریاتی موت کا اعلان ہے۔ سات سال قبل شہناز کی اس جدوجہد کا حصہ بننے کا شعوری سیاسی انتخاب کیا تھا، تو وہ محض ایک جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا ادراک تھا کہ جب ریاست اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہماری قومی شناخت مٹانے پر تلی ہو، تو آزادی کی قیمت چادر اور چاردیواری کے روایتی تصورات سے کہیں زیادہ مقدم ہوتی ہے۔
ان سات سالوں کے تنظیمی سفر نے شہناز کو سکھایا کہ حاکمیتِ وطن کی راہ میں صنف کبھی رکاوٹ نہیں بنتی، بشرطیکہ ارادہ چٹانوں جیسا ہو۔ ایک سپاہی کے طور پر آغاز کرنے سے لے کر، محاذوں پر ہراول دستے کی قیادت اور اب کمانڈر کی حیثیت سے ایک پورے خطے کی عسکری وسیاسی ذمہ داریاں سنبھالنے تک، شہناز نے ہر قدم پر دشمن کے ان تمام مفروضوں کو پاش پاش کیا ہے جو عورت کو کمزوری سے منسوب کرتے ہیں۔ بی ایل اے ایک جدید، روشن خیال اور ہمہ جہت قومی فوج ہے، جہاں صنف نہیں، بلکہ صرف نظریئے کی پختگی، قابلیت اور وفاداری ہی واحد معیارِ انتخاب ہیں۔ ہمارے ہاں عورت اور مرد جدا جدا اکائیاں نہیں ہیں، بلکہ ہم ایک ہی سیاسی نظریئے اور ایک ہی حربی حکمتِ عملی کے تحت دشمن کے ہر وار کا جواب دیتے ہیں۔
شہناز کی للکار و آواز ان تمام بند کمروں، ان تمام زنجیروں اور ان تمام مصلحتوں کو چیرتی ہوئی آپ تک پہنچنی ہے یاد رکھو، جس دن تم نے یہ جان لیا کہ تمہاری گود میں پلنے والی نسلوں کا مستقبل تمہاری اس بندوق کی نالی میں چھپا ہے جو تم نے اپنی دھرتی کے لیے اٹھائی ہے، اس دن کوئی غاصب تمہاری دہلیز پار کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔
اٹھو! اور اپنی قومی فوج کا حصہ بنو۔ یہ تحریک کسی خاص گروہ کی جاگیر نہیں، یہ ان کی ہے جو اپنی مٹی کی حرمت پر کٹ مرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ بی ایل اے کی یہ وردی اور یہ ہتھیار کسی نمائش کے لیئے نہیں، یہ اس عہد کی علامت ہے کہ بلوچ عورت نے اب اپنی تقدیر کا قلم خود تھام لیا ہے۔
شہناز کی قیادت اور شہناز کی فیصلوں پر اپنے ماتحت دستوں کا اعتماد ایک عورت ہونے، کسی روایتی احترام یا مصلحت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ اس حربی برتری اور جنگی بصیرت کا ثمر ہے جسے شہناز نے دشمن سے معرکوں میں ثابت کیا ہے۔ ایک کمانڈر کے طور پر جب وہ نقشوں پر دشمن کی بربادی کی لکیریں کھینچتی ، یا جب وہ اپنی دوربین سے اس کے کیمپوں کی نقل وحرکت کا مشاہدہ کرکے اپنے دستوں کی پوزیشن تبدیل کرنے کا حکم دیتی ، تو وہاں اہمیت صرف اس حکم کی ہوتی ہے جو عسکری ضرورتوں کے عین مطابق ہوتی۔ بی ایل اے روایت پسند اور ترقی پسند دونوں ہے۔ روایت پسند اس لیئے ہیں کہ اپنی مٹی کے ایک ایک انچ اور اپنی تہذیب کی عظمت کے وارث ہیں، لیکن روشن خیال اس لیئے ہیں کہ عورت کو محض محفوظ رکھنے کے بجائے اسے خود محافظ بنا دیا ہے۔
بقول کمانڈر شہناز “تم جس بلوچ عورت کو ایک ‘نرم ہدف’ سمجھتے تھے، وہی اب تمہاری شکستِ فاش کا استعارہ بن چکی ہے۔ تم نے سمجھا تھا کہ تم ہمیں اغوا کرکے، ہمیں زندانوں میں ڈال کر یا ہمیں قتل کرکے خاموش کر دو گے؟ دیکھو! آج بلوچستان کی بیٹیاں تمہارے زوال کی داستان اپنی بندوقوں کی نوک سے لکھ رہی ہیں۔ میں نے ان طویل خون آشام سالوں میں تمہاری توپوں کے دہانے دیکھے ہیں، تمہارے جنگی جہازوں کی گونج سنی ہے، لیکن میرا ارادہ آج بھی ان بلند چوٹیوں سے بلند ہے۔ یاد رکھو! اب ہماری لڑائی صرف دفاعی نہیں رہی۔ ہم تمہارے ان محفوظ ٹھکانوں تک پہنچیں گے جن کا تم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ جس دن میرا کوئی سرمچار تمہاری صفوں میں کہرام مچائے گا، یاد رکھنا کہ اس حملے کا تزویراتی نقشہ اسی بلوچ عورت نے تیار کیا ہوگا جسے تم کمزور سمجھتے تھے۔”
دشمن یاد رکھو! اب یہ جنگ تمہارے خاتمے تک جاری رہے گی۔ تم اپنی فوج کا جھوٹا غرور لے کر آؤ، ہم اپنی مٹی کی غیرت اور اپنے نشانے کی سچائی لے کر آئیں گے۔ تم ہمیں جتنا دباؤ گے، ہم اتنے ہی مہلک بن کر ابھریں گے۔ ہم نے مصلحت کا ہر راستہ ترک کرکے صرف مزاحمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے، اور اب یہ مزاحمت تمہاری ہر جارحیت کا وہ جواب دے گی جس کا تصور تمہارے فوجی جرنیلوں کے پاس بھی موجود نہیں۔ ہم اپنی حاکمیت کی مکمل واگزاری تک لڑیں گے۔ ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک اس مٹی کا ہر ذرہ غاصب کے ناپاک قدموں سے پاک نہیں ہو جاتا۔ اب صنف نہیں، بلکہ خالص شعور اور حربی برتری لڑینگے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔














































