کانک: معدنیات لیجانے والی گاڑیاں نذرآتش، نوشکی میں ناکہ بندی

62

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد نے معدنیات لے جانے و الی گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا ہے جبکہ نوشکی میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی جاری ہے۔

آج صبح مستونگ کے علاقے کانک میں کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد نے کرومائیٹ لیجانے والی پانچ گاڑیوں کو تحویل میں لینے کے بعد نذرآتش کرکے تباہ کردیا۔

دریں اثناء نوشکی کے علاقے مَل میں بھی کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ کا کنٹرول مسلح افراد نے لے لیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد کی بڑی تعداد مرکزی شاہراہ پر موجود ہیں جو گاڑیوں کی چیکنگ کررہے ہیں۔

یہ واقعات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب بلوچ لبریشن آرمی نے کوئٹہ – تفتان آر سی ڈی شاہراہ پر شیخ واصل، کردگاپ، نوشکی اور دالبندین میں پانچ کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مذکورہ حملوں میں شیخ واصل کے مقام پر معدنیات لیجانے والی بیس گاڑیوں کے قافلے پر حملے سمیت نوشکی میں دو اور دالبندین میں ایک مقام پر ناکہ بندیاں شامل ہیں جبکہ دالبندین سے سیاہ دک پروجیکٹ کے تین اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا گیا۔

کانک اور نوشکی میں کاروائیوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

گذشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صادق عمرانی نے بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وزرا بھی اپنے علاقوں تک زمینی راستوں سے جانے سے قاصر ہیں۔

صادق عمرانی نے اسمبلی کے بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور انتظامیہ امن و امان کے قیام پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود صورتحال قابو میں نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق پولیس “غائب” دکھائی دیتی ہے جبکہ ایف سی اہلکار شام پانچ بجے کے بعد اپنے کیمپوں میں چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں خضدار، ژوب اور نصیر آباد کی اہم شاہراہیں بند ہیں۔