سینکڑوں بلوچ آزادی پسند، سخت ٹریننگ و تیاریاں – بی ایل اے نے آپریشن ہیروف ٹو کی ویڈیو جاری کردی

108

بلوچ لبریشن آرمی کے آفیشل میڈیا چینل ہکل نے رواں سال 31 جنوری تا 6 فروری کو بی ایل اے کے بلوچستان کے چودہ اضلاع میں آپریشن ہیروف 2 کی ایک طویل ویڈیو جاری کی ہے، جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ اور بیس منٹ ہے۔

ویڈیو کے آغاز میں آپریشن ہیروف دوئم میں حصہ لینے والے فدائیں سمیت دیگر یونٹس کے خواتین اور مرد سرمچاروں کو جدید اسلحے کے ساتھ ٹریننگ اور دیگر تیاریوں میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آپریشن ہیروف کا آغاز ہوتے ہی سرمچار بلوچستان کے طول و عرض میں پھیل چکے ہیں اور شہروں سمیت شاہراہوں پر ان کا کنٹرول ہے جبکہ عوام ان کے گرد جمع ہو کر پرسکون انداز میں سرمچاروں سے گھل مل رہے ہیں۔

ویڈیو کے ایک حصے میں خواتین فدائین کو لکڑیاں جمع کرنے کے بعد سخت ٹریننگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

جدید اسلحے سے لیس بی ایل اے کے جنگجو آپریشن کی روانگی سے پہلے سخت جسمانی ٹریننگ، بلوچی رقص کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ایک فدائی خاتون ان کے ہاتھوں پر مہندی لگا رہی ہیں۔

ویڈیو میں فدائی حوا بلوچ اپنے ایک پیغام میں کہتی ہے کہ ہم بلوچ خواتین کو یہی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بلوچ بھائیوں کیساتھ جنگ کا حصہ بنیں۔ اپنے بھائیوں کے بازو بن کر اس جنگ کو بہتر انداز میں آگے بڑھائیں۔ جنگ میں شدت لاکر اپنے دشمن کو دکھائیں کہ بلوچ خواتین کمزور نہیں ہے۔

فدائی حوا کے پیغام کے بعد خواتین اور مرد سرمچار مختلف سمتوں میں جاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ ٹریننگ کا عمل بھی جاری ہے۔

ویڈیو میں بلوچستان کے ان پرامن مظاہرین کے مناظر بھی شامل ہیں جہاں پاکستانی فورسز خواتین اور بچوں پر تشدد کرتے ہیں، جبکہ پس منظر میں وائس اوور پیغام میں پاکستانی حکومت اور فوج کو مخاطب کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلوچ سرمچار بارودی مواد کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ایک آٹا پیسنے والی چکی کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیا جا رہا ہے جبکہ مواد مختلف ڈرمز میں بھرا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں پھر وہ مناظر دکھائے گئے ہیں جب 14 اضلاع میں آپریشن ہیروف شروع ہو چکا ہے۔ سرمچار شاہراہوں اور بازاروں میں آ چکے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ان کے گرد جمع ہے۔ کئی مناظر میں سرمچاروں کو گلے لگاتے اور ان کے ہاتھ چومتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کی لاشیں، جلتی ہوئی سرکاری گاڑیاں اور نذرِ آتش املاک بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

ویڈیو میں آپریشن ہیروف دوئم کے پہلے فدائی ہدایت اللہ کرد کو بارود سے بھری ایک گاڑی میں زخمی حالت میں مسکراتے ہوئے ریڈ زون کے چیک پوائنٹ سے ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں موٹر سائیکل سوار سرمچاروں کو جدید اسلحے سے لیس کوئٹہ کے سریاب روڈ، قمبرانی روڈ اور کوئٹہ کی مختلف سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی دوران بینکوں کو تباہ کرتے اور سرکاری اسلحہ ضبط کرتے ہوئے جبکہ تھانوں اور کسٹم آفس سے دھواں اٹھتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

پاکستانی فورسز کی جانب سے اڑائے گئے ڈرون اور ہیلی کاپٹر کو تباہ کیے جانے کے مناظر بھی شامل ہیں۔

ویڈیو میں سرمچاروں کو کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات پر پوزیشن سنبھالے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران تباہ شدہ سرکاری املاک سے دھواں اور آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ ایک خاتون جنگجو پوزیشن سنبھالے فائرنگ کر رہی ہے۔

سرمچاروں کا ایک گروپ کوئٹہ میں پرسکون انداز میں پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر مدد علی جتک کے ہوٹل پر چائے پیتا دکھائی دیتا ہے۔

ویڈیو میں سرمچاروں کو نوشکی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں فدائی فیضان شاہوانی اور آصفہ مینگل نے بارود سے بھری گاڑیاں آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر سے ٹکرا دیں جبکہ دیگر فدائی اور جنگجو شہر کی فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہوئے۔ نوشکی میں بی ایل اے کا کنٹرول پانچ روز تک برقرار رہا۔

نوشکی میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کی لاشیں زمین پر پڑی ہیں جبکہ سرمچار شہر میں گشت کرتے اور عوام سے خطاب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیو میں ڈپٹی کمشنر نوشکی اور ان کی اہلیہ کو مسلح افراد کی تحویل میں دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ڈپٹی کمشنر یہ بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ وہ اس وقت بلوچ لبریشن آرمی کی تحویل میں ہیں، بعد ازاں انہیں رہا کر دیا جاتا ہے۔

ایک مرکزی پل کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا جاتا ہے جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر پاکستانی فورسز اور سرمچاروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اور سرمچار لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

ریلوے اسٹیشن سرمچاروں کے کنٹرول میں ہے اور ایک ریل گاڑی سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

ویڈیو میں پھر گوادر میں آپریشن ہیروف دوئم کی کارروائیاں دکھائی گئی ہیں جہاں نو فدائی حصہ لیتے ہیں اور مختلف سمتوں سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرمچار فدائی ایک خاندان کو محفوظ طریقے سے باہر نکالتے ہیں۔

گوادر میں فائرنگ، دھماکوں اور سرکاری املاک سے اٹھتے دھویں اور آگ کے مناظر بھی شامل ہیں جبکہ ڈرون کے ذریعے کئی مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک سرمچار کو ڈرون کی تیاریوں میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔

پسنی میں فدائی ناکو فضل سمیت دیگر چھ فدائیوں کی کارروائیاں دکھائی گئی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فدائی ناکو فضل فوجی کیمپ کے مرکزی گیٹ کو تباہ کرنے کے بعد فدائی آسمہ اپنے شوہر اور دیگر ساتھی فدائیوں کے ہمراہ فوجی کیمپ میں داخل ہو کر پوزیشن سنبھالے فائرنگ کر رہی ہیں اور پرسکون انداز میں لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹس دے رہی ہیں۔

اسی دوران سرمچاروں کا ایک دستہ مکران کوسٹل ہائی وے پر ناکہ بندی کیے ہوئے ہے جہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں کھڑی ہیں جبکہ سرمچار چیکنگ کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں مستونگ اور قلات میں بھی سرمچاروں کے منظم حملے، فائرنگ، شہروں میں گشت اور عوام سے ملاقات کے مناظر شامل ہیں۔

ویڈیو میں تمپ، مند اور تربت کے نیوی کیمپ پر حملوں کے مناظر شامل ہیں جبکہ سرمچار تمپ میں بڑی تعداد میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ایف سی کا مرکزی کیمپ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

ویڈیو میں بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب بلوچ کو سرمچاروں کے ایک دستے کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے لیس دیکھا گیا