بلوچستان کے اضلاع واشک اور گوادر سے دو بلوچ نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا، جبکہ ایک لاپتہ شخص بازیاب ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 17 سالہ شہاب بلوچ ولد حاجی عطا اللہ، جو کہ میٹرک کا طالبعلم ہے، کو 13 مئی 2026 کو دوپہر تقریباً 2 بجے ضلع واشک کے علاقے ناگ میں ان کے گھر سے ایم آئی اور پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔ اہل خانہ کے مطابق فورسز نے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
دوسری جانب 18 سالہ یحییٰ بلوچ ولد امیر بخش، جو پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر ہیں، کو 11 مئی 2026 کی شب تقریباً 1:30 بجے گوادر کے علاقے جیونی پانوان، ان کے گھر سے ایم آئی اور ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
ادھر ڈاکٹر ظہیر ولد یعقوب، سکنہ ہوشاب، کیچ، جنہیں 11 مئی 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا، 12 مئی 2026 کو کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ سے بازیاب ہو گئے ہیں۔ اہل خانہ نے ان کی رہائی کی تصدیق کی۔



















































