بلوچ لبریشن آرمی نے نوشکی میں پاکستانی فوج کیساتھ جھڑپوں میں جانبحق اپنے تین ارکان کی تفصیلات جاری کردیئے۔ ہکل میڈیا پر شائع تفصیلات کے مطابق نوشکی میں تاڑیز کے مقام پر 24 اپریل 2026 کو جانبحق ارکان میں سے دو کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب اور ایک کا تعلق دالبندین سے تھا۔
تفصیلات کے مطابق اسد جمالدینی عرف بابا درویش محمد یونس جمالدینی کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب سے تھا۔ ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کرنے والے اسد جمالدینی 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوئے اور شور پارود، قلات اور نوشکی کے محاذوں پر رہیں جبکہ اس دوران انہیں گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں دی گئی۔
ان کے حوالے سے مزید لکھا گیا کہ بابا درویش کے نام سے ساتھیوں کے درمیان اپنی شناخت رکھنے والے بابا درویش صرف نام کے درویش نہیں تھے، بلکہ اپنے کردار اور عملی زندگی میں بھی درویش صفت سرمچار تھے۔ وہ ساتھی سرمچاروں کے لیے مہر و محبت کا پیکر تھے اور اپنی عملی زندگی میں سادگی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اپنے فکری ساتھیوں کے درمیان درویشی صفات کے حامل ہونے کے باوجود، جب بھی دشمن سے ان کا سامنا ہوتا یا کوئی جنگی آپریشن سرانجام دینا ہوتا، تو وہ ایک بہادر، باہمت، نڈر اور جرات مند سرمچار بن کر لڑتے اور دشمن کو دھول چٹا دیتے۔
“اسی شعوری و فکری آگاہی کے ساتھ وہ اپنی عملی زندگی کو فوجی نظم و ضبط کے تحت گزارتا تھا اور شہری علاقوں میں تنظیم کی مضبوط گرفت برقرار رکھنے کے ساتھ تنظیمی موجودگی کو منظم کرنے میں اپنے ساتھی سرمچاروں کا ایک اہم سنگت تھا۔ آپریشن ہیروف فیز دوئم میں اپنی فوجی قدمات پیش کرنے کے بعد وہ تنظیم کے زیر اثر علاقوں میں تنظیمی پوزیشن کو استحکام کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے خود کو فرنٹ لائن کے ایک سرمچار کے طور پر منوا چکا تھا۔”
مزید کہا گیا کہ تنظیم نے ان کی عملی زندگی، سوچ، دلیری اور بہادری کو دیکھتے ہوئے مختصر عرصے میں ہی انہیں گشتی کمانڈ کی ذمہ داری سونپی تھی۔ انہوں نے آخری دم تک ان ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں نبھایا۔ دشمن فوج اور ان کے کاسہ لیسوں کے ساتھ دوبدو لڑائی میں وطن کے دفاع اور بلوچ ریاست کی بحالی کے لیے انہوں نے اپنی جان نچھاور کر کے خود کو ہمیشہ کے لیے بلوچ قومی تاریخ میں امر کر دیا۔
دوسرے جانبحق سرمچار کی تفصیلات میں کہا گیا کہ شکیل الرحمان بنگلزئی عرف شیخ عطاء ولد عبدالکریم بنگلزئی کوئٹہ کے علاقے سریاب سے تعلق رکھتے تھے۔ شکیل بنگلزئی نے ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی۔ مزید کہا گیا کہ شور پارود، قلات اور نوشکی کے محاذوں پر خدمات سرانجام دینے والے شکیل الرحمان بنگلزئی جون 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بنے۔
تفصیلات میں مزید کہا گیا کہ نوشکی کے محاذ پر اپنے ساتھی سرمچاروں کے ساتھ دشمن کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہونے والے سنگت شکیل الرحمان بنگلزئی نے بلوچستان کے شورپارود، قلات اور نوشکی کے محاذوں پر تنظیم کو اپنی بہترین فوجی خدمات پیش کیں اور قومی آزادی کے دفاع، دفاعی پوزیشنوں کے استحکام اور دشمن کی یلغار کے خاتمے کے لیے ایک بہادر و نڈر سرمچار کے طور پر ساتھیوں کے درمیان یاد کیے جاتے ہیں۔
“وہ اپنے مزاج میں خاموش، مگر جسمانی و شعوری طور پر انتہائی مضبوط سرمچار تھے۔ وہ تنظیم کے فوجی ڈسپلن، پیشہ ورانہ معیار اور پیش قدمی کی پالیسی کو عملی شکل دینے والوں میں شامل ایک فعال سرمچار تھے، جو کمانڈ اینڈ چین کے پابند اور احکامات کی پاسداری کرنے والے سنگت تھے۔ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح تنظیم کی علاقائی پوزیشنز کو مضبوطی سے برقرار رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے تھے۔”
مزید کہا گیا کہ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں ان تمام تنظیمی اصولوں اور جنگی قول کی پابندی کی، جن پر وہ فکری طور پر مطمئن ہو کر میدان جنگ میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔ وہ آخری دم تک انہی اصولوں پر قائم رہے اور اپنے دیگر ساتھیوں کے لیے ایک مثال قائم کی۔
تیسرے جانبحق سرمچار کے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ شیہک عرف صدیق ولد بوہر خان محمد زئی کا تعلق دالبندین، ضلع چاغی سے تھا۔ وہ 12 جنوری 2025 کو بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوئے اور شور پارود، قلات و نوشکی کے محاذوں پر رہیں۔
تفصیلات میں کہا گیا کہ شہید سرمچار شیہک محمد زئی عمر کے لحاظ سے چھوٹا تھا، مگر فکری بالیدگی، علمی اور شعوری سطح پر وہ اس تاریخی اور حقیقی نتیجے تک پہنچ چکا تھا کہ قبضہ گیر کے خلاف مسلح مزاحمت ہی وہ بنیادی اور آخری ہتھیار ہے جو اپنے وطن کے دفاع، قومی آزادی کے تحفظ، اور ایک آزاد ریاست کی بحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی شعوری ادراک نے اسے بلوچ قومی مزاحمت کے مرکز بی ایل اے تک پہنچایا، اور وہ آخری دم تک تنظیم کے فکری، نظریاتی، اور فوجی و پیشہ ورانہ نظم و ضبط کا پابند رہا۔
“انہوں نے نہایت کم عرصے میں تنظیم کے اندر ایک قابل، بھروسہ مند، پُراعتماد، بہادر اور باہمت سرمچار کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ انہوں نے تنظیم کی جانب سے سونپی گئی ہر قسم کی ذمہ داری کو قبول کیا اور میدان عمل میں اسے بخوبی نبھایا۔ انہوں نے حالیہ عرصے میں شورپارود اور نوشکی کے مقامات پر تنظیم کے اہم آپریشنوں اور پیش قدمیوں میں دیگر سرمچار ساتھیوں کے ساتھ بھرپور عملی جنگی کردار ادا کیا اور تنظیمی پالیسیوں کو عملی شکل دینے میں اپنی انفرادی ذمہ داریاں پوری کیں۔”
مزید کہا گیا کہ شہیک نے اپنی خدمات وطن کے لیے پیش کر کے قوم کے نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام چھوڑا کہ آج انہیں اپنی قومی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس کرنا چاہیے اور بلوچ ریاست کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ایک ریاست کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
ترجمان جیئند بلوچ نے بیان میں کہا کہ نوشکی کے محاذ پر قابض فوج سے مردانہ وار لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے بی ایل اے کے نڈر سرمچاروں، اسد جمالدینی عرف بابا درویش، شکیل الرحمان عرف شیخ عطاء اور شیہک مینگل عرف صدیق کو ان کی بے مثال قربانی اور بہادری پر سرخ سلام پیش کیا جاتا ہے۔ ان شہدا نے اپنے لہو سے مزاحمت کی جو شمع روشن کی ہے، وہ تحریکِ آزادی کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ بلوچ قوم کی بقا اور حاکمیت کی یہ جنگ اپنے شہدا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے غاصب کے مکمل انخلاء تک جاری رہے گی۔



















































