وقتی انقلابیوں کی بےنقاب حقیقت ۔ سفرخان بلوچ (آسگال) 

1

وقتی انقلابیوں کی بے نقاب حقیقت

تحریر: سفرخان بلوچ (آسگال) 

دی بلوچستان پوسٹ

یہ تحریر اُن لوگوں کے کردار پر ایک بے لاگ نگاہ ہے جو ایک ہی زندگی میں دو متضاد سچائیاں ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک طرف ان کی زبان پر اصول، مزاحمت، قربانی اور وفاداری کے بلند دعوے ہوتے ہیں، اور دوسری طرف ان کا عملی رویہ انہی اصولوں کی نفی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو حالات کے مطابق اپنی سمت، اپنی شناخت اور اپنے بیانیے کو اس طرح تبدیل کرتے ہیں جیسے سچ کوئی مستقل حقیقت نہ ہو بلکہ ضرورت کے مطابق بدل جانے والا لباس ہو۔ یہ لوگ جذباتی فضا میں خود کو تحریکوں کا ستون اور قوم کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جلسوں، نعروں اور گفتگو میں ان کا لہجہ ایسا ہوتا ہے جیسے تاریخ کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ہو۔ مگر جب حقیقت کی زمین سخت ہو جاتی ہے، جب وقت قربانی، استقامت اور ثابت قدمی کا امتحان لیتا ہے، تو یہی دعوے رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ خوف، مفاد اور ذاتی تحفظ کی جبلت ان کے تمام بلند دعووں کو ایک لمحے میں بے وزن کر دیتی ہے۔

ان کا اصل مسئلہ اختلافِ رائے نہیں بلکہ کردار کا عدم تسلسل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچ کو موقع کے مطابق استعمال کرتے ہیں، اصول کو فائدے کے تابع رکھتے ہیں اور وفاداری کو حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے سب سے اہم چیز نظریہ نہیں بلکہ وہ ماحول ہوتا ہے جس میں ان کی اپنی سلامتی برقرار رہ سکے۔ اسی لیے یہ کبھی انقلابی نظر آتے ہیں اور کبھی خاموش تماشائی، کبھی دعوے دار اور کبھی انکار کرنے والے۔ ایسے لوگ دراصل کسی تحریک کے ساتھی نہیں بلکہ اس کے جسم میں چھپے ہوئے وہ کمزور ریشے ہوتے ہیں جو دباؤ بڑھتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ لوگ ابتدا میں اس طرح چلتے ہیں جیسے مزاحمت انہی کے کندھوں پر کھڑی ہو۔ ان کی گفتگو میں آگ ہوتی ہے، چہروں پر مصنوعی سنجیدگی، اور الفاظ میں ایسا غرور جیسے چی گویرا نے ان سے انقلاب سیکھا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ان کی وابستگی نظریے سے نہیں بلکہ ماحول سے ہوتی ہے۔ جب ماحول انقلابی ہو تو یہ انقلابی بن جاتے ہیں، جب خوف غالب آئے تو یہی لوگ سب سے پہلے راستہ بدل لیتے ہیں۔ ان کے اصول موسموں کی طرح بدلتے ہیں، ان کی وفاداریاں حالات کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں، اور ان کا ضمیر اتنا کمزور ہوتا ہے کہ ایک فون کال، ایک دھمکی یا ایک وقتی خوف ان کے سارے دعوؤں کو زمین بوس کر دیتا ہے۔

انسانی تاریخ میں منافقت ہمیشہ کھلی دشمنی سے زیادہ خطرناک رہی ہے۔ دشمن سامنے سے وار کرتا ہے، مگر دو رخا انسان صفوں کے اندر رہ کر زہر گھولتا ہے۔ قرآن نے بھی منافق کو کافر سے زیادہ خطرناک قرار دیا کیونکہ وہ اعتماد کے لباس میں دھوکہ چھپائے ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہر تحریک میں سب سے پہلے نعرے لگاتے ہیں اور سب سے پہلے بھاگتے بھی یہی ہیں۔ جب حالات آسان ہوں تو یہ تصاویر بنواتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں، خود کو مزاحمت کا چہرہ ظاہر کرتے ہیں، مگر جب قربانی کا وقت آتا ہے تو یہ اپنی جان، نوکری، خاندان یا آرام کا بہانہ بنا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور پھر انہی لوگوں کے خلاف زبان استعمال کرتے ہیں جو واقعی قربانی دے رہے ہوتے ہیں۔اصل المیہ صرف ان کا پیچھے ہٹنا نہیں بلکہ اس کے بعد بھی خود کو حق پر سمجھنا ہے۔ یہ لوگ اپنی بزدلی کو دانشمندی، اپنے خوف کو حقیقت پسندی، اور اپنی غداری کو مصلحت کا نام دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تاریخ انہیں بھی انہی صفوں میں کھڑا کرے جہاں خون دینے والے، جیلیں کاٹنے والے اور لاپتہ ہونے والے لوگ کھڑے ہیں۔ مگر تاریخ اتنی اندھی نہیں ہوتی۔ تاریخ چہروں سے زیادہ کردار کو پہچانتی ہے۔ وہ جانتی ہے کون خوف کے باوجود کھڑا رہا اور کون خوف کے سامنے جھک گیا۔

فلسفی دوستوئیفسکی نے کہا تھا کہ “انسان ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ اپنے تضاد کا بھی۔” یہی تضاد ان لوگوں کے اندر زندہ رہتا ہے۔ یہ بیک وقت خود کو انقلابی بھی سمجھتے ہیں اور محفوظ بھی رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ مزاحمت کا نام بھی چاہتے ہیں مگر مزاحمت کی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے۔ حالانکہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بغیر قربانی کے کسی کو عزت ملی ہو۔ جو لوگ ہر خطرے سے بچتے ہوئے بھی خود کو جدوجہد کا حصہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل خود کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ ہر تحریک میں کچھ لوگ خون دیتے ہیں اور کچھ لوگ صرف تقریریں۔ کچھ لوگ زندگیاں قربان کرتے ہیں اور کچھ لوگ صرف موقع دیکھ کر نعرے بدل لیتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے بعد تاریخ صرف اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے نظریے کی قیمت ادا کی ہو۔ باقی لوگ وقتی شور تو پیدا کر لیتے ہیں، مگر آخرکار خاموشی کے اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں۔ انسان کی پوری زندگی، قوموں کی تاریخ، تہذیبوں کا عروج و زوال، انقلابات کی لہریں، اور مزاحمت کی داستانیں اسی باریک دھاگے پر قائم ہوتی ہیں۔ یہ دھاگہ کبھی اتنا مضبوط محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی قوت پر غرور ہونے لگتا ہے، اور کبھی اتنا نازک ہو جاتا ہے کہ ایک لمحے کی لغزش پوری زندگی کے فلسفے کو بدل دیتی ہے۔

تاریخ کسی فرد کو صرف اس کے ہزاروں اعمال کی بنیاد پر نہیں پرکھتی بلکہ بعض اوقات ایک لمحہ، ایک فیصلہ، ایک قربانی یا ایک غداری پوری شخصیت کا تعین کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ اپنی زندگی کے بے شمار گناہوں کے باوجود ایک عظیم عمل کی وجہ سے ہیرو بن جاتے ہیں، جبکہ کئی لوگ ساری عمر قربانیاں دینے کے باوجود ایک غلط قدم کے بعد ہمیشہ کے لیے شرمندگی کی علامت بن جاتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں ابلیس (شیطان) کی مثال اس حقیقت کی سب سے بڑی علامت ہے۔ وہ ہزاروں سال عبادت کرتا رہا، مگر ایک لمحے کے غرور نے اسے ہمیشہ کے لیے ملعون بنا دیا۔

آج بلوچ قوم بھی اسی دھارے پر کھڑی ہے۔ ایک ایسی تاریخ لکھی جا رہی ہے جو صرف قلم سے نہیں بلکہ خون، قربانی، اور مزاحمت سے لکھی جا رہی ہے۔ اس تاریخ کے کردار وہ نوجوان ہیں جو اپنی جوانی، خواب، آرام، خاندان، تعلیم، روزگار اور زندگی تک قربان کر رہے ہیں۔ مگر ہر تحریک کی طرح اس تحریک میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو قربانی کے سفر میں شامل ہونے کا ڈرامہ تو کرتے ہیں، مگر جیسے ہی آزمائش، خوف، دباؤ یا ذاتی نقصان کا وقت آتا ہے، وہ سب سے پہلے اپنا چہرہ بدل لیتے ہیں۔ یہ لوگ نظریے کے نہیں بلکہ ماحول کے وفادار ہوتے ہیں۔ جب مزاحمت مقبول لگتی ہے تو یہ انقلابی بن جاتے ہیں، اور جب جبر بڑھتا ہے تو یہی لوگ سب سے پہلے اپنی زبان، لباس، مؤقف اور وفاداریاں تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی اصل نفسیات بے نقاب ہوتی ہے۔ کارل یونگ نے کہا تھا کہ ہر انسان کے اندر ایک “سایہ” موجود ہوتا ہے۔ یہ سایہ اس کے خوف، لالچ، کمزوری اور مفاد کا مجموعہ ہے۔

جب حالات آسان ہوں تو انسان خود کو بہادر سمجھتا ہے، مگر جب خوف اس کے سامنے کھڑا ہو جائے تو اس کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انقلاب کے آغاز میں بہت سے لوگ انقلابی نظر آتے ہیں، لیکن جبر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی آوازیں خاموش ہوتی جاتی ہیں۔ بلوچ تاریخ میں بھی یہ منظر بار بار دہرایا گیا ہے۔ جب مزاحمت کمزور تھی، لوگ سرمچار ہونے کا دیکھاو کرتے تھے، بڑے بال، بڑے شلوار، بلوچی چاوٹ اور بلند دعوے ان کی پہچان تھے۔ مگر جب ریاستی جبر میں اضافہ ہوا، جبری گمشدگیاں معمول بن گئیں، مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر آنے لگیں، گھروں پر چھاپے پڑنے لگے، تب بہت سے چہرے غائب ہو گئے۔ ان کے بال چھوٹے ہو گئے، لباس بدل گئے، اور وہ اس طرح خاموش ہوئے کہ گویا کبھی اس سفر کا حصہ تھے ہی نہیں۔

یہ انسانی نفسیات کا وہ پہلو ہے جسے ماہرین “سیلف پریزرویشن انسٹنکٹ” کہتے ہیں، یعنی اپنی بقا کی جبلت۔ انسان اکثر اپنے نظریات سے زیادہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن تاریخ میں عظیم وہی لوگ بنتے ہیں جو اپنی بقا سے زیادہ اپنے نظریے کو اہمیت دیتے ہیں۔ سقراط نے زہر کا پیالہ پی لیا مگر اپنے فلسفے سے انکار نہ کیا۔ بھگت سنگھ نے پھانسی سے پہلے معافی مانگنے کے بجائے ہنستے ہوئے موت کو گلے لگایا۔

تاریخ ایک بے رحم قاضی ہے۔ وہ انسانوں کو ان کی نیتوں سے نہیں بلکہ ان کے کردار سے یاد رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی ساری زندگی نیکی کرتے رہتے ہیں، مگر ایک غلط فیصلہ انہیں تاریخ کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ دوسری جانب کئی لوگ گناہوں اور کمزوریوں سے بھرپور زندگی گزارتے ہیں، مگر ایک عظیم قربانی انہیں امر بنا دیتی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب انسانی نفسیات اور اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہے۔ جرمن فلسفی ہیگل کے مطابق تاریخ دراصل “خیالات کی جنگ” ہے۔ قومیں صرف زمین یا طاقت کے لیے نہیں لڑتیں بلکہ اپنے تصورِ حق کے لیے لڑتی ہیں۔ جو فرد اس تصورِ حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، تاریخ اسے یاد رکھتی ہے، اور جو اس کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، تاریخ اسے مسترد کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے ستائیس سال جیل میں گزار دیے، مگر اپنے نظریے سے پیچھے نہ ہٹے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دنیا بھر میں آزادی اور استقامت کی علامت بن گئے۔ دوسری جانب ایسے لوگ بھی تھے جو وقتی مفاد کے لیے ظالم نظام کے ساتھ کھڑے ہوئے، مگر آج ان کا نام بھی کوئی یاد نہیں کرتا۔

بلوچ تحریک بھی اسی تاریخی اصول کے تابع ہے۔ یہاں بھی  کچھ لوگ قربانی کے راستے پر ہیں اور کچھ لوگ خوف، مفاد یا مصلحت کے تحت راستہ بدل لیتے ہیں۔ مگر سوال یہ نہیں کہ کون وقتی طور پر محفوظ رہتا ہے، سوال یہ ہے کہ تاریخ کس کو یاد رکھتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مشکل وقت میں سچ کا ساتھ دیا۔ آسان وقت میں وفاداری کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ اصل وفاداری وہ ہے جو جبر، خوف، تنہائی اور نقصان کے باوجود قائم رہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیات میں “مومنٹ آف ٹروتھ” کا تصور موجود ہے، یعنی ایسا لمحہ جب انسان کا اصل کردار سامنے آتا ہے۔

ماہرِ نفسیات وکٹر فرینکل، جو نازی کیمپوں سے زندہ بچ کر نکلے تھے، اپنی کتاب “مینز سرچ فار میننگ” میں لکھتے ہیں کہ انسان ہر چیز کھو سکتا ہے مگر اپنے رویے کے انتخاب کی آزادی نہیں کھوتا۔ یعنی انسان کو قید کیا جا سکتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، مگر اگر اس کے اندر مقصد زندہ ہو تو وہ ٹوٹتا نہیں۔

بلوچ نوجوانوں کی مزاحمت بھی اسی مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔ جب ایک نوجوان اپنے خاندان، تعلیم، مستقبل اور آرام کو چھوڑ کر قومی جدوجہد کا حصہ بنتا ہے تو وہ صرف سیاسی فیصلہ نہیں کرتا بلکہ نفسیاتی طور پر اپنی ذات کو ایک بڑے مقصد کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باوجود ذہنی طور پر مضبوط رہتے ہیں۔ کچھ لوگ وقتی جذبات میں مزاحمت کا حصہ بنتے ہیں، لیکن جب خوف سامنے آتا ہے تو ان کی نفسیاتی ساخت ٹوٹنے لگتی ہے۔ وہ اپنے فیصلے پر پچھتانے لگتے ہیں، اپنے عمل کو جواز دینے لگتے ہیں، اور آخرکار راستہ بدل لیتے ہیں۔ یہ صرف انسانی کمزوری نہیں بلکہ بعض اوقات کھلی موقع پرستی اور کردار کی پستی ہوتی ہے۔ سب سے بڑی ڈھٹائی یہ ہے کہ راستہ بدلنے کے بعد بھی کچھ لوگ خود کو انہی صفوں میں شمار کروانا چاہتے ہیں جہاں قربانی دینے والے لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خوف کے سامنے جھکنے والا اور خوف کے باوجود ڈٹ جانے والا برابر سمجھے گئے ہوں۔ جو شخص آزمائش کے وقت پیچھے ہٹ جائے، وہ اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتا جو آگ میں چلتے رہے۔ فرائڈ کے مطابق انسان اکثر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے بہانے تراشتا ہے۔ وہ اپنے خوف کو “حقیقت پسندی” کا نام دیتا ہے، اپنی کمزوری کو “مصلحت” کہتا ہے، اور اپنے انحراف کو “دانشمندی” بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کچھ لوگ مزاحمت سے الگ ہوتے ہیں تو وہ اپنے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے لمبی دلیلیں دیتے ہیں۔ کبھی وہ خاندان کا حوالہ دیتے ہیں، کبھی والدین کا، کبھی خوف کا، کبھی جان کے خطرے کا۔ حالانکہ سوال یہ نہیں کہ خوف موجود ہے یا نہیں۔ خوف تو ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون خوف کے باوجود اپنے راستے پر قائم رہتا ہے۔ بہادری کا مطلب خوف کا نہ ہونا نہیں بلکہ خوف کے باوجود سچ کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔

ہر تحریک کے آغاز میں بہت سے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ خلوص سے شامل ہوتے ہیں، کچھ جذبات سے، کچھ شہرت کے لیے، کچھ وقتی مقبولیت کے لیے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ اصل اور نقل الگ ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مستقل مزاجی ہر جدوجہد کی سب سے بڑی شرط ہوتی ہے۔ قرآن میں بھی استقامت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ انسان کا اصل امتحان آغاز میں نہیں بلکہ تسلسل میں ہوتا ہے۔ بلوچ تحریک کے ابتدائی دنوں میں بہت سے لوگ خود کو سرمچار ظاہر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لباس، انداز، نعرے، گفتگو سب کچھ انقلابی لگتا تھا۔ مگر جب جبر بڑھا، گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا، جبری گمشدگیاں عام ہوئیں، مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں، تب بہت سے لوگ خاموش ہو گئے۔ یہ منظر صرف بلوچ تاریخ تک محدود نہیں۔ دنیا کی ہر تحریک میں ایسا ہوا ہے۔  نفسیات میں اسے “سروائیول شفٹ” کہا جاتا ہے۔ یعنی جب خطرہ بڑھتا ہے تو انسان کا ذہن نظریے سے زیادہ بقا کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ مگر تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اس مرحلے پر بھی ثابت قدم رہتے ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہر شخص قربانی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ نہیں۔ ہر انسان کی نفسیاتی برداشت مختلف ہوتی ہے۔ کچھ لوگ جبر کے سامنے ٹوٹ جاتے ہیں، کچھ خاموش ہو جاتے ہیں، اور کچھ مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تحریک میں تعداد کم مگر کردار بڑے ہوتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاست نے شدت اختیار کی تو بہت سے لوگ مائیک پر آ گئے۔ تقریریں ہونے لگیں، انقلابی الفاظ استعمال ہونے لگے، ایسے لگتا تھا جیسے چی گویرا، بھگت سنگھ اور فرانز فینن ان کے شاگرد ہوں۔ مگر وقت نے یہاں بھی حقیقت واضح کر دی۔ جب دباؤ بڑھا، جب کالیں آئیں، جب خوف نے دروازہ کھٹکھٹایا، تب کئی لوگ پریس کانفرنسوں کی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ یہ انسانی تاریخ کا پرانا المیہ ہے کہ بعض لوگوں کی زبان ہمیشہ ان کے کردار سے بڑی ہوتی ہے۔ وہ ایسی تقریریں کرتے ہیں جنہیں ان کی روح، حوصلہ اور کردار برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کی انقلابی گفتگو صرف مائیک تک محدود ہوتی ہے، کیونکہ حقیقت میں ان کے اندر قربانی اٹھانے کی سکت ہی موجود نہیں ہوتی۔ فلسفی کیرکیگارڈ نے کہا تھا کہ “سب سے خطرناک دھوکہ وہ ہے جو انسان خود کو دیتا ہے۔” بہت سے لوگ خود کو انقلابی سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ صرف انقلابی زبان استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اصل انقلاب تقریر میں نہیں بلکہ عمل میں ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہر حالت میں اپنا فائدہ محفوظ رکھ سکیں۔ وہ نہ مکمل مزاحمت کرتے ہیں اور نہ کھل کر مخالفت، بلکہ ایک ایسا منافقانہ درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں جہاں ہر بدلتے حالات کے ساتھ اپنی وفاداری بھی بدل سکیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر تحریک کامیاب ہو تو انہیں بھی انقلابی سمجھا جائے، اور اگر جبر غالب رہے تو وہ اقتدار کے سامنے بھی محفوظ رہیں۔ مگر تاریخ میں ایسے لوگ ہمیشہ ناکام رہے ہیں۔ کیونکہ جدوجہد کے نازک لمحات میں غیرجانبداری بھی ایک موقف بن جاتی ہے۔

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے نائن الیون کے بعد کہا تھا “یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔” اگرچہ اس جملے کا سیاسی استعمال متنازع تھا، مگر نفسیاتی طور پر یہ بات ہر جنگ پر لاگو ہوتی ہے۔ جب قومیں اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہوں تو غیر واضح موقف بھی شک پیدا کرتا ہے۔ بلوچ تحریک کے تناظر میں بھی یہی صورتحال ہے۔ اگر کوئی شخص کل مزاحمت کے حق میں تھا، قربانیوں کی تعریف کرتا تھا، اور آج انہی قربانی دینے والوں کے خلاف کھڑا ہے، تو وہ خود کو غیرجانبدار نہیں کہہ سکتا۔ یہاں مسئلہ اختلافِ رائے کا نہیں بلکہ کردار کا ہے۔ اختلاف ہر تحریک میں ہوتا ہے، مگر جب کوئی شخص خوف، مفاد یا دباؤ کے تحت اپنی لائن بدلتا ہے تو وہ صرف نظریہ نہیں بدلتا بلکہ تاریخ میں اپنا مقام بھی بدل دیتا ہے۔ نفسیات میں اسے “کگنیٹو ڈس اونینس” کہتے ہیں، یعنی انسان اپنے گرے ہوئے عمل اور اندرونی ضمیر کے تضاد کو چھپانے کے لیے مسلسل اپنے آپ کو جھوٹے جواز دیتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوف کے سامنے جھکنے والے لوگ بعد میں سب سے زیادہ تقریریں کرتے ہیں تاکہ اپنی بزدلی کو نظریہ ثابت کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے مسلسل وضاحتیں دیتے رہتے ہیں۔

قربانی صرف جان دینے کا نام نہیں۔ قربانی اپنے آرام، خوف، خواہش، مفاد اور انا کو چھوڑنے کا نام ہے۔ قربانی ہمیشہ رومانوی نہیں ہوتی۔ اکثر قربانی خاموش، تکلیف دہ اور تنہا ہوتی ہے۔ فلسفی البرٹ کامیو نے کہا تھا کہ “حقیقی بغاوت وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے رکھے۔” یعنی مزاحمت صرف غصے کا نام نہیں بلکہ وقار کے ساتھ جینے کی خواہش ہے۔ بلوچ قوم کی جدوجہد بھی اسی وقار کی جنگ ہے۔ یہ جنگ صرف سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی اور تہذیبی جنگ بھی ہے۔ خوف انسان کی فطری کیفیت ہے، مگر جب خوف ضمیر، وفاداری اور کردار پر غالب آ جائے تو انسان صرف کمزور نہیں رہتا بلکہ آہستہ آہستہ اپنی اصل شناخت کھو دیتا ہے۔ پھر وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہر سچ، ہر رفاقت اور ہر نظریے سے انکار کرنے لگتا ہے۔ غداری ہمیشہ پیسے یا طاقت کے لیے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان صرف خوف کی وجہ سے اپنے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب وہ اپنے اس عمل کو درست ثابت کرنے لگے۔ دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی کے بہت سے افسران نے بعد میں کہا کہ وہ صرف “احکامات پر عمل” کر رہے تھے۔ مگر تاریخ نے ان کا عذر قبول نہیں کیا۔ کیونکہ انسان صرف حکم ماننے والی مشین نہیں، اس کے پاس ضمیر بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر تحریک میں کچھ لوگ خوف کے تحت خاموش ہو جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ خوف کے باوجود سچ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ یہی لوگ تاریخ کا حصہ بنتے ہیں۔

آج بلوچ قوم ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ یہ صرف سیاسی تحریک نہیں بلکہ ایک تاریخی مرحلہ ہے۔ آنے والی نسلیں اس دور کو پڑھیں گی، اس کے کرداروں کا تجزیہ کریں گی، قربانی دینے والوں کو یاد رکھیں گی اور راستہ بدلنے والوں کو بھی پہچانیں گی۔ تاریخ کبھی مکمل خاموش نہیں رہتی۔ وہ وقت کے ساتھ اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ ممکن ہے آج کچھ لوگ وقتی طور پر محفوظ ہوں، کچھ لوگ پریس کانفرنسوں، خاموشیوں یا بدلتے بیانیوں کے پیچھے خود کو بچا رہے ہوں، مگر تاریخ کا سوال ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔ مشکل وقت میں کون کھڑا رہا اور کون بک گیا، جھک گیا یا بھاگ گیا۔ تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو عزت دیتی ہے جنہوں نے اپنے نظریے کے لیے قیمت ادا کی۔

انسانی زندگی ایک دھاگے پر کھڑی ہے۔ کامیابی اور ناکامی، بہادری اور بزدلی، وفاداری اور بے وفائی، عزت اور ذلت سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر درمیان کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو دونوں بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح تاریخ بھی ایک دھاگہ ہے۔ اس دھاگے کے ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو قربانی دیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ جو خوف، مفاد یا کمزوری کے تحت راستہ بدل لیتے ہیں۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ وہ قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔ جو لوگ اپنی قوم، اپنی شناخت، اپنی زبان، اپنے وقار اور اپنے مستقبل کے لیے کھڑے رہتے ہیں، وہ وقت گزرنے کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔ ان کے جسم شاید مٹی میں چلے جائیں، مگر ان کی مزاحمت آنے والی نسلوں کی روح بن جاتی ہے۔ جبکہ وہ لوگ جو وقتی مفاد، خوف، دباؤ یا ذاتی آرام کے لیے اپنی لائن بدل لیتے ہیں، وہ شاید چند دن سکون خرید لیں، مگر تاریخ کی عدالت میں ہمیشہ بزدلی، موقع پرستی اور بے وفائی کی علامت بن کر رہ جاتے ہیں۔

ہر انسان کو یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے کہ وہ تاریخ کے کس طرف کھڑا ہے۔ کیونکہ آخرکار انسان اپنی تقریروں، دعوؤں یا وضاحتوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔ اور کردار وہی ہوتا ہے جو خوف کے اندھیرے میں بھی اپنے ضمیر کی روشنی کو زندہ رکھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔