گوادر کے ساحل پر چار سمندری کچھوؤں کی ہلاکت، ماہرین نے تشویش کا اظہار کر دیا

87

گوادر کے ساحلی علاقے میں دو کلومیٹر کے دائرے کے اندر چار سمندری کچھوے مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال ان کی موت کی وجوہات معلوم نہیں کی جا سکیں۔

ماہر آبی حیات ظریف بلوچ نے نایاب نسل کے کچھوؤں کی اس طرح بڑی تعداد میں ہلاکت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔

اس سے قبل بھی گوادر کے ساحلی علاقوں میں متعدد سمندری کچھوے مردہ حالت میں مل چکے ہیں، تاہم ان واقعات کی وجوہات جاننے کے لیے اب تک کسی ادارے کی جانب سے کوئی جامع تحقیق نہیں کی گئی۔

انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری کچھوؤں کے تحفظ اور بقا کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

ظریف بلوچ کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے ماضی میں سمندری کچھوؤں کی افزائشِ نسل کے اہم مراکز سمجھے جاتے تھے، تاہم حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں مردہ کچھوؤں کی موجودگی ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

انہوں نے مقامی ماہی گیروں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کچھوے مچھلی کے جالوں میں پھنس جائیں تو انہیں محفوظ طریقے سے آزاد کیا جائے تاکہ اس نایاب نسل کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔