غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو تقریباً گیارہ ماہ گزرنے کے باوجود انکا منظر عام پر نہ آنا اور ریاستی اداروں کی خاموشی قابلِ تشویش ہے۔این‌ ڈی پی

29

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے مرکزی رہنما غنی بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہےکہ ان کی جبری گمشدگی کو آج تقریباً گیارہ ماہ کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر تاحال نہ ان کے اہل خانہ اور نہ ہی پارٹی کو ان کی موجودہ حالت، صحت اور مقام کے حوالے سے کسی قسم کی آگاہی فراہم کی گئی ہے، جس کے باعث تمام متعلقہ افراد شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔

ترجمان نے کہاکہ پارٹی اور اہل خانہ نے مکمل طور پر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ہر ممکن اقدام اٹھایا ہے۔ ان اقدامات میں ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست، ایف آئی آر درج نہ ہونے پر عدالت سے رجوع، بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرنا، جبری گمشدگیوں کے کمیشن میں کیس جمع کروانا اور وہاں پیشیاں دینا، اس کے علاوہ پریس ریلیز، پریس کانفرنسز اور پرامن احتجاج شامل ہیں۔ ان تمام آئینی و قانونی ذرائع کے باوجود تاحال سرکاری سطح پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، سوائے اس کے کہ کافی عرصے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ غنی بلوچ ایک پُرامن سیاسی کارکن ہیں جن کا پیشہ کتب فروشی تھا اور وہ اسی کے ذریعے اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ وہ جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے شخص تھے اور ہمیشہ سیاسی اور آئینی جدوجہد کو ترجیح دیتے رہے۔ تاہم، آج انہیں غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر انسانی طریقے سے حبسِ بے جا میں رکھ کر نہ صرف ان کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں بلکہ ان سے وابستہ تمام افراد کو اجتماعی ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ غنی بلوچ کو فوری طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، ان کی خیریت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے اور آئین و قانون کے مطابق ان کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔