گوادر میں ماہی گیروں پر رات کے شکار پر پابندی

41

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر مقامی ماہی گیروں کے لیے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کے تحت رات کے اوقات میں مخصوص علاقوں میں مچھلی کے شکار پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔

محکمہ ماہی گیری کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق گوادر ریڈ زون، پورٹ ایریا، پاکستان کوسٹ گارڈ کیمپ اور ساحل سے متصل ایک ناٹیکل میل کے حدود میں رات کے وقت کسی بھی قسم کی ماہی گیری کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بھی ماہی گیر کو ان حدود میں رات کے دوران شکار کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ماہی گیروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دورانِ شکار اپنے ہمراہ تجدید شدہ ماہی گیری لائسنس، قومی شناختی کارڈ، ماہی گیری کارڈ اور دیگر ضروری دستاویزات لازمی رکھیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے دیے گئے کسی بھی اشارے یا انتباہ پر فوری عمل کرنا لازم ہوگا۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس کی مکمل ذمہ داری خلاف ورزی کرنے والے پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب مقامی ماہی گیروں نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی سخت سیکیورٹی اقدامات اور غیر ضروری پابندیوں سے متاثر ہیں، اور اب رات کے شکار پر پابندی ان کے روزگار کو مزید نقصان پہنچائے گی۔

ماہی گیروں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف کارروائی کریں جو ان کے مطابق مقامی روزگار کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مقامی ماہی گیر سیکیورٹی اداروں کے رویے کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوسٹ گارڈ اور دیگر اداروں کی بھتہ خوری اور بار بار کی پابندیوں نے ان کے معاشی حالات کو متاثر کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے بحری ونگ “حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس (HMDF)” کے قیام کا اعلان کیا تھا اور گوادر کے ساحل کے قریب کوسٹ گارڈ پر حملے میں تین اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔