آبنائے ہرمز کشیدگی کا اثر بلوچستان تک پھیل گیا۔ سمندری حیات اور ماہی گیری متاثر ہونے کا خدشہ

22

ایران۔امریکہ کشیدگی کے اثرات: گوادر سمیت مکران کے ساحل پر خام تیل پھیلنے سے سمندری حیات اور ماہی گیری کو خطرات کا سامنا ہے۔

بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں گوادر کے مغربی ساحل پر تقریباً 20 کلو میٹر تک خام تیل پھیلنے سے ماحولیاتی آلودگی اور سمندری حیات کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

محکمہ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکر کے مطابق ابتدائی اندازوں کے تحت آلودگی کا یہ واقعہ ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی بحری جہازوں پر حملے اور سمندری سرگرمیوں سے منسلک ہوسکتا ہے۔

محکمہ ماحولیات کے مطابق مغربی سمت سے چلنے والی تیز ہوائیں خام تیل کو مکران کے ساحلی علاقوں تک لے آئی ہوں گی۔

خام تیل کے ساحل پر جمع ہونے سے سمندری حیات، آبی پرندوں اور ماہی گیری کے شعبے کو شدید خطرات درپیش ہیں، ماہرین اس سے قبل بھی خبردار کرتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں جاری جنگی صورتحال اور تیل بردار جہازوں کو لاحق خطرات کسی بڑے ماحولیاتی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر، پسنی اور جیونی سمیت مکران کے ساحلی علاقوں کے ہزاروں مکین روزگار کے لیے ماہی گیری اور سمندری وسائل پر انحصار کرتے ہیں، تاہم تیل کے اخراج اور ساحلی آلودگی کے باعث نہ صرف سمندری حیات بلکہ مقامی ماہی گیروں اور ان سے وابستہ کاروبار کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں تجارتی اور بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، بین الاقوامی سطح پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے سبب اقتصادی اور تجارتی خدشات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ ایران امریکہ گشیدگی کے دوران گوادر کے قریب دو بلوچ ماہی گیر بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران نشانہ بننے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ ایران سے منسلک سرحدی تجارت اور آمد و رفت بھی کشیدگی کے باعث متاثر ہورہی ہے۔

ایسے حالات میں ساحلی آبادیوں کے لیے معاشی اور ماحولیاتی خطرات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔