تربت کے علاقے بگ زامران بازار سے تعلق رکھنے والی ایک سالہ بچی انعم بنت حاکم علی خسرہ کے باعث دورانِ علاج انتقال کرگئی۔
اطلاعات کے مطابق بچی کو گزشتہ روز خسرہ کے باعث علاج کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
متوفیہ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ہسپتال میں بچی کی مناسب نگہداشت اور علاج نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) منتقل کیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں بچی کو بہتر علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا، تاہم مالی مشکلات کے باعث وہ ایسا نہ کر سکے، جس کے بعد بچی ٹیچنگ ہسپتال تربت میں ہی انتقال کرگئی۔
دوسری جانب علاقائی ذرائع کے مطابق زامران بازار بگ میں خسرہ کے متعدد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بگ بازار کے رہائشی محمد امین کے تین بچے عمر جان، محمد عثمان اور ریحانہ بھی خسرہ سے متاثر ہیں۔
علاقائی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہوشاپ اور ڈنڈار کے علاقوں میں بھی خسرہ کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ نو سال کی عمر کے دو بچوں کی اموات کی اطلاعات ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف رند اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی سے مطالبہ کیا ہے کہ خسرہ کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں روانہ کی جائیں اور بچوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
شہریوں نے ٹیچنگ ہسپتال تربت میں خسرہ کے مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات کرنے اور انعم بنت حاکم علی کے انتقال کے واقعے کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔


















































