نوشکی میں دو ماہ سے کرفیو: تعلیم و روزگار متاثر، شہریوں پر پابندیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ

1

نوشکی شہر گزشتہ دو ماہ سے سخت لاک ڈاؤن اور کرفیو کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث شہری شدید مشکلات اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق شہریوں کو شام 6 بجے کے بعد شہر سے نکلنے اور صبح 9 بجے سے پہلے شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔

دیہی علاقوں اور کلیوں سے آنے والے طلبہ و طالبات کو صبح 9 بجے کے بعد شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے، جس کے باعث وہ اپنی کلاسز سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال تعلیمی نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

مزید برآں شہر سے متصل کلی غریب آباد میں مرکزی شاہراہ پر واقع ایک مڈل اسکول کو پاکستانی فوج نے کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں بچے اور بچیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہو گئے ہیں۔

علاقے میں شہری آزادیوں کی خلاف ورزی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں موٹر سائیکل سواروں کو روک کر ان کی چادریں اتاری جاتی ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حال ہی میں نوشکی کے نواحی علاقے ڈاک میں پکنک منانے جانے والے دو موٹر سائیکل سواروں پر فورسز کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کلی مینگل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا ٹانگ ضائع ہوگیا، زخمی کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس لاک ڈاؤن کے خلاف جماعت اسلامی نوشکی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے کل بروز اتوار مرکزی جامع مسجد میں ایک مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ یہ کرفیو ایک ایسے وقت میں نافذ کیا گیا تھا جب بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی نے رواں سال 31 جنوری کو “آپریشن ہیروف فیز ٹو” کے نام سے کارروائیوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھی ۔

مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کرفیو میں نرمی کی جائے، تعلیمی اداروں کو بحال کیا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔